Pages

Wednesday, October 16, 2013

قول صحابہ رضی اللہ عنھم : حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ امت میں سب سے افضل ہیں






1. قال سالم بن عبداﷲ أنّ ابن عمر قال : کنّا نقول و رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم حيّ، ’’أفضل أمّة النّبيّ صلي الله عليه وآله وسلم بعده أبوبکر، ثمّ عمر،ثمّ عثمان رضي اﷲ عنهمأجمعين.

’’حضرت سالم بن عبد اﷲ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہعنہ نے ارشاد فرمایا : ہم.حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی (ظاہری) حیات طیبہ میں کہا کرتے تھے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُمت میں سب سے افضل ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور پھر (ان کے بعد) حضرت عثمان.رضی اللہ عنہ ہیں۔‘‘

1. ابو داؤد، السنن، 4 : 211، کتاب السنة، رقم : 4628

2. ابن ابي عاصم، السنه، 2 : 540، رقم : 1140

3. مبارکپوري، تحفة الأحوذي، 10 : 138

2. عن ابن عمر رضي اﷲ عنهما قال : ’’کنّا نخ ي ّر بين النّاس فيزمن النّبيّ صلي الله عليه وآله وسلم، فنخيّر أبابکر، ثمّ عمر ابن الخطّاب، ثمّ عثمان بن عفّان رضي اﷲ عنهم‘‘.

حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک زمانہ میں جب ہم صحابہ کرام کے درمیان کسی کو ترجیح دیتے تو سب پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ترجیح دیا کرتے، پھر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہعنہ کو، پھر حضرت عثمان بن عفان رضی اللہعنہ کو۔

1. بخاري، الصحيح، 3 :1337، کتاب المناقب، رقم : 3455! 3494

2. ابن جوزي، صفة الصفوه، 1 : 306

3. مبارکپوري، تحفة الاحوذي، 10 : 138

4. محب طبري، الرياض النضرة، 1 : 297

3. عن محمّد ابن الحنف ي ّة قال : قلت لأ بي: أيّ النّاس خير بعد رسول اﷲ صلي الله عليهوآله وسلم ؟ قال : أبوبکر، قلت : ثمّ من؟ قال : ثمّ عمر و خشيت أن يّقول عثمان، قلت : ثمّ أنت؟ قال : ما أنا إلّا رجل مّن المسلمين.

’’حضرت محمد بن حنفیہرضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا : میں نے اپنے والد(حضرت علی رضی اللہ عنہ) سے دریافت کیا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سب سے بہتر کون ہے؟ انہوں نے فرمایا : ابوبکر رضی.اللہ عنہ پھر میں نے کہا : ان کے بعد؟ انہوں نے فرمایا : عمر رضی اللہ عنہ۔ تو میں نے اس خوف سے کہ اب وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا نام لیں گے خود ہی کہہ دیا کہ پھر آپ ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ’’نہیں میں تو مسلمانوں میں سے ایک عام مسلمان ہوں۔‘‘

1. بخاري، الصحيح، 3 :1342، کتاب المناقب، رقم : 3468

2. ابو داؤد السنن 4 : 206کتاب السنة، رقم : 4629

3. طبراني، المعجم الاوسط، 1 : 247، رقم : 810

4. ابن أبي عاصم، السنة، 2 : 480، رقم : 993

5. احمد بن حنبل، فضائل الصحابه، 1 : 321، رقم : 445

6. احمد بن حنبل، فضائل الصحابه، 1 : 371، رقم : 553

7. ابن الجوزي، صفة الصفوة، 1 : 250

8. عبدالله بن احمد، السنه، 2 : 569، رقم : 1332

9. عبدالله بن احمد، السنه، 2 : 578، رقم : 1363

10. محب طبري، الرياض النضره، 1 : 321

11. نووي، تهذيب الاسماء، 2 : 477

12. بيهقي، الاعتقاد، 1 :367
نوٹ : یہ بیان آپ رضی.اللہ عنہ کے کمال درجہعجز و انکسار اور دوسروں کے لیے محبت و احترام کا آئینہ دار ہے۔ یہی کردار حقیقی عظمت کی دلیل ہے۔

4. عن عبداﷲ بن سلمة قال : سمعت عليّايقول : ’’خير النّاس بعد رسول اﷲ صلي الله عليهوآله وسلم أبوبکر وخير النّاس بعد أبي بکر، عمر‘‘.

’’عبد اﷲ بن سلمۃ رضی اللہ عنہ سے مرویہے، انہوں نے کہا : کہ میں نے حضرت علی.رضی اللہ عنہ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا، آپ فرما رہے تھے رسُول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد لوگوں میں سب سے افضل ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیںاور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعدسب سے افضل عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔‘‘

1. ابن ماجه، السنن، 1 : 39، مقدمه، رقم : 106

2. احمد بن حنبل نے ’ (فضائل الصحابہ، 1 : 365، رقم : 536)‘ ميں ابو حجيفہ سے روايت کيا ہے۔

3. ابونعيم، حلية الاولياء، 7: 199، 200

4. ابو نعيم نے ’ (حليۃ الاولياء، 8 : 359)‘ ميں ابو حجيفہ سے روايت کيا ہے۔

5. خطيب بغدادي، تاريخ بغداد، 5 : 213، رقم : 3686

6. خطيب بغدادي، تاريخ بغداد، 8 : 376، رقم؛ 4476

7. عبداللہ بن محمد نے، (طبقات المحدثين باصبہان، 2 : 287، رقم : 176)‘ ميں وہب السوائيسے روايت کيا ہے۔

8. مزي، تهذيب الکمال، 21 : 325

9. عسقلاني، الاستيعاب، 3 : 1149

5. عن نّافع عن ابن عمرقال : ’’کنّا نقول في زمن النّبيّ صلي الله عليه وآله وسلم لا نعدل بأبي بکر أحدا ثمّ عمر ثمّ عثمان ثمّ نترک أصحاب النّبيّ صلي الله عليه وآله وسلم لا نفاضل بينهم . ‘‘

حضرت نافع، حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲعنھما سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا : ’’ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہوآلہ وسلم کے زمانہ اقدس میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے برابر کسی کو شمار نہیں کرتے تھے۔ پھر اُن کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو، پھر ان کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو اُن کے بعدہم باقی اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک دوسرے پر فضیلت نہیں دیتے تھے۔‘‘

1. بخاري، الصحيح، 3 :1352، رقم : 3494

2. ابو داؤد، السنن، 4 : 206، کتاب السنة، رقم : 4627

3. ابن ابي عاصم، السنه، 2 : 567، رقم : 1192

4. عسقلاني، فتح الباري، 7 : 16، رقم : 3455

5 مبارکپوري، تحفةاالأحوذي، 10 : 138

6. نووي، تهذيب الأسماء، 1 : 299

7. سيوطي، تدريب الراوي، 2 : 223

6. عن بن عمر قال : کنّا نعدّ ورسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم حيّ وأصحابه متوافرون’’أبوبکر وعمر و عثمان‘‘ ثمّ نسکت.

’’حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنھما سے روایت ہے، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ظاہری حیات طیبہ میں جبکہ آپ.صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کافی تعداد میںتھے ہم اس طرح شمارکیا کرتے تھے۔’’حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت.عثمان رضی اللہ عنہ‘‘ اور پھر خاموش ہو جاتے تھے۔‘‘

1. احمدبن حنبل، المسند،2 : 14، رقم : 4626
2. ابن أبي شيبه، المصنف، 6 : 349، رقم : 31936
3. ابويعلي، المسند، 10 : 161، رقم : 5784
4. طبراني، المعجم الکبير، 12 : 345، رقم : 13301
5. ابن ابي عاصم، السنه، 2 : 568، رقم : 1195
6. احمد بن حنبل، فضائل الصحابه، 1 : 90،رقم : 58
7. عبدالله بن احمد، السنه، 2 : 574، رقم، 1350
8. خلال، السنه، 2 : 371،رقم : 507، 384، رقم : 541، 396، رقم : 572
9. لالکائي، اعتقاد اهل السنه، 1 : 159

7. عن جابر بن عبداﷲ رضي الله عنه قال : قالعمر بن الخطّاب ذات يوم لأبي بکر الصديق رضي الله عنه ’’ يا خير النّاس بعد رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم‘‘

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا: ’’اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سب سے بہتر‘‘

1. ترمذي، الجامع الصحيح، 5 : 618، رقم : 3684

2. حاکم، المستدرک، 3 :96، رقم : 4508

3. تهذيب الکمال، 18 :29، رقم : 3402

8. عن أسد بن زرارة قال رأيت رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم خطب النّاس فالتفت التفافتة فلم ير أبا بکر فقال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم أبوبکر. أبوبکر! إنّ روح القدس جبريل عليه السّلامأخبرني اٰنفا إنّ خير أمّتک بعدک أبوبکر الصّدّيق.

’’حضرت اسد بن زرارۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں۔ میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لوگوں کو خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے دیکھا۔ آپ صلی اللہعلیہ وآلہ وسلم نے توجہفرمائی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کونہ دیکھا (پایا)۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوبکر ابوبکر پکارا کہ روح القدس جبرئیل علیہ السلام نے مجھے خبر دی ہے ’’کہ آپ کی امت میں سب سے بہتر آپ کے بعد ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں۔‘‘

1. طبراني، المعجم الاوسط، 6 : 292، رقم : 6448

2. هيثمي، مجمع الزوائد،9 : 44

9. عن أبي الدّرداء قال: راٰني النّبيّ صلي الله عليه وآله وسلم و أنا أمشي أمام أبي بکر فقال : لم تمشي أمام من هو خير مّنک؟ إنّ أبابکر خير من طلعت عليهالشّمس أو غربت.

’’حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،فرماتے ہیں : حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دیکھا کہمیںحضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے آگے آگےچل رہا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ارشاد فرمایا : تم اُس ہستی کے آگے کیوں چل رہے ہو جو تم سے بہت بہتر ہے؟. بے شک ابوبکررضی اللہ عنہ ہر اُس شخص سے بہتر ہیں جس پر سورج طلوع یا غروب ہوتا ہے۔‘‘

1. احمد بن حنبل، فضائل الصحابه، 1 : 154، رقم : 137

2. ابن أبي عاصم، السنه، 2 : 576، رقم : 1224

3. هيثمي، مجمع الزوائد،9 : 44

4. خيثمه، من حديث خيثمه، 1 : 133

5. ديلمي، الفردوس بمأثور الخطاب، 5 : 351

6. محب طبري، الرياض النضره، 2 : 105

10. عن أبي جحيفة قال قال عليّ رضي الله عنه خير هذه الامّة بعدنبيّها أبوبکر و عمر.

’’ابو جحيفہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد اس امت میں سے بہتر ابو بکر اور عمر رضی اﷲ عنھما ہیں۔

1. ابن ابي شيبه، المصنف، 6 : 351، رقم : 31950

2. طبراني، المعجم الاوسط، 1 : 298، رقم : 992

3. طبراني، المعجم الاوسط، 7 : 85، رقم : 6926

4. احمد بن حنبل، المسند، 1 : 110، رقم : 880

5. ابن الجعد، المسند، 1 : 311، رقم : 2109

6. ابن ابي عاصم، السنه، 2 : 570، رقم : 1201

7. بزار نے ’ (المسند، 2: 130، رقم : 488)، ميں عمرو بن حريث سے روايت کيا ہے۔


وضاحت :

یہاں سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کی فضیلت اور دوسرے مقام پر سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان پڑھ کر ان میں باہمی تضاد یا تناقض تصور نہیں کرنا چاہیے۔ دونوں کی فضیلتوں کی حقیقت یہ ہے کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور جملہ اہلِ بیت اطہار کی فضیلت ان کے ذاتی مناقب، روحانی کمالات،نسبتِ قرابت اور شانِ ولایت میں ہے۔ جتنی قرآنی آیات اور احادیث اہلِ بیت اطہار کی شان میں وارد ہوئی ہیں کسی اور کی شان میں شخصی طور پر نہیں ہوئیں. جبکہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی فضیلت، فرائضِ خلافت، اقامتِ دین، اسلام اور امت کی ذمہ داریوں سے متعلق ہے۔ ائمہ نے افضلیت کی جو ترتیب بیان کی ہے وہ خلافت ظاہری کی ترتیب پر قائم ہے۔ ولایت باطنی جو ’’من کنت مولاہ فعلی مولاہ‘‘ (٭) کے ذریعے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو عطا ہوئی اس میں وہی یکتا ہیں۔ اسی وجہ سےولایت کبریٰ اور غوثیت عظمیٰ کے حامل افراد بھی آپ رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ دونوں جدا جدا نوعیت کی فضیلتیں ہیں۔

(٭) 1. ترمذي، الجامع الصحيح، 6 : 79، ابواب المناقب، رقم : 3713

2. احمد بن حنبل، المسند، 5 : 347

3. حاکم، المستدرک، 3 :533، رقم : 6272

4. ابن ابي شيبه، المصنف، 12 : 59، 12121

اس میں کوئی شک نہیں کہ فضائلِ ولایت، روحانی کمالات اور نسبتِ قرابت میں اہلِ بیت اطہار کے برابر کوئی نہیں ہوسکتا. کیونکہ ان میں کئی ایسے خصائص ہیں جو صرف ان ہی کو حاصل ہیں کسی اور کو نہیں، ان میں موازنہ اور مقابلہ بھی جائز نہیں۔ کسی کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شانہ بشانہ چلا رہے ہیں اور کسی کو چلتےہوئے شانوں پر بٹھا رہے ہیں۔ کسی کو مجلس میں اپنے قریب ترین بٹھا رہےہیں اور کسی کو گود میں کھیلا رہے ہیں۔ کچھ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دست بوسی اور قدم بوسی کی سعادت سے فیضیاب ہو رہے ہیں اور کچھ وہ ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود ان کو بوسۂ محبت سے نواز رہے ہیں۔ کچھ وہ ہیں جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہم کلام ہوتے ہوئے اپنے ماں باپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قربان کر رہے ہیں اور کچھ وہ بھی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے ہمکلام ہوتے ہوئے اپنے ماں باپ ان پر قربان کر رہے ہیں جیسا کہ فاطمۃ الزہراء سلام اﷲ علیہا اورحسنین کریمین رضی اﷲ عنہما کے لئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

فداک أبي و اُمي.

’’فاطمہ! میرے ماں باپ.تجھ پر قربان ہوں‘‘

1. حاکم، المستدرک، 3 :170، رقم : 4740
2. ابن حبان، الصحيح، 2: 470، 471، رقم : 696

بأبي هما و أمي.

’’میرے ماں باپ حسنین پر قربان ہوں۔‘‘

ثابت ہوا کہ یہ دو ایسی جدا جدا فضیلتیں ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وفادار اور ادب شعار اُمتی.صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اور اہلِ بیت عظام.علیھم الصلوۃ والسلام میں کبھی بھی مقابلہ اور موازنہ کا تصور نہیں کرسکتے۔

1. ابن حبان، الصحيح، 5: 426، رقم : 2970
2. ابن ابي شيبه، المصنف، 6 : 378، رقم : 3214
3. طبراني، المعجم الکبير، 3 : 47، رقم : 2644
4. هيثمي، موارد الظمآن، 1 : 552، رقم : 2233

~*~ ~*~ ~*~


No comments:

Post a Comment