دینِ اسلام کے احکام اور اوامر و نواہی کا منبع اور سرچشمہ قرآن اور سنت و سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔ اچھے اور صالح اسلامی معاشرے میں لوگ اطاعت الٰہی اور اتباع رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہی معیار عمل سمجھتے ہیں۔ تاہم دین سے دوری اور بے عملی کیوجہ سے ہر دور میں کچھ طبقات معاملاتِ حیات میں ڈگمگا جاتے ہیں۔ ایسے میں علمائےحق اور داعیان دین کا فریضہ ہوتا ہے کہ وہ سادہ لوح لوگوں کی ہدایت و رہنمائی فرمائیں۔ جائز اور ناجائز میں، حلال و حرام میں، توحید اور شرک میں فرق سمجھائیں۔احکامِ دین کی تبلیغ میں ذاتی مفادات کو آڑےنہ آنے دیں ورنہ دین کھیل بن جائے گا۔ ذیل میں اسی طرح کے کچھ امور کا ذکر ہو رہا ہے جن میں احتیاط اور پرہیز ضروری ہے مثلاً
مزارات کے درختوں کےنیچے منتیں ماننا
بعض مزارات کے قریب بیری وغیرہ کے درخت ہوتے ہیں جن کے نیچے لوگ چادریں بچھا کر بیٹھتے ہیں۔ اگر بیر گرے تو اُس کا احترام بجا لاتے ہیں اور اُس سے روزہ افطار کرنا ضروری خیال کرتے ہیں۔ بیری کے پھل سے بیٹےکی فال نکالتے ہیں اور اگر پتے گریں تو بیٹیوں کی فال نکالتےہیں۔ کوئی شخص خود بیر توڑ لے تو اُسے بھی سخت براگردانتے ہیں۔ یہ تمام اُمور توہم پرستی کو فروغ دینے والے ہیں اور ایسے تمام اُمور بے بنیاد ہیں اور شرعاً ان کی کوئی اصل نہیں لہٰذا علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو حقائق سے آگاہ کریں۔
اسی طرح قبر بلامقبور کی زیارت کرنے کی کوئی اصل نہیں ہے۔بعض جہلاء فرضی مزارات بنا کر اس کےساتھ اصل کا سا معاملہ کرتے ہیں جس کی فقہائے کرام نے اجازت نہیں دی۔ جس طرح کہ بعض جگہ لوگوں نے حضرت سیدنا شیخ عبدالقادر جیلا نی رحمۃ اللہ علیہ کے نام سے مزارات وغیرہ بنائے ہوئے ہیں جن پر عرس کرتے ہیں۔
محدث بریلوی رحمۃ اللہعلیہ سے اس سلسلے میں پوچھا گیا کہ’’پیرانِ پیر رحمۃ اللہ علیہ کے نام سے بعض جگہ مزار بنا لیا گیا ہے۔ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ اِن کے مزار کی اینٹ دفن ہے۔ اِس مزار میں ایسی.جگہ جا کر عرس کرنا، چادر چڑھانا کیسا ہے وہ قابلِ تعظیم ہے یا نہیں؟‘‘ آپ نے جواب دیا :
’’جھوٹا مزار بنانا اور اُس کی تعظیم جائزنہیں۔‘‘
فتاویٰ رضويه، 4 : 116
اِسی طرح بعض اولیاء اللہ کے مزارات کے قریب ایسے درخت ہوتے ہیں جن کے بارے میںلوگوں میں مشہور ہوتا ہے کہ اِن کے کاٹنےسے صاحبانِ مزار ناراض ہو جاتے ہیں لہٰذا اِنہیں کاٹنا مقاماتِ حرم کی طرح حرام ہے۔ یہسراسر جہالت ہے اور یہ بھی شرک فی التحریم ہے۔ علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ درست اور غلط عقیدے میں امتیاز پیدا کریں اورایسے شرکیہ عقائد سے عوام و خواص کو منع کریں۔
سر پر چوٹی رکھنا
مردوں کا سر پر کسی.بھی بزرگ کے نام پر چوٹی رکھنا اور پھر کٹوانے کی نذر ومنت ماننا شرعاً جائز نہیں۔ اعلیٰ حضرت محدث بریلوی رحمۃ اللہعلیہ نے نہایت عمدہ لکھا ہے۔ آپ سے پوچھا گیا کہ کیا مرد کو چوٹی رکھنا جائز ہے یا نہیں؟ بعض فقیر چوٹی رکھتے ہیں؟
آپ نے فرمایا کہ حرام ہے، حدیث میں آیا ہے:
أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم لَعَنَ الْمُتَشَبِّهِيْنَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ وَالْمُتَشَبِّهَاتِ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ.
[ابن ماجة، السنن، کتابالنکاح، باب فی المخنثين، 1 : 614، رقم :1904].
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان مردوں پر جو عورتوں سے مشابہت رکھیں اور ایسی عورتوں پر جو مردوں سے مشابہت پیدا کریں، لعنت کی ہے۔‘‘
احمد رضا خان، الملفوظ، 2 : 210
بچوں کے سر پر اولیاء کے نام کی چوٹی رکھنے کے متعلق حضرت فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ مزید لکھتے ہیں :
’’بعض جاہل عورتوں میں دستور ہے کہ بچے کے سر پر بعض اولیائے کرام کے نام کی چوٹی.رکھتی ہیں اور اِس کی کچھ میعاد مقرر کرتی ہیں۔ اِس میعاد تک کتنی ہی بار بچےکا سر منڈے وہ چوٹی برقرار رکھتی ہیں، پھر میعاد گذار کر مزارپر لے جا کر وہ بال اُتارتی ہیں تو یہ محض بے اصل و بدعت ہے۔‘‘
فتاوي افريقه : 68
مختلف درختوں میں ارواحِ شہداء و اولیاء کا تصور کرنا
کئی دیہاتوں میں بعض جہلاء درختوں کے ساتھ عجیب و غریب داستانیں وضع کئے ہوئے ہیں اور فرضی قصے کہانیاں سنا کر مجاور لوگ لنگر کے لئے تحائف و ہدایا اکٹھے کرتے ہیں۔ اِنسے متعلق محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ سے مسئلہ پوچھا گیا : ’’کیا فرماتے ہیں علمائے اہلسنت اِس صورت میں کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ فلاں درخت پر شہید مرد ہیں اور فلاں طاق میں شہید مرد رہتے ہیںاور اُس درخت اور اُس طاق کے پاس جا کر ہر جمعرات کو فاتحہ،شیرینی اور چاول وغیرہ دلاتے ہیں، ہار لٹکاتے ہیں، لوبان سلگاتے ہیں، مرادیں مانگتے ہیں اور ایسا دستور اِس شہر میں بہت جگہ واقع ہے، کیا شہید مردان درختوں اور طاقوں میں رہتے ہیں اور یہ اشخاص حق پر ہیں یا باطل؟‘‘
محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس سے منع کرتے ہوئے جواب دیا : ’’یہ سب واہیات و خرافات اور جاہلانہ حماقات و بطالات ہیں اِن کا ازالہ لازم ہے۔ ما أنزل اﷲ بها من سلطان ولاحول ولاقوة إلا باﷲ العلي العظيم.‘‘
احمد رضا خان، احکام شريعت، 1 : 32
حلف میں احتیاط کا پہلو
شرعی حلف اللہ تعالیٰ کے نام کا ہوتا ہے تاہم فقہائے اُمت کےنزدیک کلام اللہ اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پر بھی حلف منعقد ہوجاتا ہے اور مستقبل میں کسی اَمر کے کرنے یا نہ کرنے پر قسم کھانا اور پھر توڑ دینے کی صورت میں کفّارہ لازم ہو جاتا ہے۔ اِس کے علاوہ اگر کوئی شخص کسی اور کے نام کا حلف اُٹھائے اور یہ عقیدہ رکھے کہ اِس کی حرمت اور حیثیت اُسی طرح ہے جیسے اللہ تعالیٰ کی یا کلام اللہ اور رسول اللہصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حلف کی، تو یہعقیدہ اصلاح طلب ہے کیونکہ اعتقاداً کسی اورکے نام پر قسم کی حرمت کو اللہ تعالیٰ کی قسم کی مثل جاننا شرک ہے۔ اگر کوئی شخص بوجہ جہالت یا سہواً کسی اور کی قسم.اُٹھائے تو وہ شرعی حلف نہیں ہوگا اِس لئے اِس پر کفّارہ لازم.نہیں۔
ایصالِ ثواب اور نذر و نیاز کے طریقوں میں احتیاط
نذر و نیاز برائے ایصالِ ثواب اور گیارہویں شریف وغیرہ جیسے مباح مستحب اور مستحسن اُمور کے بارے میں بعض علاقوں میں بہت سی چیزیں بوجہ جہالت رواج.پا گئی ہیں جو ازروئےشرع جائز نہیں مثلاً کوئی یہ کہے کہ اگر اُس نے گیارہویں کا دودھ نہ دیا تو اِس کی وجہ سے بھینس.یا گائے مر جائے گی، وہ بیمار ہو جائے گی یا رزق کم ہو جائے گا، اولاد کی موت واقع ہو جائے گی، گھر میں نقصان ہو جائے گا۔ اِسی طرح کاروبار اور کھیتی میں بزرگوں کا حصہ یعنی زکوٰۃ اور عشر شرعی وغیرہ سے الگ بزرگوں کی سالانہ شیرینی جو عوام میں مروج ہے یہ شرعاً دینا تو جائز ہے لیکن.نہ دینے پر توہم پرستی کو فروغ دینا جائز نہیں ہے۔ یہ تمام باتیں بوجہ جہالت.فروغ پا جاتی ہیں اور پھر لوگ اِن کے ساتھ نفع و نقصان کا عقیدہ وابستہ کر لیتے ہیں جو کہ شرک فی العبادت ہے لہٰذا اِن اُمور سے بچنا ضروری ہے۔
ائمہ اہلِ بیت اطہار کے لئے نیاز برائے.ایصالِ ثواب مسلمانوں کامعمول ہے۔ اس عمل میںبھی بعض حالتوں میں افراط و تفریط کا عنصر موجود ہے۔ اس مستحب عمل کو بجا لانے والے اگر نذر کی طرح فرض اور واجب سمجھ کر اسے ادا کریں تو یہ بھی احکامِ شریعت سے انحراف ہے۔ اسی طرح اس کے رد عمل میں بعض لوگ اس مستحب عمل کوقطعی حرام اور شرک کے زمرے میں شامل کرکے ختمِ نیاز وغیرہ کا اہتمام کرنے والوں کو مشرک ٹھہراتے ہیں حالانکہ یہ عمل مستحب ہے اس میں حرمت اور شرک کی کوئی علت موجود نہیںہوتی۔ ایسی نذر و نیاز کے ساتھ بعض لوگ اپنی طرف سے طرح طرح کی شرائط و حدود اور پابندیاں عائد کرتے ہیں
مثلاً فلاں شخص کھا سکتا ہے، فلاں عورت نہیںکھا سکتی، گھر سے باہر لے جانا منع ہے وغیرہ وغیرہ۔ اِسی طرح اولیاء اللہ کے نام جانوروں کو منسوب کر کے اُن کا احترام بجا لانا، اُن سے کوئی کام.لینا شرعاً حرام سمجھنا اور اُن کی بے حرمتی کو بھی حرام سمجھنا ایسا عقیدہ شرک فی التحریم میں شمار ہوتا ہے لہٰذا عوام پر ایسی باریکیاں واضح کر دینی چاہئیں۔
.
No comments:
Post a Comment