Pages

Wednesday, November 20, 2013

گناہوں کی بخشش و مغفرت کے لئے واسطۂِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم






. گناہوں کی بخشش و مغفرت کے لئے واسطۂِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم


اس کی گواہی قرآن دے رہا ہے۔ ارشاد فرمایا گیا :

وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذ ظَّلَمُواْ أَنفُسَهُمْ جَآؤُوكَ فَاسْتَغْفَرُواْ اللّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُواْ اللّهَ تَوَّابًا رَّحِيمًا O

’’اور (اے حبیب!) اگر وہ لوگ جب اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھے تھے آپ کی خدمت میں حاضر ہو جاتے اوراللہ سے معافی مانگتے اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی ان کے لئے مغفرت طلب کرتے تو وہ (اس وسیلہ اور شفاعت
کی بنا پر) ضرور اللہ کو توبہ قبول فرمانے والا نہایت مہربان پاتےo‘‘

النساء، 4 : 64

اس آیتِ کریمہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے مومنوں کو ان کے گناہوں اور لغزشوں کی مغفرت کے لئے بارگاہِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں آ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وسیلہ پکڑنے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو واسطہ بنانے کا حکم دیا ہے۔

جَآؤُوكَ کا مفہوم

مذکورہ آیتِ کریمہ میں لفظ ’’ جَآؤُوكَ ‘‘ کے ذریعے یہ واضح کردیا گیا کہ بارگاہِ رِسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قیامت تک لائقِ تعظیمو تکریم ہے۔ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے خطاکاروں کو آج بھی معافی اسی در سے تعلق اور واسطہ استوار کرنے سے ملتی ہے۔ بشرطیکہ وہ اس کایقین رکھتے ہوں۔ جو بھی دامنِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف متوجہ ہوگا، خواہ وہ ظاہراً بارگاۂِ نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حاضری میں ہو یا باطناً، محبت و عشق رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت سے ہو، یااطاعت و اتباع
رسول صلی اللہ علیہ وآلہوسلم کے ذریعے توسلاً اور توجہاً، سب صورتیں ’’ جَآؤُوكَ ‘‘ کے تحت واسطۂِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعبیریں ہیں کیونکہ

یہ گھر یہ دَر ہے اس کا جو گھر در سے پاک ہے
مژدہ ہو بے گھرو کہ صلا اچھے گھر کی ہے!
مجرم بلائے، آتے ہیں’’ جَآؤُوكَ ‘‘ ہے گواہ
پھر رد ہو کب یہ شان کریموں کے در کی ہے

یہ آیتِ کریمہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ ظاہری تک محدود نہیں بلکہ بعداز وصال بھی اس کا حکم اسی طرح باقی ہے جس طرح ظاہری حیاتِ طیبہ میں تھا۔

قابلِ غور نکتہ

یاد رہے کہ اس آیتِ کریمہ میں ظلم سے مرادگناہ، نافرمانی اور اﷲ تعالیٰ سے سرکشی ہے۔ ظاہر ہےیہ اﷲ تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث ہیں گویا مرادی معنی یہ ہوا کہ اگر لوگ اﷲ تعالی ٰکو ناراض کردیں تو معافی کے لئے تیرےپاس آئیں۔ یہاں قابلِ غور بات یہ ہے کہ جس کو ناراض کیاگیا اب راضی کرنے بھی
اس کی بارگاہ میں جانا چاہیے مثلاً اگر کوئی زید کو ناراض کردے اور معافی مانگنےکے لئے بکر کے پاس چلا جائے تو کیا زید اس کو معاف کردے گا؟ ہر گز نہیں۔ لیکن اُس دنیائے محبت کے تواصول و قواعدی ہی نرالے ہیں فرمایا ’’ جَآؤُوكَ ‘‘محبوب! اگر وہ مجھ سے اپنے گناہوں کی بخشش کے طلب گارہیں تو تیرے پاس آئیں اور پھر فرمایا فَاسْتَغْفَرُوا اﷲَ جب آجائیں تو پھر اﷲ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں۔
یہاں کوئی سوچ سکتا تھا کہ باری تعالیٰ اگر معافی ہی لینی تھی تو وہ گھر بھی مانگی جاسکتی تھی۔ وہ کسی مسجد میں بھی تجھ سے طلب کی جاسکتی تھی، بلکہ خانہ کعبہ اور مسجدِ حرام سے بڑھ کر اور کون سا مقام ہوگا۔ لیکن تو نے اس رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں پابندی کیوں لگائی؟ حالانکہ تو تو ہر جگہ اپنے بندوں کی دعا سنتا ہے کیونکہ تو نے خود ہی تو فرمایا ہے :

وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِيعَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌأُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُواْ لِي وَلْيُؤْمِنُواْ بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ O

’’اور (اے حبیب!) جب میرے بندے آپ سے میری نسبت سوال کریںتو (بتا دیا کریں کہ) میں نزدیک ہوں، میں پکارنے والے کی پکارکا جواب دیتا ہوں جب بھی وہ مجھے پکارتا ہے، پس انہیں چاہئے کہ میری فرمانبرداری اختیار کریں اور مجھ پر پختہ یقین رکھیں تاکہ وہ راہِ (مراد) پاجائیںo‘‘

پھر تیرا یہ بھی فرمان ہے کہ :

البقره، 2 : 186
وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ O

’’ اور ہم اس کی شہ رگسے بھی زیادہ اس کے قریب ہیںo‘‘
ق، 50 : 16

اس کے باوجود معافی کے لئے گناہگاروں کو اس رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دَر پر کیوں بلاتا ہے؟ تو فرمایا تمہیں یہی سبق سکھانا مطلوب تھا کہ :

بخدا خدا کا یہی ہے در، نہیں اور کوئی مفرمقر!
جو وہاں سے ہو یہیں آکے ہو جو یہاں نہیں تو وہاں نہیں .

No comments:

Post a Comment