Pages

Wednesday, November 20, 2013

حقیقت و مجاز کی تقسیم.لابدّی ہے

 



نفسِ اِستغاثہ کا اِنکار کرنے والے ایک طبقے کا مؤقف یہ ہے کہ ماتحت الاسباب اُمور میں اِستغاثہ جائز ہے، جبکہ اِس سلسلے میں حقیقت ومجاز کی کوئی حیثیت نہیں۔۔۔۔ اب اس مؤقف کے قائل لوگوں سے سوال یہ ہے کہ اگر ماتحت الاسباب میں اِستغاثہ کو جائز اور درست مانا جائے اور اِستغاثہ حقیقی و مجازی کو تسلیم نہ کیا جائے تو پھر ماتحت الاسباب اُمور میں مُستغاثِ حقیقی کون ہوگا؟۔۔۔ اگر مریض.کسی ڈاکٹر کے پاس علاج کے لئے جائے تو مُستعانِ حقیقی کون ہوا؟۔۔۔ کیا مُستعانِ حقیقی وہ ڈاکٹر جو مریض کے معالجے کی تدبیر کر رہا ہے یا کہ اللہ تعالی؟۔۔۔ اگر اِس کا جواب یہ ہو کہ دُنیوی اُمور میں بھی مُستعانِ حقیقی اللہ ہی ہےتو مافوق الاسباب اور ماتحت الاسباب میں باہم فرق کیا رہا؟۔۔۔ مافوق میں اسی اِستغاثہ کا نام شِرک اور ماتحت الاسباب میں اجازت! یہ کہاں کا اصول ہے کہ

حقیقت.و مجاز کا فرق ملحوظ رکھے بغیر مُستعانِ مطلق بھی اللہ کو قرار دیا جائے اور اُس کے غیر سے مدد بھی طلب کرتے پھریں؟ حالانکہ قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے:

وَ رَبُّنَا الرَّحْمٰنُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰی مَاتَصِفُوْنَo
اور ہمارا ربّ بے حد رحم فرمانے والا ہے اسی سے مدد طلب کی جاتیہے ان (دل آزار) باتوں پر جو (اے کافرو!) تم بیان کرتے ہوo
(الانب ي اء، 21 : 112)

دُوسری صورت میں اگر اِس کا جواب یہ دِیا جائے کہ اُمورِ ماتحت الاسباب میں مستغاثِ حقیقی.اللہ تبارک و تعالیٰ نہیں اِنسان ہی ہے تو اس سے تعدّد لازِم آئے گا۔۔۔ جو یقیناً شِرک ہے۔۔۔ کہ دُنیوی کاموں میں مستعان بندہ ہو اور مافوق الاسباب.کاموں میں اللہ تعالی۔ اِس دُوئی کی بنا پر جب بندے کو مستغاث ومستعان تسلیم کیا جائے تو یہ بالکل اُسی طرح کا شِرک قرارپائے گا جو کفار و مشرکینِ مکہ کا تھا کہ وہ دُنیوی اُمور میں بندوں کو مددگار تسلیم.کرتے اور دیگر اُمور میں اللہ تعالی کو مددگار مانتے تھے۔ اور اگر یہ بات کی جائے کہدنیاوی اُمور میں بھی مستعان اللہ ہی ہے تو پھر اس کے غیر سے مدد مانگنا کیونکر درست ہوگیا؟

فیصلہ کن بات یہ ہے.کہ جب معترضین کے نزدیک اُمورِ ماتحت الاسباب میں مُستغاثِ حقیقی.اللہ تعالی ہے اور مخلوق.سے اِستعانت فقط ظاہری اور مجازی معنی میں ہے، حقیقی معنی میں نہیں،۔۔۔ تو اِس صورت میں ایک سوال یہ اُبھرتا ہے کہ اگر ماتحت الاسباب میں غیر سے مدد چاہنا اِستغاثہ مجازی ہونے کیوجہ سے جائز ہے تو مافوق الاسباب میں مجاز ہونے کے باوجود کیسے حرام ہوگیا؟ جبکہ وہاں بھی اِستغاثہ حقیقی کی بجائے اِستغاثہ مجازی ہی تھا۔

مافوق الاسباب اُمور میں مجاز کا جواز

مافوق الاسباب اُمور میں مجاز کا اِستعمال اِس لحاظ سے بھی جائز ہے کہ وہ بظاہر تو اگرچہ اِستغاثہ ہوتا ہے مگر اِس سے مفہوم اور مُراد توسل ہوا کرتا ہے، اور مستعانِ حقیقی اللہ تعالی ہی کو جانا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ اِستغاثہ کا مجازی معنی میںاِستعمال قرآنِ مجید میں کئی صورتوں میں ہوا ہے، جن میں سے اکثراستعمالِ مجاز ما فوق الاسباب کے لئے ہوا ہے۔ قرآنِ حکیم میں مجاز کا اِستعمال جس کثرت کے ساتھ ہوا ہے اُس میں سے چند مقامات کا ہم یہاں ذِکر کریں گے تاکہ قارئین کے اذہان و قلوب میں یہ تصوّر اچھی طرح سے راسخ ہو جائے کہ حقیقت و مجاز کی تقسیم سے اِنکار کی صورت میں کس قدر خطرناک نتائج.برآمد ہوسکتے ہیں۔

جبرئیل علیہ السلام پر شِرک کا فتویٰ؟

حضرت جبرئیل علیہ السلام جب اﷲ کے اِذن سے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی وِلادت کے سلسلے میں حضرت مریم علیھا السلام کے پاس اِنسانی رُوپ میں آئے تو اُن سے کہا :
اِنَّمَا أنَا رَسُوْلُ رَبِّکِ لِأ ه َبَ لَکِ غُلَاماً زَکِيًّاo
(جبرئیل نے) کہا میں تو فقط تیرے ربّ کا بھیجا ہوا ہوں (اس لئے آیا ہوں) کہ میں تجھے ایک پاکیزہ بیٹا عطا کروںo
(مريم، 19 : 19)

مذکورہ بالا آیت میں جبرئیل امین علیہ السلام کا قول اُمورِ مافوق الاسباب میں سے ہے کیونکہ شادی اور اِزدواجی زندگی کے بغیر بیٹے کا ہونا اور اس پر یہ کہنا کہ :’’میں تجھے پاکیزہ بیٹا دوں‘‘ مافوق الاسباب اُمور میں مدد کی بہت بڑی قرآنی مثال ہے اور اسبابِ عادیہ کے بغیر اِس دنیا میں اِس کا تصوّر بھی محال ہے۔
قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ اگر کوئی شخص محض توسل کی نیت سے اﷲ ربّ العزّت کے کسی برگزیدہ بندے کے وسیلے سے اولاد طلب کرے تو کچھ نادان دوست فی الفور شِرک کا فتویٰ لگا دینے سے نہیں چوکتے جبکہ کوئی غیرخدا۔۔۔ جبرئیل علیہ السلام۔۔۔ کہے کہ ’’میں بیٹا دیتا ہوں‘‘ اور اﷲ تعالیٰ خود اُس کا ذِکر قرآنِ مجید میں کرے تو کیا یہ اُسی طرح شِرک نہیں ہوگا؟ مانگنے کی صورت میںتو مانگنے والا پھر بھی اِنسان ہی رہتا ہےمگر یہ کہنا کہ ’’میں بیٹا دیتا ہوں‘‘ اِس جملے کو اگر مجازی معنی پر محمول نہ کیا جائے تو حقیقی معنوں میں تو یہ سراسر خدا بننے کے مترادف ہے۔

اولاد سے نوازنا فعلِ اِلٰہی ہے اور بندے کا کام اُس سے اُس کی عطا کی بھیک مانگنا ہے۔ بندے کا غیراﷲ سے مانگنا اگر شِرک ہے تو پھر کسی دینے والے غیرِخدا کا قول یہ کہ ’’میں بیٹا دیتا ہوں‘‘ تو بدرجۂ اولیٰ شِرک قرار دیا جانا چاہئیے۔ اِس مقام پرسوال یہ پیدا ہوتا ہےکہ جبرئیلِ امین علیہ السلام تو ’’لِأهَبَ لَکِغُلَاماً‘‘ کہہ کر بھی (معاذ اﷲ) مشرک نہ ہوئے بلکہ اُن کا قول، قولِ حق رہا تو اُن کے اس قول کی آخر کیا توجیہہ ہوگی؟

جواب : یہ قول تو اگرچہ روح الامین کا ہےکہ میں بیٹا دیتا ہوں مگر اِس سے مُراد یہ ہے کہ وہ بیٹا جو اللہتبارک و تعالی عطا فرمانے والا ہے ’’میں‘‘ اُس کا سبب، وسیلہ اور ذریعہ بنتا ہوں۔ پس مذکورہ آیتِ کریمہ میں ’’لِأهَبَ لَکِ غُلَاماً‘‘ میں مدد دینے کا عمل پایا گیا مگر اس سے مُراد محض توسل ہے اور ان کا بیٹا دینے کا قول مجازِ

قرآنی کی ایک عمدہ مثال ہے۔
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام پر شِرک کا فتویٰ؟

سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے جب اپنی اُمت کے سامنے اِعلائے کلمۂ حق.کیا اور اُنہیں شِرک سےباز آنے اور اﷲ وحدہ لا شریک کی وحدانیت کیطرف بلانا چاہا تو اُنہوں نے اپنی قوم کو مختلف معجزات دِکھائے۔ قرآنِ مجید میں آپ کی اس دعوت کا ذکر یوں آیا ہے :

أَنِّي قَدْ جِئْتُكُم بِآيَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ أَنِّي أَخْلُقُ لَكُم مِّنَ الطِّينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ فَأَنفُخُ فِيهِ فَيَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِ اللّهِ وَأُبْرِىءُ الْأَكْمَهَ والْأَبْرَصَ وَأُحْيِـي الْمَوْتَى بِإِذْنِ اللّهِ وَأُنَبِّئُكُم بِمَا تَأْكُلُونَ وَمَا تَدَّخِرُونَ فِي بُيُوتِكُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لَّكُمْ إِنكُنتُم مُّؤْمِنِينَ O

بے شک میں تمہارے پاس تمہارے ربّ کی جانب سے ایک نشانی لے کر آیا ہوں، میں تمہارے لئے مٹی سے پرندے کی شکل جیسا (ایک پتلا) بناتا ہوں پھر میں اس میں پھونک مارتا ہوں سو وہاللہ کے حکم سے فوراً اڑنے والا پرندہ ہو جاتا ہے۔ اور میں مادر زاد اندھے اور سفید داغوالے کو شفا یاب کرتاہوں اور میں اللہ کے حکم سے مردے کو زندہ کر دیتا ہوں اور جو کچھ تم کھا کر آئے ہو اور جو کچھ تماپنے گھروں میں جمع کرتے ہو میں تمہیں (وہ سب کچھ) بتا دیتاہوں، بے شک اس میںتمہارے لئے نشانی ہے اگر تم ایمان رکھتے ہوo
(آل عمران، 3 : 49)

اس آیتِ کریمہ میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے دستِ اقدس سے کل پانچ معجزات کے ظہور کا ذکر آیا ہے :

1۔ مٹی سے پرندہ بناکر اُسے زِندہ کرنا

2۔ مادر زاد اَندھے کا علاج

3۔ سفید داغ (برص) کا علاج

4۔ اِحیائے موتیٰ (مُردوں کو زندہ کرنا)

5۔ غیب کی خبریں سرِعام بتانا
یہ پانچ معجزات اللہ ربّ العزّت نے

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو عطا فرمائے تھے اور آپ علیہ السلام علی الاعلان ان کا اِظہار بھی فرمایا کرتے تھے، جس کی تصدیق خود باری تعالیٰ نے قرآنِ مجید میںفرمائی ہے۔ یہاں فقط اِتنا سمجھ لینا کافی ہوگا کہ اِس آیتِ کریمہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں تمہارے پاس تمہارے ربّ کی طرف سے ایک نشانی لایا ہوں ’’ أَنِّي أَخْلُقُ لَكُم ‘‘ میں تمہارے لئے مٹی سے پرندے کی مورت بناتا ہوں ’’ أَجْعَلُ‘‘ کی بجائے ’’ أَخْلُقُ ‘‘ کا لفظ اِستعمال کیا گیا۔ اگر آپ غور کریں تو مذکورہ بالا آیتِ مبارکہ میں ساری بحث ہی حقیقت و مجاز کی ہے۔

حقیقی کارساز اللہ ربّ العزت ہی ہے

مذکورہ بالاآیاتِ کریمہ میں بھی سیدنا عیسیٰ علیہ السلام مستعانِ حقیقی نہیں ہیں بلکہ اللہ ہی حقیقی مدد کرنےوالا ہے۔ البتہ ان الفاظ کا اِستعمال فقط مجازا ہوا ہے اور ساری بحث الفاظ پر ہے، لہٰذا اُصول اور ضابطہ یہ ہوا کہ ایسے الفاظ کا اِستعمال مجازا جائز ہے۔ مذکورہ آیت میں تمام صیغے کلام کرنے والے کے ہیں مگر اِس کام کا حقیقت میں کارساز اللہ ہے گویا حقیقت باذن اللہ ہے۔ کلمات میں حقیقت و مجازکی قرآنِ کریم کے حوالے سے یہ بہترین مثال ہے۔
کیا یہ معجزہ نہیں؟

اِس موقع پر کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ یہسارا ماجرا تو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا معجزہ ہے اور اِستغاثہ کی بحث میں معجزے کا کیا کام کیونکہ اُسسے تو یہاں بحث ہی نہیں۔ اِس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ ’’معجزہ تو مریضوں کا شفایاب ہوجانا ہے نہ کہ اُن کا اپنی طرف شفا دینے کی نسبت کرنا‘‘۔ اصل بات یہی ہے کہ اُن کا اپنی طرف ان مافوق الفطرت اَعمال کی نسبت کرنا مجاز ہے اور شِفا اور بیماری

درحقیقت اﷲ ربّ العزّت کی طرف سے ہے۔ جب یہ بات اٹل ہے کہ مادر زاد اندھے کو اور سفید داغ والے کو شفاء دینے والا اللہ تبارک و تعالی ہی ہے تو پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہ کیوں فرمایا کہ ’’میں شفا دیتا ہوں‘‘؟ چاہیئے تو یوں تھا کہ اِرشاد فرماتے کہ اللہ تعالیٰ میرے ہاتھ پھیرنے سے مادرزاد اَندھے کو بینائی دیتا ہے اور کوڑھی کو شفا عطا فرماتا ہے، معجزے کی شانِ اعجازی میں تب بھی کوئی فرق نہ آتا مگر اُنہوں نے مجازاً اِن اَلفاظ کی نسبت اپنی.طرف کی۔

چوتھا قول اُنہوں نے فرمایا : وَ أُحْیِ الْمَوْتٰی بِإِذْنِ اﷲِ ’’ اور میں مُردوں کو اﷲ کے اِذن سے زندہ کرتا ہوں‘‘۔ یہاں تو اِنتہاء ہوگئی۔۔۔ ایسا نہیں فرمایا کہ تم مُردہ لے آؤ، میں اللہ سے اِلتجاء کروں گا، اللہ میری دُعا سے زندہ کردے گا، بلکہ یوں اِرشاد فرمایا :

’’میں مُردوں کو اللہ کے اِذن سے زِندہ کرتا ہوں‘‘۔ اِس کا مطلب یہ ہوا کہ ان صیغوں اور کلمات کا اِستعمال اور اُن کی کسی فردِ بشرکی طرف نسبت مجازی طور پر جائز ہے۔ مذکورہ آیتِ کریمہ میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا اپنی طرف اِن اَعمال و اَفعال کی نسبت کرنا نسبتِ مجازی ہونے کی بناء پر درست ہے

اور اِسی آیت کے دُوسرے حصے میں آپ نے بِإِذْنِ اﷲ کے اَلفاظ کے ذریعے حقیقی کارساز اللہ ربّ العزّت ہی کو قرار دیا۔

پانچویں بات حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہ فرمائی : وَأُنَبِّئُكُم بِمَا تَأْكُلُونَ وَمَا تَدَّخِرُونَ فِي بُيُوتِكُمْ ’’اور میں تمہیں بتاتا ہوں جو تم کھاتے ہو اور جو اپنے گھروں میں جمع کرتےہو‘‘۔ اس میں کوئی ذِکر نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے مطلع فرمانے سے ایسا کرتا ہوں، بلکہ فرمایا : أُنَبِّئُكُم میں تمہیں خبر دیتا ہوں۔ اِن الفاظ میں صراحت کے ساتھ علمِ غیب کا پہلو پایا گیا کیونکہ اِس بات کا علم کہ کسی نے کون سی چیز کھائیہے علمِ غیب ہے جو باری تعالیٰ کے بتائے بغیر کسی کو معلوم نہیں ہو سکتا۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے یوں نہیں فرمایا کہ خداوندِ قدّوس مجھے آگاہ فرماتا ہے۔ اگرچہ واقعتا حقیقت یہی ہے کہ اﷲہی آگاہ کرتا ہے مگراُنہوں نے اِس بات کا اپنے اَلفاظ میں اِظہار نہیں فرمایا اور مجازی طور پر اِس غیب کی نسبت اپنی طرف کی، جس سے یہ ظاہر ہوا کہ غیراﷲ کی طرف علم.ِغیب کی نسبت مجازی طور پر جائز ہے ورنہ رسولِ خدا سے یہ فعل ہرگز سرزد نہ ہوتا۔

سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کے سامنے دعوی نبوت کے سلسلے میں جو اِعلانات فرمائے آج کے نام نہاد مؤحّدین کے مؤقف کی روشنی میں وہ سب کے سب شِرک کی زدمیں آئے بغیر نہیں رہتے۔ اِس طرح کے طرزِ فکر سے تو اَنبیائے کرام جو خالصتاً توحید ہی کا پیغامِ سرمدی لے کر انسانیت کی طرف مبعوث ہوتے رہے ہیں، اُن کی قبائے عصمتِ نبوّت بھی تار تار ہوئے بغیر نہیں رہتی اور وہ بھی شِرک کے فتویٰ سے نہیں بچ سکتے۔

اﷲ تعالیٰ پر شِرک کا فتویٰ؟

سورۂ آل عمران کی مذکورہ بالا آیتِ مبارکہ میں تو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے اَلفاظ مذکور ہیں کہ میں اللہ کے اِذن سے مُردے زِندہ کرتا ہوں، مٹی سے پرندوں کی مُورتیں بنا کر اُن میں جان ڈالتا ہوں وغیرہ، مگر مندرجہ ذیل آیتِ کریمہ میں تو خود اللہ تعالیٰ بھیاُن کے اِس فعل کی تصدیق فرما رہا ہے۔ اِرشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَإِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ بِإِذْنِي

اور جب تم میرے حکم سے مٹی کے گارے سے پرندے کی شکل کی مانند (مورتی) بناتےتھے۔
(المائد ه ، 5 : 110)

اللہ تعالی نے یہ نہیں فرمایا کہ اے عیسیٰ علیک السلام میں نے تیرے لئے مٹی کے پرندے بنائے اورزِندہ کر دیئے، تیرے لئے مادر زاد اَندھوں کو بینائی دی اور برص زدہ لوگوں کو شفا دی۔ با وجود یہ کہ اللہ تعالی توحیدِ خالص کے حامل سادہ لوح مؤحّدین کی حسبِ خواہش حقیقت پر مبنی اِس اُسلوب کو اپنا بھی سکتا تھا، مگر اِس کے باوجود اُس خالق و مالک نے فرمایا :

فَتَنفُخُ فِيهَا فَتَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِي

پھر تم اس میں سے پھونک مارتے تھے تو وہ (مورتی) میرے حکم سے پرندہ بن جاتی تھی۔
(المائده، 5 : 110)

رُوح پھونکنا دَرحقیقت فعلِ اِلٰہی ہے
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہےکہ کسی میں رُوح پھونکنا اور جان ڈالنا خالقِ کائنات ہی کا کام ہے۔ مگر اُس نے خود سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے لئے فرمایا: فَتَنفُخُ فِيهَا فَتَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِي

’’پھر تو اُس.میں پھونک مارتا تو وہ میرے حکم سے اُڑنےلگتی‘‘ وَتُبْرِىءُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ بِإِذْنِي ’’اور جب تم مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں کو میرے حکم سے اچھا کر دیتے تھے‘‘ وَإِذْ تُخْرِجُ الْمَوتَى بِإِذْنِي ’’اور جب تم میرے حکم سے مُردوں کو ( زِندہ کرکے قبر سے) نکال (کھڑا کر) دیتے تھے‘‘۔ اِنآیاتِ مبارکہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایسے کلمات کا غیراﷲ پر اِطلاق مجازاً جائز ہے۔

اِن کلمات کو خود اللہ ربّ العزّت نے اِستعمال فرمایا اور انبیائے کرام علیھم السلام نے بھی اِستعمال کیا حالانکہ ایسے کلمات کی ادائیگی فرمانا اُن کی.مجبوری نہ تھی۔ اﷲ ربّ العزّت کا اپنے کلامِ مجید میں اِن اَلفاظ کو مجازی معنی میں اِستعمال کرنا نہ صرف مجازی معنی کے جواز کا سب سے بڑا ثبوت ہے بلکہ اس کے سنتِ اِلٰہیہ ہونے پر بھی دالّ ہے۔

اِس ساری بحث سے ظاہری اور باطنی اَسباب کے لئے ایک خاص ضابطہ بھی میسر آتا ہے کہ تمام مافوق الاسباب اُمور میں اَلفاظ اگرچہ براہِ راست.بندے اور مخلوق کی طرف منسوب ہوں تب بھی فاعلِ حقیقی اللہ تعالی ہی کو گردانا جائیگا کیونکہ

کارسازِحقیقی وُہی ہے۔

ALA HAZRAT (aleh rehma) AUR RADD-E-BIDDA'AT

 


 Assalam-u-Alaikum !
''Bid'at nayi baat ko kehte hen.Shar'yi istilah me bid'at us baat ko kaha jata he. Jiski asalquran o sunnat me na mile. Ya jo kaam quran o sunnat k khilaf ho
Mas'ala ye he k alahazrat parilzamat lagaye jate hen k unho ne bid'at ko riwaj dya lihaza ek aisa segment me ne chalaya jis me alahazrat ki aisibaatein code krke btayi jarahihen jis me bid'at ka radd kya gaya ho.
Aur iska name rakha gaya

¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤

Any other question?

#01
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
Bad Gumani Se Bachna:
"Aye Imaan Walo!!
Buhat Se Gumano Se Bacho Beshak Baaz Guman Gunaah Ho Jata Hai"
(Surah Hujrat Ayat#12 P#26)
Mafhum e Hadees:
"(Bure)Gumaan Se Dur Raho Ke (Bura)Gumaan Sub Se Barh Kar Jhooti Baat He"
(Bukhari 3/117 H#6066)
#02
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
Mazaar Sharif Ko Bousa DenaAur Tawaf Karna:
"Mazar Ka Tawaf Baneyat Tazem Najaiz Hai,
Tawaf Sirf Kaabe Ke Lye Makhsus He,
Bousa Dene Se Bachna Chahiye,
Ulma Ka Is Masle Mein Ikhtalaf He,
Aastana Bousi Aur Aankho SeLagana Jaiz He"
(Fatawa Razawiya 4/08)
#03
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
Jab Ke Paish e Nazar Jaliyaan Hon:
"Khabardar Jaali Sharif(Huzoor Ke Mazaar Ki) Ko Bosa Dene Ya Hath Lagane Se Bacho Ke Ye Khilafe Adab He
Bulkey 4 Hath Faasley Se Zyada Qarib Na Jao,
Ye Un Ki Rehmat Kya Kam HeKe Apne Huzur Bulwaiya"
(Fatawa Razawiya 10/765)
#04
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"Roza e Anwar Ka Na Tawaf Karo Na Sajda,
Na Itna Jhuko Ke Ruku Ke Barabar Ho, Huzur Ki TazeemUnki Ita'at Me He"
(Fatawa Razawiya 10/769)
#05
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
Mazaarat Par Chaadar Charhana:
"Mazaar Par Jab Chaadar Mojud Ho,
Kharab Na Hui Ho Badalne KiHaajat Nahi Tu Chaadar Charhana Fuzul He,
Bulkey Jo Daam Is Me Sarf Karen, ALLAH Ke Wali Ko Esaal e Sawab Karne K Lye Kisi Mohtaj Ko Den"
(Ahkaam e Shariyat 1/42)
#06
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
Urs Ka Din Muqarrar Karne Me Maslihat :
"Auliya Ki Arwah e Tayyiba Ko Unke Wisal Ke Din Quboor e Karima Ki Taraf Tawajju Zyada Hoti He, ChunaChey
Wo Waqt Jo Khaas Wisaal Ka He, Akhaz e Barakat Ke Lye Zyada Munasib Hota He"
(Malfuzat Sharif P#383)
#07
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
Urs Me Aatish Baazi Aur Niaz Ka Khana Lutana Haraam:
"Aatish Baazi Israaf He Aur Israaf Haraam He, Khane Ka Aise Lutana Be Adabi Aur Be Adabi Mehrumi He, Maal Ka Israf He.
Roshni Agar Masaliha e Shariya Se Khali Ho To Wo Bi Israaf He"
(Fatawa Razawiya 24/112)
#08
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"Randiyo Ka Naach Be Shak Haraam He, Urson Me Be Qaid Jaahilo Ne Ye Maasiyat Phelayi He"
(Fatawa Razawiya 29/92)
#09
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"Agar Wajd Saadiq (Sacha) Aur Haal Gaaib Aur Aqal Mastoor Aur Is Aalam Se Door He To Is Par To Qalam Hi Jaari Nhe,
Agar Ba Takalluf Krta He To Haraam, Riya Ke Lye He To Jahannam Ka Mustahiq Aur Saadiqeen Ke Sath Tashbih KiNiyyat He To Hasan He"
(Malfuzat P#231)
#10
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
Hurmat e Mazaamir:
Mazaamir Yani Aalat e Lahw o La'ab Bila Shuba Haraam Hen
Jin Ki Hurmat Auliya Aur Ulama Key Kalimaat Me Wazeh He.
Unkey Sunn'ney Sunaney Ke Gunah Hone Me Shak Nahi.
Aur Saadaat e Chisht Ki TarafUnki Nisbat Iftera He.
(Fatawa Razawiya 10/54)
#11
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"Nasha Haram He, Nasha Ki Cheezen Peena Jis Se Nashe Baazo Ki Munasibat Ho Ye Bi Gunah He"
(Ahkam e Shariat Part2)
#12
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
Tasweer Ki Hurmat:
"Jandaar Ki Taswiren Banana Khuwa Hath Se Ho Ya Aksi Haraam He Aur Ma'abudaan e Kuffaar Ki Taswiren BananaSakht Haraam He, In Sab Logo Ko Imam Banana GunahHe Aur Inke Peeche Namaz Makruh e Tehrimi Qarib ul Haraam He"
(Fatawa Razawiya 3/190)
#13
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"Sajda ALLAH K Siwa Kisi K Lye Nhe,
Gairullah Ko Sajda e Ibadat Shirk Aur Tazimi Haraam"
(Azzubdatu zZakiyya... P#5)
#14
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"Qabro Ki Taraf Shama Lejana Bid'at Or Maal Ka Ziyaa He"
Aage Kuch Soorton Me Jaiz Likha
(AlBareequl Manaar... P#9)
#15
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
TAAZiYA:
"Farzi Mazaar Banana Aur Uske Sath Asal Ka Sa MuamlaKarna Na Jaaiz Aur Bid'at He"
(Fatawa Razawiya 9/425)
#16
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
AURAT Aur MAZAAR:
"Jis Waqt Aurat (Mazar Par Jane K Lye) Ghar Se Irada Karti He La'nat Shuru Hojati He Aur Jab Tak Wapis Aati HeMalaika La'nat Krte Rehte Hen. Siwaye Roza e Rasool K Kisi Mazaar Pr Jane Ki Ijazat Nahi, K Wo Zarya e Magfirat He"
(Malfuzat P#240)
#17
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
Mazar Pe Haazri Ka Tariqa:
"Paainti (Qadmon) Ki Taraf SeJaaye,
Kam Az Kam Chaar (4) HaathKe Faasley Par Mawajeh Pr Khara Ho,
Ba Adab Salam Arz Karey.
3 Baar Alhamd Sharif,
1 Martaba Ayat ul Kursi,
7 Martaba Sura e Ikhlas Tilawat Karey.
(Fatawa Razawiya 9/522)
#18
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
Mazaar Pr Dua Ka Tariqa:
"Fatiha Ke Bad Zaair Sahib e Mazaar Ke Wasiley Se Dua Karey Aur Apna Jaaiz Matlab Pesh Karey.
Phir Salam Krta Hua Wapis Aye.
Mazaar Ko Na Hath Lgaye NaBosa Dey.
Tawaf Bil Ittefaq Na Jaaiz He Aur Sajda Haraam He.
(Fatawa Razawiya 9/522)
#19
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
TAAZiYA Aur TAMAASHA:
"Na Jaiz Baat Ka Tamasha Dekhna Bi Na Jaiz He Jis Tarah Bandar Nachana...."
(Malfuzat P#286)
#20
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
TAAZiYE Par MANNAT:
"Kisi Ne Agar Taaziye Pr Mannat Maani To Ye Nazar Baatil O Najaiz He.
(Fatawa Razawiya 24/501)

#21
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
BUTH Aur TAAZiYE Ka Charhawa:
"Buth Ka Charhawa (Parsaad)Gair e Khuda Ki Ibadat He Iska Khana Musalmano Ke Lye Haraam Aur Taaziye Ka Charhawa Bi Na Khaye.
Agar Chey Taaziya Daari Bi Haraam He Magar MusalmanKe Nazdik Donu Barabar Nahi"
(Fatawa Razawiya 21/246)
#22
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
Q.Shia Ki Sabeel Se Paani Peena Aur Chanda Dena Kesa He?
"Ye Sabeel Shia Ke Majmae Ke Lye He Jo Tabarra O La'nat Ka Majma He.
Ye Na Jaaiz O Gunah He Aur Unhe Chanda Dena Gunah He.
Aur Un Me Shamil Hone Walon Ka Hashr Unke Sath Hoga."
(Fatawa Razawiya 21/246)
#23
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"Wafaat Ke Moqey Par Shaadi Ke Se Takalluf Karna, Umda Farsh Bichana Ye Baatein Be Jaa Hen Aur Ye Aqida Bhi Galat K Sawab Teesrey Din Puhanchta He Ya Ek Din Zyada Ya Kam Puhnchey Ga Na Khas Chaney Bantna Zaruri He"
(AlHujjatul Fatiha LitTayyibit Ta'ayyun... P14)
#24
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
SOYAM Ka Khana:
"Ye Cheezen Ghani Na Ley, Faqeer Ley.
Jo Iske Na Milney Se Naraz Ho Uska Qalb Siyah Hota He.
Ye Hukum Aam Fatiha Ka He,
Niyaz e Auliya Tabarruk He, Wo Sab Le Saktey Hen.
Behtar He Ke Chehlam, Barsi Ka Khana Bi Ghani Na Khaye"
(Fatawa Razawiya 4)
#25
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"Mayyat Par Phoolon Ki Chaadar Daalne Me Shar'an Harj Nahi Bulke Niyyat e Hasan Se Hasan He
Jese
Quboor Par Phool Daalna Ke Jb Tak Wo Tarr Rahen Ge Tasbih Karen Ge Is Se Mayyit Ka Dil Behalta He Aur Rehmat Utarti He.
Fatawa Alamgiri Me He:
Qabro Par Phoolo Ka RakhnaAcha He"
(Fatawa Hindiya 5/351)
Deegar Hawala Jaat:
(Fatawa Imam Qazi Khan)
(Imdadul Miftah)
(Raddul Mukhtar 1/606)
(Fatawa Razawiya 9/105)
#26
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
GYARWEEN Ka In'eqaad:
"Mehbuban e Khuda Ki Yaadgari Ke Lye Beshak Din Muqarrar Karna Jaiz He
Huzur Har Saal Ke Ikhtimam
Par Shuhada e Uhad Ki Qabro Par Tashrif Le Jaatey
(Ibn e Jareer)
Mashaikh Ke Urs Manana Is Hadis Se Sabit He
(Ham'aat 11 By Shah Abdul Aziz)"
#27
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
OONCHi QABAR:
"Oonchi Qabar Banana Khilafe Sunnat He
(Raddul Mukhtar)
Haan Mashaikh Ki Qabro Par Imaarat Banana Jaiz Taa Key Logg Ziyarat Karen
Sarkar Aur Sahaba Ke Mazaar Pr Agle Zamane Me Qubbey Tameer Kye Gaye
(Kashf ul Gitaa P#55)"
(Fatawa Razawiya 9/418)
#28
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"Azaan Dene Se Shetan RohaTak (Madina Se Taqriban 36 Mile Door) Bhaagta He
(Muslim H#388 P#204)
Lihaza Qabr Par Ya Waqt e Tadfin Azaan Keh Saktey HenAur Is Se Mayyat Ka Dil Bhi Behalta He Aur Bi Buhat Se Fawaid Hen"
(Malfuzat P#526)
(Fatawa Razawiya 23/374)
#29
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"Fatiha, Esaal e Sawab Ka Name He Aur Momin Ke Amal e Naik Ka Ek Sawab Uski Niyyat Karte Hi Haasil HoJaata He Aur Amal Karne Par Dus Gunaa Milta He,
Khaana Saamne Na Ho To Sawab Na Puhnche Ga, Ye Gumaan Galat He
Sirf Baargah e Ilahi Me Dua Karna Ke Wo Sawab Mayyit Ko Puhnchaye"
(Al Hujja tul Fatiha LitTayyibit Ta'ayyuni Wal Fatiha P#14)
"Apni Zindagi Me Khud Apne Lye Esaal e Sawab Kar Sakta He"
(Malfuzat P#48)
#30
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
Aalahazrat RadiyALLAH Anhu Ne Qur'an Khuani Ke Lye Ujrat Lene Aur Dene Ko Na Jaiz Qarar Dya.
(Fatawa Razawiya 4/318) 

#31
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
Rawafiz (Shion) Ki Majalis Me Jana Aur Marsiya Sun'na Haram He.
Unki Niyaz Najasat He.
Aur Unki Majalis Me Haazri Sakht Mal'oon He.
Aur Us Me Shirkat Mojib e La'nat He.
Muharram Me Siyah (Black) Kaprey Sogg Hen Aur Sogg Haraam He.
(Fatawa Razawiya 23/756)
#32
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"Aatish Baazi o Gaane Jo Shadi Wagera Me Raaij,
Beshak Haraam He, Us TaqribMe Bi Sharik Na Hon"
(Haadiyun Naas P#3)
#33
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
Nasab Par Fakhar Karna Ya Dusre Musalman Ke Nasab Par Ta'an Karna Jaiz Nahi
(Irada tul Adab Li Faazilin Nasab P#3)
#34
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
Peer Aur Mureeda Ke Darmaiyan Parda:
Aalahazrat Imam Ahmed Raza Farmatey Hen!
"Beshak Har Gair Mehram Se Parda Farz He Jiska ALLAH Aur Uske Rasool Ne Hukam Dya He.
Beshak Peer Mureeda Ka Mehhram Nahee Ho Jaata, Un Se Bhi Parda Laazim He"
(Masail e Sima'a P#32)
#35
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"Jaali Faal Naamey Jo Awam Me Mash'hur Aur Akabir Ki Taraf Mansub Hen Be Asal O Baatil Hen"
(Fatawa Razawiya 23/327)
#36
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
Anbya Ki Hayaat Haqiqi Hassi Dunyawi He
(Ibn e Maja 2/291 H#291)
Anbya o Auliya Par Mahaz EkAan Ko Mout Taari Hoti He Phir Unko Wese Hi Hayaat Ataa Farma Di Jaati He
(Hashya Tafsir Saawi 1/340)
...Auliya Ki Zindagi Dunyawi Zindagi Se Afzal o Aala He (Zurqani 7/364)
...Apni Ummat Ko Dekhte Hen
(Mudkhal 1/252)
Sarkar Haqiqi Jismani Hayaat Se Wese Hi Zinda Hen Jese Wafaat Se Pehle They
(Fatawa Razawiya 10/764)
#37
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
Sarkar Ka Elm e Gaib Ataayi He :
(Sura Takwir Ayat#24 Para30)
Ke Tehat!
Huzur Ko Elm e Gaib Aata HeAur Wo Tumhe Bi Talim Farmate Hen
(Khaazin 4/357)
"ALLAH Aur Huzur Ka Elm Barabar To Darkanar, Agar Tamam Elm Ko Jama Bi Kya Jaye To Bhi Is Elm Ko Elm e Ilahi Se Wo Nisbat Hargiz NheHosakti Jo Ek Qatre Ke Karorwen Hisse Ko Karor Samandar Se He Ke Ye Mutanahi (Mehdood) He Aur Wo Gair Mutanahi He.
(Malfuzat P#93)
#38
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
PEER o MURSHiD:
"Hamesha Sunni Sahih ul Aqeeda Aur Paband e ShariatPeer Sa Bait Ki Jaye,
Jo Masail Jaanta Ho
Aur Us Ka Silsila Huzur Alaihissalatu Wassalaam Tak Muttasil Ho,
Aur Bila Shuba Jaahil Faqeer Ka Mureed Hona Shetan Ka Mureed Hona He"
(Malfozat P#297)
#39
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"Taanbe o Peetal K Taweez Makrooh Hen, Soney Chandi K Taweez Mard Ko Haraam Jbke Aurat Ko Jaiz Hen"
(Malfuzat P#328)
#40
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
Imam Zaamin Ka Jo Nikla He Ke Bazoo Me Kapra Lapet Kar Paisa Bandha Jaata He Iski Kuch Asal Nahi
(Malfuzat P#328)
#41
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
GAiRULLAH Se Madad :
"Huzur Aur Auliya Ko ALLAH Ka Banda Aur Uski Baargah Me Wasila Jaaney.
Unka Madad Karna ALLAH Ke Izn Se Maaney Aur Aetmad Karley Ke Be Hukm eKhuda Zarra Nahi Hil Sakta, ALLAH Ke Diye Bagair Koi Ek Hissa Nhe De Sakta"
(Ahkaam e Shariat 1/4)
#42
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
NAFAL Ya MUSTAHAB Ko FARZ Par Foqiat:
Aalahazrat Imam Ahmed Raza Khan Farmate Hen!
"Agar Farz Ki Adayegi Se Qabl Sunan o Nawafil Me Mashgool Ho To Sunan o Nawafil Qubul Nahi Hoti Balke Mojib e Ihanat Hoti Hen"
(Ayizzul Iktinah Fi Sadaqati Mani'iz Zakaat P#10)
#43
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
JASHN e WiLADAT Ka Charaagaan:
Sura e Furqan Ayat#67 Ke Tehat!
"Israaf Me Koi Bhalayi Nhe, Aur Bhalai Ke Kaamo Me Kharch Karne Me Koi Israaf Nhe
(Tafsir Kashaaf 3/293)"
(Malfuzat P#174)
Imam Ghazali Ki Ahyaaul Uloom Me Bi Is Se Muta'alliq Tazkira Milta He.
#44
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"Adab Ka Taqaza Ye He Ke Sarkar Ko Aapke Zaati Name Se Na Pukara Jaye Na Hi NaatMe Parha Jaye. Bulke Ya Rasoolallah, Ya Habiballah Keh Kar Nida Di Jaye,
Kahin Masajid, Posters Wagera Me Bi
<Ya Muhammad>
Ki Jaga Alqaabaat Tehrir Karey"
(Fatawa Razawiya 15/171)
#45
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
Un Mardon Par La'nat Farmayi Gayi Jo Aurton Se Mushabihat Karen, Aur Isi Tarah Un Aurton Par Jo Mardon Se Mushabihat Karen.
(Musnad Imam Ahmed 1/727 H#3151)
(Bukhari H#5885 P#4)
"Mard Ko Baal Barhana Jahalat Aur Chotti Rakhna Haraam He"
(Malfuzat P#281, 297)
#46
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"ALLAH Ko Aashiq Aur HuzurKo Ma'shooq Kehna Na Jaaiz He.Ye Lafz Shan e Ilahi K Laaiq Nahi"
(Fatawa Razawiya 21/114)
#47
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"Jo Madina Ko Yasrab Kahey Us Par Touba Waajib He,
Madina TAABA He
Madina TAABA He"
Raawi : Baraa Bin Aazib
Iski Sanad Sahee He
(Masnad Ahmed 4/285)
"Madina Paak Ko YASRAB Kehna Na Jaiz,Mamnu Aur Gunaah He Aur Kehne Wala Gunahgaar He"
(Fatawa Razawiya 21/116)
#48
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"Maal e Haraam Qabil e Qubool Nahi, Na Isey Raah e Khuda Karna Rawaa Na Is ParSawab He"
(Fatawa Razawiya 21/105)
#49
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"Aksar Log Safar Ki Kuch Makhsus Taarikhon Me Shaadi Wagera Nahi Kartey, Ye Sab Be Asal He"
(Fatawa Razawiya 23/272)

#50
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"Safar Ki Aakhri Budh Ki Koi Asal Nahi Na Is Din Huzur Ki Sehat Yaabi Ka Koi Suboot He"
(Fatawa Razawiya 10/117)
#51
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"Imam Zainul Abdin Ne Yazid Ko Magfirat K Lye Koi NamazNahi Batayi, Ye Riwayat Be Asal He"
(Fatawa Razawiya 10/117)
#52
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"Daarhi Mundwane Aur Katarwane Wala Shakhs Faasiq e Mo'lin He, Usko Imam Banana Gunaah He"
(Ahkaam e Shariat 2/321)
#53
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"Dawato Me Log Khare Hokar Khate Hen.
Huzur Ne Beth Kar Aur Jootey Utaar Kr Khane Ka Hukum Dya"
(Fatawa Africa P#38)
#54
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"Janab Nabi Karim Ne Farmaya!
Be Adabi Aur Bad Tehzibi He Ke Admi Kharey Hokar Peshab Karey"
(Fatawa Africa P#09-10)
#55
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
Imam Ahmed Raza Khan Ne Joota Pehan Kr Qabron Pr Chalne Ko Ahl e Quboor Ki Touheen Qarar Dya
(Fatawa Razawiya 4/107)
#56
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
BIJLI :
"ALLAH Ne Badalon Ke Chalane Ke Lye Ek Farishta Muqarrar Kya He, Jiska NameRa'ad He, Uska Qadd Buhat Chota He, Uske Haath Me Ek Buhat Bara Koraa He, Jab WoKoraa Badal Ko Maarta He Uski Tari Se Aag Jharti He Uska Name BIJLI He."
(Fatawa Razawiya 27/23)
#57
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
Q.ZALZALA Aane Ka Kya Baais He?
"Zalzala Aane Ka Asli Baais Aadmiyon Ke Gunah Hen AurPaida Yun Hota He Ke Ek Pahar Tamam Zamin Ko Muheet He, Iske Raishey Zamin Ke Andar Sab Jaga Pheley Hue Hen Jese Barey Darakht Ki Jaren Door Tak Andar Anadar Phelti Hen, Jis Zamin Par MuazALLAH Zalzaley Ka Hukum Hota He, Pahar Us Jaga Ke Raishey Ko Junbish Deta He Aur Zamin Hilne Lagti He"
(Fatawa Razawiya 27/93)
#58
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"Ghous e Paak Hamesha Se Hambli They. Jab Mansab e Ijtehad Hasil Hua Aur Mazhabe Hanbal Kamzor Hota Dekh Kar Uskey Mutabiq Fatwa Dya K Huzur Mohiuddin Aur Deen e Mateen Ke Ye CharonSutoon Hen, Jis Sutoon Me Zouf Dekha, Taqwiyat Farmayi"
(Fatawa Razawiya 2/433)
#59
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"Taash o Shatranj Donu Na Jaiz Hen Aur Taash Zyada Gunah o Haraam Ke Is Me Tasaweer Bi Hen"
(Fatawa Razawiya 24/113)
#60
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"Anbya e Karaam Ke Na Sirf Fuzlaat e Sharifa (Jism Se Kharij Hone Wale Zaayed Maaddey Misl e Boul o Baraz Wagera) Paak Bulke Inke Waldain Kareemain Ke Wo Nutfey Bi Paak Hen Jin Se Ye Hazraat Paida Hue"
(Shifa Sharif V1 P#168)
(Zurqani V1 P#194)
(Malfuzat P#456)
#61
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"Payinche Takhne Se Niche Rakhna Bi Makrooh e Tanzihi He"
Bahawala Bukhari
O Fatawa Alamgiri
(Fatawa Razawiya 27/93)
#62
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"Mard Ko Anguthi Sirf
Chandi, Ek Nag,
4.5 Masha Se Km Wazan Ki,
Ek Waqt Me Ek Pehana Jaiz He"
(Ahkam e Shariat 2/30)
#63
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"Zakaat Saadaat e Karaam Par Haraam e Qat'ai He Jis Par Ijmaa He"
(Meezan ul Kubra 2/13)
(Fatawa Razawiya 10/99)
#64
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"Sheikhen (Abubakr o Umer) Ka Gustakh Mutlaqan Kafir He"
"Siddiqu e Akbar Ki Sahabiat Ka Munkir Kafir He"
(Durr e Mukhtar 1/83)
"Inki Khilafat Ka Munkir KafirAur Mola Ali Ko Sab Se Afzal Janne Wala Gumrah He"
(Khazana tul Muftin 1/28)
(Fatawa Razawiya 14/250)
#65
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"Yazid Beshak Paleed Tha, Isey Paleed Likhna Aur KehnaJaiz He. Rehmatullahi Alaih Na Kahe"
(Fatawa Razawiya 14/603)
#66
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"SAHABA Ke Name Ke Sath RadiyALLAHu anhu Aur Baad Wale ULAMA Ke Sath Rehmatullah Alaihi Kehna Ya Likhna Mustahab He Aur IskaUlat Bhi Jaiz He, Bahijjatul Israr Wa Jumla Tasanif Me Raaij He."
(Tanwirul Absar)
(Durr e Mukhtar Sharah 2/350)
(Fatawa Razawiya 23/390)
#67
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"Qabar Par Namaz Parhna, Qabar Ki Taraf Namaz, Musalman Ki Qabar Par PaunRakhna, Qabron Par Masjid Banana Sab Haraam.
Agar Masjid Me Koi Qabar Ajaye To Charo Taraf Thori Diwar Qaim Kar Ke Us Par Chatt Bana Len, Ab Deewar Ki Taraf Bi Jaiz He
(Irfan e Shariat V2)
#68
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"Moonchein Itni Barhana Ke Mun Me Aayen, Haraam o Sakht Gunaah Aur MushrikonKi Mushabihat He"
(Ahkaam e Shariat V2)

منقبت بر اعلٰی حضرت رحمتہ اللہ تعالٰی علیہ


تونے باطل کو مٹایا اےامام احمد رضا
دین کا ڈنکا بجایا اے احمد رضا
دور باطل اور ضلالت ہند میں تھا
جس گھڑی تو مجدد بن کے آیا اے امام احمد رضا
تھر تھرائے کانپاٹھے باغیان مصطفٰے
قہر بن کے ان پہ چھایا اے امام احمد رضا
علم کا دریا ہوا ہے موجزن تحریر میں
جب قلم تو نے اٹھایااے امام احمد رضا
خلق کو وہ فیض بخشا علم سے بس کیاکہوں
علم کا دریا بہایا اے امام احمد رضا
اے امام اہلسنت ! نائبشاہ ہدٰی !
کیجئے ہم پر بھیسایہ اے امام احمد رضا
فیض جاری ہی رہے گاحشر تک تیرا شہا
کام ہے وہ کر دکھایا اے امام احمد رضا
قبر پر ہو بارش انوار حق تیری سدا
ہو نبی کا تجھ پہ سایہ اے امام احمد رضا
ہے بدرگاہ خدا عطار عاجز کی دعا
تجھ پہ ہو رحمت کا سایہ اے امام احمد رضا.

KYA KHAN-e-KABA PAR WAHABIYO KA KABZA UNKE HAQ HONE KI DALEEL HAI




KYA KHAN-e-KABA PAR
WAHABIYO KA KABZA UNKE HAQ HONE KI DALEEL HAI
*************** **************
********
*************** **************
********

Makka madina ahle iman ka markaz hai magar yahan
shuru se batil firqe qabza karte aaye hain or yeh silsila aaj tak jari hai magar baaz naadan is haqeeqat ko yeh keh kar jhutla dete hain ki khuda ke ghar par kabza kaise ho sakta hai..?

yaad rahe yeh bhi Hamare rab ki hiqmat aur haq aur batil me farq karne ke liye
hai...
woh din yaad kijiye jab
mushirikeen makke par
kabiz the aur hamare pyare aaqa janab ahmade mujtaba
muhammad mustafa sallahu alahe wasalam wahan se hijrat kar ke madina munawwara tashreef le gaye.
khana kaaba us waqt
bhi allah ka ghar tha aur us me 360 buth rakhe hue the...

[BHUKHARI JILD.2 PAGE 614]

ab jo yeh kahe wahan kabza nahin ho sakta woh is hadees ka kya jawab dega,?
khane kaaba jo shuru se hi allah ki azmaton ka ghar raha hai wahan mushrikeen kaaba ki gird nange ho kar
tawaf karte the fathhe makka ke baad hamare pyare aaqa janab
ahmade mujtaba muhammad mustafa sallahu alahe wasalam nealain farmaya ab koi mushrik yahan nanga ho kar tawaf nahi kar sakta..

[BHUKHARI JILD.2 PAGE 206]

Is hadees se yeh baat wazeh ho gai ke waha batil firqe kabiz rahe
Yazeed paleed ne bhi
makka madina par kabza jamaya.
makke madine ki
be hurmati ki masjid ke
sutnoon se ghoore bandhe jo nijasat karte.. 3 din masjide nawvi me
naamaz band karai , kaabe par patthar barsaye,
gilafe kaaba phada, makke madine ki paak biwiviyan apnee
kammine ka
shkar par hallah ki aur zina ki ijazat de di,
sahabi-e-rasool
abdullah bin zubair ko
suuli chadaya aur 3 din tak unki laash baazar me latki rahi

[IRFAN-E-SHARIY AT JILD.2 PAGE.31,
TAKMILUL IMAN PAGE.71 , TABRANI]

kya is paleed ki kaabe par hukumat uske haq hoone ki daleel hai
hamare pyare aaqa janab ahmade mujtaba muhammad mustafa sallahu alahe wasalam kewisal ke baad
360 hijri me zaakat ke
munkireen ne makka
madina par kabza jamaya
aur murtad abu tahir
quramti ki wajah se hajj
band ho gaya wahan hajiyon
ko shaheed kiya gaya aur
mazeed zulm ye hua ke 20
saal tak hajre aswad ko
kaabe se juda rakha gaya
(yeh log qaramti firqe ke
naam se bhi jane jate
hain)

[HUJJA TULLAH ALAL AALAMEEN
JILD.2 PAGE.829]

654 hijri me khalifa
musthasim billah ke daur me shia rafzion ne
makka aur madina par qabza jamaya ,
ye woh zamana tha
ke makka madina ke
tammam imam or khateeb sab shia the. wahan sunni hona
to door ki baat sunnion ki kitab padhne par bhi
pabandi thi..

[WAFA UL WAFA JILD.1 PAGE.429]

agar imame kaaba haq hone ki alamat hai shia bhi imame kaba tha kya ye bhi haq par tha.
kya musalmano ki naamaz is shia imam ke
piche hoti hogi jo ye
kehte hai imame kaba ko bura mat kaho woh yahan kya jawab denge
ab jo jawab shia imam ke bare mehai wahi jawab najdi imam ke bare me
hai inhi firqo me se ibne
abdul wahab najdi ne bhi makke madina par kabza jamaya ,
masjid aur mazarate sahaba ko shaheed
karaya ,
darood o salam band
karaya ,
ulmao ko shaheed
karaya ,
sunnion par kufr aur
shirk ka fatwa lagaya ,

[TAWASSULU BINNABI PAGE.105,
RADDUL MUHTAR ALA DURRE MUKHTAR KITABUL IMAN PAGE.309]

is gumrah firqe aur is ke
manne walon ke bare me allama shami rehmatullah aleh ne inki mazzamat me apni book me likhte
hain.:
jaisa ki hamare zamane
main ibne abdul wahab
najdi ke manne walon ka waqia ronoma hua ye log najd se nikle aur makka aur madina par inhone kabza kar liya apne ko hambli kahte the lekin inka aqeeda yeh tha ki hum hi
musalman hain aur jo
hamare aqeede ke khilaf hai woh mushrik hai is liye inhone ahle sunnat ka Qatl jaiz samjha aur ulma ko shaheed kiya

[DURRE MUKHTAR JILD.16 PAGE.377]

1925 me ek baar phir najdi aqaid ke hamil shah abdul aziz najdi wahabi ne makka madina par qabza
jamaya 10,000 se zayada
sahaba o ahle bait ke
maazar ko giraya , darood o salam band karaya ,
makka ka mauzzin azan ke baad darood padta tha usko yeh
kaam karne se shaheed kar dala

[TAWASSULU BINNABI PAGE.105]

makka madina me milad manana, charagha karna ,
darood o salam parhna to door ki baat wahabiyo ne
ye fatwa bhi de diya k
hamare pyare aaqa janab ahmade mujtaba muhammad mustafa sallahu alahe wasalam k roze par salam
padna biddat hai..

[FATHUL MAJID SHARAK KITABUT TOHID PAGE.219]

ab samjhe aap ke wahan mamulate ahle sunnat par pabandi kyun hai.... —

ضعفِ اِعتقاد پر مبنی رسوم سے اِجتناب کی ضرورت

 




دینِ اسلام کے احکام اور اوامر و نواہی کا منبع اور سرچشمہ قرآن اور سنت و سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔ اچھے اور صالح اسلامی معاشرے میں لوگ اطاعت الٰہی اور اتباع رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہی معیار عمل سمجھتے ہیں۔ تاہم دین سے دوری اور بے عملی کیوجہ سے ہر دور میں کچھ طبقات معاملاتِ حیات میں ڈگمگا جاتے ہیں۔ ایسے میں علمائےحق اور داعیان دین کا فریضہ ہوتا ہے کہ وہ سادہ لوح لوگوں کی ہدایت و رہنمائی فرمائیں۔ جائز اور ناجائز میں، حلال و حرام میں، توحید اور شرک میں فرق سمجھائیں۔احکامِ دین کی تبلیغ میں ذاتی مفادات کو آڑےنہ آنے دیں ورنہ دین کھیل بن جائے گا۔ ذیل میں اسی طرح کے کچھ امور کا ذکر ہو رہا ہے جن میں احتیاط اور پرہیز ضروری ہے مثلاً

مزارات کے درختوں کےنیچے منتیں ماننا

بعض مزارات کے قریب بیری وغیرہ کے درخت ہوتے ہیں جن کے نیچے لوگ چادریں بچھا کر بیٹھتے ہیں۔ اگر بیر گرے تو اُس کا احترام بجا لاتے ہیں اور اُس سے روزہ افطار کرنا ضروری خیال کرتے ہیں۔ بیری کے پھل سے بیٹےکی فال نکالتے ہیں اور اگر پتے گریں تو بیٹیوں کی فال نکالتےہیں۔ کوئی شخص خود بیر توڑ لے تو اُسے بھی سخت براگردانتے ہیں۔ یہ تمام اُمور توہم پرستی کو فروغ دینے والے ہیں اور ایسے تمام اُمور بے بنیاد ہیں اور شرعاً ان کی کوئی اصل نہیں لہٰذا علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو حقائق سے آگاہ کریں۔

اسی طرح قبر بلامقبور کی زیارت کرنے کی کوئی اصل نہیں ہے۔بعض جہلاء فرضی مزارات بنا کر اس کےساتھ اصل کا سا معاملہ کرتے ہیں جس کی فقہائے کرام نے اجازت نہیں دی۔ جس طرح کہ بعض جگہ لوگوں نے حضرت سیدنا شیخ عبدالقادر جیلا نی رحمۃ اللہ علیہ کے نام سے مزارات وغیرہ بنائے ہوئے ہیں جن پر عرس کرتے ہیں۔

محدث بریلوی رحمۃ اللہعلیہ سے اس سلسلے میں پوچھا گیا کہ’’پیرانِ پیر رحمۃ اللہ علیہ کے نام سے بعض جگہ مزار بنا لیا گیا ہے۔ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ اِن کے مزار کی اینٹ دفن ہے۔ اِس مزار میں ایسی.جگہ جا کر عرس کرنا، چادر چڑھانا کیسا ہے وہ قابلِ تعظیم ہے یا نہیں؟‘‘ آپ نے جواب دیا :

’’جھوٹا مزار بنانا اور اُس کی تعظیم جائزنہیں۔‘‘

فتاویٰ رضويه، 4 : 116

اِسی طرح بعض اولیاء اللہ کے مزارات کے قریب ایسے درخت ہوتے ہیں جن کے بارے میںلوگوں میں مشہور ہوتا ہے کہ اِن کے کاٹنےسے صاحبانِ مزار ناراض ہو جاتے ہیں لہٰذا اِنہیں کاٹنا مقاماتِ حرم کی طرح حرام ہے۔ یہسراسر جہالت ہے اور یہ بھی شرک فی التحریم ہے۔ علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ درست اور غلط عقیدے میں امتیاز پیدا کریں اورایسے شرکیہ عقائد سے عوام و خواص کو منع کریں۔

سر پر چوٹی رکھنا

مردوں کا سر پر کسی.بھی بزرگ کے نام پر چوٹی رکھنا اور پھر کٹوانے کی نذر ومنت ماننا شرعاً جائز نہیں۔ اعلیٰ حضرت محدث بریلوی رحمۃ اللہعلیہ نے نہایت عمدہ لکھا ہے۔ آپ سے پوچھا گیا کہ کیا مرد کو چوٹی رکھنا جائز ہے یا نہیں؟ بعض فقیر چوٹی رکھتے ہیں؟

آپ نے فرمایا کہ حرام ہے، حدیث میں آیا ہے:
أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم لَعَنَ الْمُتَشَبِّهِيْنَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ وَالْمُتَشَبِّهَاتِ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ.

[ابن ماجة، السنن، کتابالنکاح، باب فی المخنثين، 1 : 614، رقم :1904].

’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان مردوں پر جو عورتوں سے مشابہت رکھیں اور ایسی عورتوں پر جو مردوں سے مشابہت پیدا کریں، لعنت کی ہے۔‘‘

احمد رضا خان، الملفوظ، 2 : 210

بچوں کے سر پر اولیاء کے نام کی چوٹی رکھنے کے متعلق حضرت فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ مزید لکھتے ہیں :

’’بعض جاہل عورتوں میں دستور ہے کہ بچے کے سر پر بعض اولیائے کرام کے نام کی چوٹی.رکھتی ہیں اور اِس کی کچھ میعاد مقرر کرتی ہیں۔ اِس میعاد تک کتنی ہی بار بچےکا سر منڈے وہ چوٹی برقرار رکھتی ہیں، پھر میعاد گذار کر مزارپر لے جا کر وہ بال اُتارتی ہیں تو یہ محض بے اصل و بدعت ہے۔‘‘

فتاوي افريقه : 68

مختلف درختوں میں ارواحِ شہداء و اولیاء کا تصور کرنا

کئی دیہاتوں میں بعض جہلاء درختوں کے ساتھ عجیب و غریب داستانیں وضع کئے ہوئے ہیں اور فرضی قصے کہانیاں سنا کر مجاور لوگ لنگر کے لئے تحائف و ہدایا اکٹھے کرتے ہیں۔ اِنسے متعلق محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ سے مسئلہ پوچھا گیا : ’’کیا فرماتے ہیں علمائے اہلسنت اِس صورت میں کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ فلاں درخت پر شہید مرد ہیں اور فلاں طاق میں شہید مرد رہتے ہیںاور اُس درخت اور اُس طاق کے پاس جا کر ہر جمعرات کو فاتحہ،شیرینی اور چاول وغیرہ دلاتے ہیں، ہار لٹکاتے ہیں، لوبان سلگاتے ہیں، مرادیں مانگتے ہیں اور ایسا دستور اِس شہر میں بہت جگہ واقع ہے، کیا شہید مردان درختوں اور طاقوں میں رہتے ہیں اور یہ اشخاص حق پر ہیں یا باطل؟‘‘

محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس سے منع کرتے ہوئے جواب دیا : ’’یہ سب واہیات و خرافات اور جاہلانہ حماقات و بطالات ہیں اِن کا ازالہ لازم ہے۔ ما أنزل اﷲ بها من سلطان ولاحول ولاقوة إلا باﷲ العلي العظيم.‘‘

احمد رضا خان، احکام شريعت، 1 : 32

حلف میں احتیاط کا پہلو

شرعی حلف اللہ تعالیٰ کے نام کا ہوتا ہے تاہم فقہائے اُمت کےنزدیک کلام اللہ اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پر بھی حلف منعقد ہوجاتا ہے اور مستقبل میں کسی اَمر کے کرنے یا نہ کرنے پر قسم کھانا اور پھر توڑ دینے کی صورت میں کفّارہ لازم ہو جاتا ہے۔ اِس کے علاوہ اگر کوئی شخص کسی اور کے نام کا حلف اُٹھائے اور یہ عقیدہ رکھے کہ اِس کی حرمت اور حیثیت اُسی طرح ہے جیسے اللہ تعالیٰ کی یا کلام اللہ اور رسول اللہصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حلف کی، تو یہعقیدہ اصلاح طلب ہے کیونکہ اعتقاداً کسی اورکے نام پر قسم کی حرمت کو اللہ تعالیٰ کی قسم کی مثل جاننا شرک ہے۔ اگر کوئی شخص بوجہ جہالت یا سہواً کسی اور کی قسم.اُٹھائے تو وہ شرعی حلف نہیں ہوگا اِس لئے اِس پر کفّارہ لازم.نہیں۔

ایصالِ ثواب اور نذر و نیاز کے طریقوں میں احتیاط

نذر و نیاز برائے ایصالِ ثواب اور گیارہویں شریف وغیرہ جیسے مباح مستحب اور مستحسن اُمور کے بارے میں بعض علاقوں میں بہت سی چیزیں بوجہ جہالت رواج.پا گئی ہیں جو ازروئےشرع جائز نہیں مثلاً کوئی یہ کہے کہ اگر اُس نے گیارہویں کا دودھ نہ دیا تو اِس کی وجہ سے بھینس.یا گائے مر جائے گی، وہ بیمار ہو جائے گی یا رزق کم ہو جائے گا، اولاد کی موت واقع ہو جائے گی، گھر میں نقصان ہو جائے گا۔ اِسی طرح کاروبار اور کھیتی میں بزرگوں کا حصہ یعنی زکوٰۃ اور عشر شرعی وغیرہ سے الگ بزرگوں کی سالانہ شیرینی جو عوام میں مروج ہے یہ شرعاً دینا تو جائز ہے لیکن.نہ دینے پر توہم پرستی کو فروغ دینا جائز نہیں ہے۔ یہ تمام باتیں بوجہ جہالت.فروغ پا جاتی ہیں اور پھر لوگ اِن کے ساتھ نفع و نقصان کا عقیدہ وابستہ کر لیتے ہیں جو کہ شرک فی العبادت ہے لہٰذا اِن اُمور سے بچنا ضروری ہے۔

ائمہ اہلِ بیت اطہار کے لئے نیاز برائے.ایصالِ ثواب مسلمانوں کامعمول ہے۔ اس عمل میںبھی بعض حالتوں میں افراط و تفریط کا عنصر موجود ہے۔ اس مستحب عمل کو بجا لانے والے اگر نذر کی طرح فرض اور واجب سمجھ کر اسے ادا کریں تو یہ بھی احکامِ شریعت سے انحراف ہے۔ اسی طرح اس کے رد عمل میں بعض لوگ اس مستحب عمل کوقطعی حرام اور شرک کے زمرے میں شامل کرکے ختمِ نیاز وغیرہ کا اہتمام کرنے والوں کو مشرک ٹھہراتے ہیں حالانکہ یہ عمل مستحب ہے اس میں حرمت اور شرک کی کوئی علت موجود نہیںہوتی۔ ایسی نذر و نیاز کے ساتھ بعض لوگ اپنی طرف سے طرح طرح کی شرائط و حدود اور پابندیاں عائد کرتے ہیں

مثلاً فلاں شخص کھا سکتا ہے، فلاں عورت نہیںکھا سکتی، گھر سے باہر لے جانا منع ہے وغیرہ وغیرہ۔ اِسی طرح اولیاء اللہ کے نام جانوروں کو منسوب کر کے اُن کا احترام بجا لانا، اُن سے کوئی کام.لینا شرعاً حرام سمجھنا اور اُن کی بے حرمتی کو بھی حرام سمجھنا ایسا عقیدہ شرک فی التحریم میں شمار ہوتا ہے لہٰذا عوام پر ایسی باریکیاں واضح کر دینی چاہئیں۔
.

ASHRA MUBASSHARA BIL JANNAH


Wednesday, October 16, 2013

قول صحابہ رضی اللہ عنھم : حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ امت میں سب سے افضل ہیں






1. قال سالم بن عبداﷲ أنّ ابن عمر قال : کنّا نقول و رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم حيّ، ’’أفضل أمّة النّبيّ صلي الله عليه وآله وسلم بعده أبوبکر، ثمّ عمر،ثمّ عثمان رضي اﷲ عنهمأجمعين.

’’حضرت سالم بن عبد اﷲ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہعنہ نے ارشاد فرمایا : ہم.حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی (ظاہری) حیات طیبہ میں کہا کرتے تھے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُمت میں سب سے افضل ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور پھر (ان کے بعد) حضرت عثمان.رضی اللہ عنہ ہیں۔‘‘

1. ابو داؤد، السنن، 4 : 211، کتاب السنة، رقم : 4628

2. ابن ابي عاصم، السنه، 2 : 540، رقم : 1140

3. مبارکپوري، تحفة الأحوذي، 10 : 138

2. عن ابن عمر رضي اﷲ عنهما قال : ’’کنّا نخ ي ّر بين النّاس فيزمن النّبيّ صلي الله عليه وآله وسلم، فنخيّر أبابکر، ثمّ عمر ابن الخطّاب، ثمّ عثمان بن عفّان رضي اﷲ عنهم‘‘.

حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک زمانہ میں جب ہم صحابہ کرام کے درمیان کسی کو ترجیح دیتے تو سب پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ترجیح دیا کرتے، پھر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہعنہ کو، پھر حضرت عثمان بن عفان رضی اللہعنہ کو۔

1. بخاري، الصحيح، 3 :1337، کتاب المناقب، رقم : 3455! 3494

2. ابن جوزي، صفة الصفوه، 1 : 306

3. مبارکپوري، تحفة الاحوذي، 10 : 138

4. محب طبري، الرياض النضرة، 1 : 297

3. عن محمّد ابن الحنف ي ّة قال : قلت لأ بي: أيّ النّاس خير بعد رسول اﷲ صلي الله عليهوآله وسلم ؟ قال : أبوبکر، قلت : ثمّ من؟ قال : ثمّ عمر و خشيت أن يّقول عثمان، قلت : ثمّ أنت؟ قال : ما أنا إلّا رجل مّن المسلمين.

’’حضرت محمد بن حنفیہرضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا : میں نے اپنے والد(حضرت علی رضی اللہ عنہ) سے دریافت کیا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سب سے بہتر کون ہے؟ انہوں نے فرمایا : ابوبکر رضی.اللہ عنہ پھر میں نے کہا : ان کے بعد؟ انہوں نے فرمایا : عمر رضی اللہ عنہ۔ تو میں نے اس خوف سے کہ اب وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا نام لیں گے خود ہی کہہ دیا کہ پھر آپ ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ’’نہیں میں تو مسلمانوں میں سے ایک عام مسلمان ہوں۔‘‘

1. بخاري، الصحيح، 3 :1342، کتاب المناقب، رقم : 3468

2. ابو داؤد السنن 4 : 206کتاب السنة، رقم : 4629

3. طبراني، المعجم الاوسط، 1 : 247، رقم : 810

4. ابن أبي عاصم، السنة، 2 : 480، رقم : 993

5. احمد بن حنبل، فضائل الصحابه، 1 : 321، رقم : 445

6. احمد بن حنبل، فضائل الصحابه، 1 : 371، رقم : 553

7. ابن الجوزي، صفة الصفوة، 1 : 250

8. عبدالله بن احمد، السنه، 2 : 569، رقم : 1332

9. عبدالله بن احمد، السنه، 2 : 578، رقم : 1363

10. محب طبري، الرياض النضره، 1 : 321

11. نووي، تهذيب الاسماء، 2 : 477

12. بيهقي، الاعتقاد، 1 :367
نوٹ : یہ بیان آپ رضی.اللہ عنہ کے کمال درجہعجز و انکسار اور دوسروں کے لیے محبت و احترام کا آئینہ دار ہے۔ یہی کردار حقیقی عظمت کی دلیل ہے۔

4. عن عبداﷲ بن سلمة قال : سمعت عليّايقول : ’’خير النّاس بعد رسول اﷲ صلي الله عليهوآله وسلم أبوبکر وخير النّاس بعد أبي بکر، عمر‘‘.

’’عبد اﷲ بن سلمۃ رضی اللہ عنہ سے مرویہے، انہوں نے کہا : کہ میں نے حضرت علی.رضی اللہ عنہ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا، آپ فرما رہے تھے رسُول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد لوگوں میں سب سے افضل ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیںاور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعدسب سے افضل عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔‘‘

1. ابن ماجه، السنن، 1 : 39، مقدمه، رقم : 106

2. احمد بن حنبل نے ’ (فضائل الصحابہ، 1 : 365، رقم : 536)‘ ميں ابو حجيفہ سے روايت کيا ہے۔

3. ابونعيم، حلية الاولياء، 7: 199، 200

4. ابو نعيم نے ’ (حليۃ الاولياء، 8 : 359)‘ ميں ابو حجيفہ سے روايت کيا ہے۔

5. خطيب بغدادي، تاريخ بغداد، 5 : 213، رقم : 3686

6. خطيب بغدادي، تاريخ بغداد، 8 : 376، رقم؛ 4476

7. عبداللہ بن محمد نے، (طبقات المحدثين باصبہان، 2 : 287، رقم : 176)‘ ميں وہب السوائيسے روايت کيا ہے۔

8. مزي، تهذيب الکمال، 21 : 325

9. عسقلاني، الاستيعاب، 3 : 1149

5. عن نّافع عن ابن عمرقال : ’’کنّا نقول في زمن النّبيّ صلي الله عليه وآله وسلم لا نعدل بأبي بکر أحدا ثمّ عمر ثمّ عثمان ثمّ نترک أصحاب النّبيّ صلي الله عليه وآله وسلم لا نفاضل بينهم . ‘‘

حضرت نافع، حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲعنھما سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا : ’’ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہوآلہ وسلم کے زمانہ اقدس میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے برابر کسی کو شمار نہیں کرتے تھے۔ پھر اُن کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو، پھر ان کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو اُن کے بعدہم باقی اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک دوسرے پر فضیلت نہیں دیتے تھے۔‘‘

1. بخاري، الصحيح، 3 :1352، رقم : 3494

2. ابو داؤد، السنن، 4 : 206، کتاب السنة، رقم : 4627

3. ابن ابي عاصم، السنه، 2 : 567، رقم : 1192

4. عسقلاني، فتح الباري، 7 : 16، رقم : 3455

5 مبارکپوري، تحفةاالأحوذي، 10 : 138

6. نووي، تهذيب الأسماء، 1 : 299

7. سيوطي، تدريب الراوي، 2 : 223

6. عن بن عمر قال : کنّا نعدّ ورسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم حيّ وأصحابه متوافرون’’أبوبکر وعمر و عثمان‘‘ ثمّ نسکت.

’’حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنھما سے روایت ہے، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ظاہری حیات طیبہ میں جبکہ آپ.صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کافی تعداد میںتھے ہم اس طرح شمارکیا کرتے تھے۔’’حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت.عثمان رضی اللہ عنہ‘‘ اور پھر خاموش ہو جاتے تھے۔‘‘

1. احمدبن حنبل، المسند،2 : 14، رقم : 4626
2. ابن أبي شيبه، المصنف، 6 : 349، رقم : 31936
3. ابويعلي، المسند، 10 : 161، رقم : 5784
4. طبراني، المعجم الکبير، 12 : 345، رقم : 13301
5. ابن ابي عاصم، السنه، 2 : 568، رقم : 1195
6. احمد بن حنبل، فضائل الصحابه، 1 : 90،رقم : 58
7. عبدالله بن احمد، السنه، 2 : 574، رقم، 1350
8. خلال، السنه، 2 : 371،رقم : 507، 384، رقم : 541، 396، رقم : 572
9. لالکائي، اعتقاد اهل السنه، 1 : 159

7. عن جابر بن عبداﷲ رضي الله عنه قال : قالعمر بن الخطّاب ذات يوم لأبي بکر الصديق رضي الله عنه ’’ يا خير النّاس بعد رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم‘‘

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا: ’’اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سب سے بہتر‘‘

1. ترمذي، الجامع الصحيح، 5 : 618، رقم : 3684

2. حاکم، المستدرک، 3 :96، رقم : 4508

3. تهذيب الکمال، 18 :29، رقم : 3402

8. عن أسد بن زرارة قال رأيت رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم خطب النّاس فالتفت التفافتة فلم ير أبا بکر فقال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم أبوبکر. أبوبکر! إنّ روح القدس جبريل عليه السّلامأخبرني اٰنفا إنّ خير أمّتک بعدک أبوبکر الصّدّيق.

’’حضرت اسد بن زرارۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں۔ میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لوگوں کو خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے دیکھا۔ آپ صلی اللہعلیہ وآلہ وسلم نے توجہفرمائی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کونہ دیکھا (پایا)۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوبکر ابوبکر پکارا کہ روح القدس جبرئیل علیہ السلام نے مجھے خبر دی ہے ’’کہ آپ کی امت میں سب سے بہتر آپ کے بعد ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں۔‘‘

1. طبراني، المعجم الاوسط، 6 : 292، رقم : 6448

2. هيثمي، مجمع الزوائد،9 : 44

9. عن أبي الدّرداء قال: راٰني النّبيّ صلي الله عليه وآله وسلم و أنا أمشي أمام أبي بکر فقال : لم تمشي أمام من هو خير مّنک؟ إنّ أبابکر خير من طلعت عليهالشّمس أو غربت.

’’حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،فرماتے ہیں : حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دیکھا کہمیںحضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے آگے آگےچل رہا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ارشاد فرمایا : تم اُس ہستی کے آگے کیوں چل رہے ہو جو تم سے بہت بہتر ہے؟. بے شک ابوبکررضی اللہ عنہ ہر اُس شخص سے بہتر ہیں جس پر سورج طلوع یا غروب ہوتا ہے۔‘‘

1. احمد بن حنبل، فضائل الصحابه، 1 : 154، رقم : 137

2. ابن أبي عاصم، السنه، 2 : 576، رقم : 1224

3. هيثمي، مجمع الزوائد،9 : 44

4. خيثمه، من حديث خيثمه، 1 : 133

5. ديلمي، الفردوس بمأثور الخطاب، 5 : 351

6. محب طبري، الرياض النضره، 2 : 105

10. عن أبي جحيفة قال قال عليّ رضي الله عنه خير هذه الامّة بعدنبيّها أبوبکر و عمر.

’’ابو جحيفہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد اس امت میں سے بہتر ابو بکر اور عمر رضی اﷲ عنھما ہیں۔

1. ابن ابي شيبه، المصنف، 6 : 351، رقم : 31950

2. طبراني، المعجم الاوسط، 1 : 298، رقم : 992

3. طبراني، المعجم الاوسط، 7 : 85، رقم : 6926

4. احمد بن حنبل، المسند، 1 : 110، رقم : 880

5. ابن الجعد، المسند، 1 : 311، رقم : 2109

6. ابن ابي عاصم، السنه، 2 : 570، رقم : 1201

7. بزار نے ’ (المسند، 2: 130، رقم : 488)، ميں عمرو بن حريث سے روايت کيا ہے۔


وضاحت :

یہاں سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کی فضیلت اور دوسرے مقام پر سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان پڑھ کر ان میں باہمی تضاد یا تناقض تصور نہیں کرنا چاہیے۔ دونوں کی فضیلتوں کی حقیقت یہ ہے کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور جملہ اہلِ بیت اطہار کی فضیلت ان کے ذاتی مناقب، روحانی کمالات،نسبتِ قرابت اور شانِ ولایت میں ہے۔ جتنی قرآنی آیات اور احادیث اہلِ بیت اطہار کی شان میں وارد ہوئی ہیں کسی اور کی شان میں شخصی طور پر نہیں ہوئیں. جبکہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی فضیلت، فرائضِ خلافت، اقامتِ دین، اسلام اور امت کی ذمہ داریوں سے متعلق ہے۔ ائمہ نے افضلیت کی جو ترتیب بیان کی ہے وہ خلافت ظاہری کی ترتیب پر قائم ہے۔ ولایت باطنی جو ’’من کنت مولاہ فعلی مولاہ‘‘ (٭) کے ذریعے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو عطا ہوئی اس میں وہی یکتا ہیں۔ اسی وجہ سےولایت کبریٰ اور غوثیت عظمیٰ کے حامل افراد بھی آپ رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ دونوں جدا جدا نوعیت کی فضیلتیں ہیں۔

(٭) 1. ترمذي، الجامع الصحيح، 6 : 79، ابواب المناقب، رقم : 3713

2. احمد بن حنبل، المسند، 5 : 347

3. حاکم، المستدرک، 3 :533، رقم : 6272

4. ابن ابي شيبه، المصنف، 12 : 59، 12121

اس میں کوئی شک نہیں کہ فضائلِ ولایت، روحانی کمالات اور نسبتِ قرابت میں اہلِ بیت اطہار کے برابر کوئی نہیں ہوسکتا. کیونکہ ان میں کئی ایسے خصائص ہیں جو صرف ان ہی کو حاصل ہیں کسی اور کو نہیں، ان میں موازنہ اور مقابلہ بھی جائز نہیں۔ کسی کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شانہ بشانہ چلا رہے ہیں اور کسی کو چلتےہوئے شانوں پر بٹھا رہے ہیں۔ کسی کو مجلس میں اپنے قریب ترین بٹھا رہےہیں اور کسی کو گود میں کھیلا رہے ہیں۔ کچھ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دست بوسی اور قدم بوسی کی سعادت سے فیضیاب ہو رہے ہیں اور کچھ وہ ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود ان کو بوسۂ محبت سے نواز رہے ہیں۔ کچھ وہ ہیں جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہم کلام ہوتے ہوئے اپنے ماں باپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قربان کر رہے ہیں اور کچھ وہ بھی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے ہمکلام ہوتے ہوئے اپنے ماں باپ ان پر قربان کر رہے ہیں جیسا کہ فاطمۃ الزہراء سلام اﷲ علیہا اورحسنین کریمین رضی اﷲ عنہما کے لئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

فداک أبي و اُمي.

’’فاطمہ! میرے ماں باپ.تجھ پر قربان ہوں‘‘

1. حاکم، المستدرک، 3 :170، رقم : 4740
2. ابن حبان، الصحيح، 2: 470، 471، رقم : 696

بأبي هما و أمي.

’’میرے ماں باپ حسنین پر قربان ہوں۔‘‘

ثابت ہوا کہ یہ دو ایسی جدا جدا فضیلتیں ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وفادار اور ادب شعار اُمتی.صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اور اہلِ بیت عظام.علیھم الصلوۃ والسلام میں کبھی بھی مقابلہ اور موازنہ کا تصور نہیں کرسکتے۔

1. ابن حبان، الصحيح، 5: 426، رقم : 2970
2. ابن ابي شيبه، المصنف، 6 : 378، رقم : 3214
3. طبراني، المعجم الکبير، 3 : 47، رقم : 2644
4. هيثمي، موارد الظمآن، 1 : 552، رقم : 2233

~*~ ~*~ ~*~