Pages

Wednesday, November 20, 2013

مزاراتِ اَولیاء کی زیارت اورحاضری کے آداب

 


اولیاء اللہ کے مزارات پر حاضری اور دُعا سے متعلق بعض طبقات کی.سوچ اور طرزِ عمل افراط و تفریط کا شکار ہے۔ ایک طبقہ وہ ہے جو سرے سے اِس کے جوازکا ہی قائل نہیں بلکہ اِسے صریح شرک و بدعت گردانتا ہے۔ اِس کے برعکس ایک طبقہ عوام الناس کا ہے جسے اہلِ علم کی سند حاصل نہیں وہ بھی اِس سلسلہ میں جہالت اور تفریط میں مبتلا ہے۔ جمہور مسلمانوں کا مزارات پر طریقِ حاضری و دُعا نہایت معقول اور حزم و احتیاط کا آئینہ دار ہے۔ قاضی الحاجات، فریاد رس اور حقیقی مشکل کشا اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ لیکن مقربینِ بارگاہِ الٰہی انبیاء و اولیاء کا دُعا میں توسل جائز ہے اور اِن کے توسل سے دُعائیں قبول ہوتی ہیں۔ اِس سلسلہ میں

حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتےہیں :
واز جملہ آدابِ زیارت است کہ روئے بجانب قبر وپشت بجانب قبلہ مقابل روئے میت بایستد و سلام دہد و مسح نکند قبر را بدست و بوسہ ندہد آنرا و منحنی نشود وروئے بخاک نمالد کہ ایں عادتِ نصاریٰ است۔ وقرات نزد قبر مکروہ است نزدِ ابی حنیفہ و نزدِ محمد مکروہ نیست۔ وصدر الشہید کہ یکے از مشائخ حنفیہ است بقولِ محمد اخز کرد و فتویٰ ہم بریں است۔ و شیخ امام محمد بن الفضل گفتہ کہ مکروہ قراتِ قرآن بہ جہر است واما مخافت لا باس بہ است اگرچہ ختم کند۔
’’قبورِ اولیاء کی زیارات کے آداب میں سے ہے کہ زائر قبر کی طرف منہ اور قبلہ کی جانب پیٹھ کر کے صاحبِ قبر کے منہ کے برابر کھڑا ہو جائے، اُسے سلام کہے، ہاتھ سے قبر کو نہ چھوئے اور نہ قبر کو بوسہ دے اورنہ قبر کے سامنے جھکے اور قبر کے سامنے مٹی پر اپنا منہ نہ ملے کیونکہ یہ طریقہ نصاریٰ کا ہے۔قبر کے پاس قرآن حکیم کی تلاوت امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک (بآوازِ بلند) مکروہ ہے، مگر امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک مکروہ نہیں ہے۔ علمائِ احناف میں سے صدر الشہید نے امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کے قول کو اختیار کیا ہے اور اِسی پر فتویٰ ہے۔ شیخ امام محمد بن الفضل نے کہا ہے کہ قبر کے نزدیک اُونچی آواز میں قرآن خوانی مکروہ ہے، لیکن اگر دھیمی آواز میں ہو تو سارا قرآن مجید پڑھ لینے میں بھی کوئی حرج نہیں۔‘‘

شاه عبدالحق، اشعة اللمعات، باب زيارة القبور : 763

یہ بات ذہن نشین رہے کہ صالحینِ اُمت کے مزارات کو بوسہ دینا ضروری اُمور میں سے نہیں ہے لہٰذا اس عمل کو منکرین و مخالفین کے ردِعمل میں بے ادبی اور گستاخی سمجھنا اچھا نہیں ہے۔ اکابر مشائخ کے ملفوظات اور اُن کے معمولات میں احتیاط پسندی کی خاطر بوسہ دینے سے منع کیا گیا ہے۔ چنانچہ پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی رحمۃ اللہ علیہ اِس سلسلہ میں لکھتے ہیں :

پس اقربِ بصواب می نماید کہ کسے از ثقاتو مقتدایان تقبیلِ مزارات متبرکہ ہم ننماید، تاکہ عوام کالانعام در ورطۂ ضلال نیفتند۔ چہ بہ سبب جہل فرق میانِ سجود و تقبیل کردن نمی توانند۔

’’بہتر یہی ہے کہ اربابِ علم اور رہنمایانِ قوم میں سے کوئی آدمی مزارات کا بوسہ نہ لے تاکہ دیکھا دیکھی میں بے علم اور عام اَن پڑھ لوگ گمراہی کے بھنور میں نہ پھنس جائیں۔کیونکہ وہ جہالت کی وجہ سے بوسہ اور سجدہ میں تمیز نہیں کر سکتے۔‘‘

پير مهر علی شاه، تحقيق الحق : 159

تعظیماً بوسہ دینا فی نفسہ منع اور ناجائز نہیں ہے۔ اکابر علماء و مشائخ نے صرف احتیاط کی خاطر بوسہ دینے سے منع کیا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہخواص کا عمل عامۃ الناس کے لئے دلیل و حجت ہوتا ہے اِس لئےخواص کو بطورِ خاص احتیاط کا دامن تھامنے کی طرف متوجہ کیا گیا ہے۔ خواص تو بوسہ اور سجدہ کا فرق بخوبی سمجھتے ہیں لیکن عوام یہ فرق نہیں سمجھتے اِس لئے عوام کی خاطر انہیں بھی منع کیا گیا ہے۔
مزاراتِ اولیاء پر دعا کا درست طریقہ
سلف صالحین نے قبورِ اولیاء پر حاضری دینے والے زائرین اور دُعا کرنے والوں کے لئے دو طریقے بیان کئے ہیں :

1۔ پہلا طریقہ یہ ہے کہ دعا مانگنے والا اللہ تعالیٰ کا محتاج اور فقیرہے اور اپنی حاجت اللہ تعالیٰ سے طلب کرتا ہے، مگر دُعا میں صاحبِ مزار کی روحانیت،بزرگی اور اُس کی خدماتِ جلیلہ کا وسیلہ پیش کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے مانگتا ہے اور یہ عرض کرتا ہے کہ ’’اے میرے مولا! اِس صاحبِ مزار کی برکت سے اور اُس رحمت و عنایت کے صدقے جو تو نے اس صاحب مزار پر کی ہے اور اسے عظمت و بزرگی عطا فرمائی ہے، میری فلاںحاجت کو پورا فرما، کیونکہ حقیقی عطا کرنے والا اور مرادیں پوری کرنے والا تو ہے۔‘‘

2۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ دعا مانگنے والا صاحبِ مزار کو مخاطب کرتے ہوئے کہے کہ’’اے اللہ تعالیٰ کے مقبول بندے! میری فلاںمراد اللہ تعالیٰ سے طلب کیجئے، اللہ تعالیٰ مجھے میری مطلوب شے عطا کر دے۔‘‘ اِس طرح بھی سوال اللہ تعالیٰ ہی سے کیا جاتا ہے کیونکہ حقیقی مشکل کشا وہی ذات ہے، لیکن یہ اسلوب اختیار کرنا بطریقِ مجاز ہے جس کے تحت صاحبِ قبر کو بطور وسیلہ پیش کیا جاتا ہے۔ یہ طریقہ بھی اِس لئے جائز ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے کہ جسے چاہے اس کی التجا سنوا دے کیونکہ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ کوئی قبر والاہو یا زندہ چلتا پھرتاانسان، اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمت کے بغیر نہیں سن سکتا۔ یہ امر بعید نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ دُعا کرنے والے کی آواز کوقبر والے تک پہنچا دے اور پھر صاحبِ قبرعالمِ ارواح میں اللہ تعالیٰ سے اُس حاجت مند کے مقاصد کو پوراکر دینے کی التجا کرے۔ اِس طریقے میں بھی حاجت مند بالواسطہ اللہ تعالیٰ ہیسے مانگ رہا ہوتا ہے نہ کے صاحبِ قبر سے۔

اِن نازک اعتقادی اُمور کوبڑی احتیاط کے ساتھ عامۃ المسلمین کے سامنے بیان کرنا چاہیے۔ بعض حضرات.مزارات پر حاضری دیتےوقت ایسے اعمال و افعال کرتے ہیں جو جمہور امت کے شعار کے خلاف ہیں۔ اِس کا نتیجہیہ ہوتا ہے کہ معاندین و مخالفین کو اعتراض کا موقع مل جاتا ہے۔ اس میں قصور درحقیقت ہمارے ان بعض ائمہ وخطبا کا ہوتا ہے جو ایسے نازک عقائد میں احتیاط کو ملحوظ نہیں رکھتے اور بے جا تاویلات اور اُلٹے سیدھے دلائل عوام کی تائید کی خاطر بیان کرتے رہتے ہیں۔ اس سے ناقص لوگوں کے ذہن اُلجھاؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔

ہمارا یہ عقیدہ ہے کہحیات شیخ و مرشد سے دُعا کرانے کی صورت میں بھی حاجت مانگنا اللہ تعالیٰ ہی سے متصور ہوتا ہے کیونکہ وہ بھی تو اللہ تعالیٰ ہی سے مانگتا ہے۔ کوئی ولیاللہ یا شیخِ طریقت یہ نہیں کہتا کہ ’’ اے حاجت مند! یہ سب کچھ میں تجھے دے رہا ہوں، ‘‘ بلکہ وہ تو یہ کہتے ہیں کہ تم بھی اللہ تعالیٰ سے مانگو اور ہم بھیاُسی سے تمہارے لئے دعا کرتے ہیں۔ بعض اوقات کئی جہلا’’پیر صاحب‘‘ کو مخاطب کرکے کہتے ہیں : ’’یا صاحبِ مزار مجھے اولاد دے دیں، صحت دے دیں یا فلاں مسئلہ حل کر دیں۔‘‘ ایسے موقعوں پر دین سے محبت، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ بروقت ایسے لوگوں کی اصلاح کر دی جائے۔

3۔ بزرگوں کے نزدیک دُعا میں زیادہ پسندیدہ اور محتاط طریقہ یہی ہے کہ قرآن و سنت میں منقول دُعائیں مانگنا معمول بنایا جائے اور حضرات انبیاء علیہم السلام و اولیاء کرام کا وسیلہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کیا جائے۔ اگر خاص حاجت مانگنی ہو تو حضرات انبیاء و اولیاء و مقربینِ بارگاہ اِلٰہی سے اور بالخصوص حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں درخواست کی جائے کہ آپ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ بے کس پناہ میں دُعا فرما دیں کہ ہماری مشکلات آسان فرما دےاور حاجتیں بر لائے۔ یہ وہ محتاط طریقہ دُعا ہے جس پر کوئی شخص اعتراض نہیں کر سکتا۔ حزم و احتیاط کا تقاضا بھی یہی ہے کہ جہاں توہمات اور بدعات و خرافات میں مبتلاہونے کا اندیشہ ہو اُس راستہ کو یکسر بند کر دیا جائے۔

باقی رہے خواص تو اپنی خداداد بصیرت اور رُوحانی طاقت سے عالمِ کشف میں وہ صاحبانِ قبر سے ہم کلام بھیہوتے ہیں اور صاحبِ مزارسے رابطہ بھی رکھتے ہیں۔ جہاں صالحین کے مزار کی زیارت سے زائرین کو روحانی فیض و برکت حاصل ہوتی ہے وہاں بعض اوقات صاحبِ ولایت و مقام زائرین سے صاحبانِ قبر کی رُوح بھی روحانی برکت و فیض حاصل کرتی ہے۔

حضرات انبیاء علیہم السلام اور اولیاء کرام کے متعلق یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ ذاتی یا مستقل طور پر متصرف ہیں یا اِس طرح تصرف و اختیار میں شریک سمجھنا کہ اللہتعالیٰ اُن کی شرکت کے بغیر کائنات کا نظام نہیں چلا سکتا، کفر ہے۔ اس طرح کیہر غلطی کی اصلاح کرکے اسے جڑ سے اُکھاڑ پھینکنا چاہئے۔ بزرگوں سے عقیدت اپنی جگہ لیکن کسی بھی مسئلہ میں غلو جائز نہیں۔

مزارات کے طواف
اور شور و غل کی ممانعت

کعبۃ اللہ کے علاوہ کسی مقام یا قبر کا طوافِ تعظیمی منع ہے۔ فقہائے کرام نے قبرستان میں خیرات اور شیرینی تقسیم کرنے سے اس لئے منع کیا ہے کہ تقسیم کے وقت بچے اور عورتیں شور و غل کرتے ہیں۔ قبرستان کا ادب و احترام قائم نہیں رہتا لہٰذا ایسا کرنے میں بھی احتیاط کرنی چاہیے۔ مساکین اور زائرین کے لئے مزارات پر الگ اہتمام ہونا چاہیے۔ مقبولانِ بارگاہِ خداوندی کے اعراس میں جو ناجائز افعال و اعمال کئے جاتے ہیں اِن سے صاحبِ مزار کو تکلیف و اذیت پہنچتی ہے۔ اِس طرح صاحبِ مزار کا فیض اور برکت زائر کو نصیب نہیں ہوتی۔ خیرات کی چیزیں اُوپر سے پھینکنا اور لوگوں کا اُن کو بطور تبرک حاصل کرنے کے لئےشور و غل کرنا، ایسے تمام اُمور غلط ہیں اور سلف صالحین نے اِن کی حوصلہ شکنی کیہے۔ اس طرزِ عمل سے ایک تو رزق کی بے حرمتی ہوتی ہے، دوسرا مزار کا ماحول اور اُس کا تقدس پامال ہوتا ہے اور تیسرا اِس میںریاکاری کا عمل دخل ہے۔ لہٰذا ایسے تمام اُمور سے پرہیز کرنا چاہیے۔

مزارات پر نذر و نیاز اورتبرک کی حقیقت

مزاراتِ اولیاء پر نذر و نیاز دینے اور وہاں’’لنگر‘‘ پکانے یا کھانے کی حقیقت صرف اتنی ہے کہ یہ ایک نیک عمل ہے جس کی اصل قرآن و سنت میں موجود ہے۔ یہ صدقہ جاریہ کی ایک مستحسن صورت ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب بندوں کو نواز رکھا ہے۔’’اطعام الطعام‘‘ تعلیمات قرآن و سنت کی معروف اصطلاح اور اسلامی تہذیب و ثقافت کی ایک نمایاں خصوصیت ہے۔ سورۃ الدھر میںاللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب اور مخلص بندوںکی خصوصیات بیان فرمائی ہیں جن میں ضرورت مندوں اور ناداروںکو کھانا کھلانا بنیادی خصوصیت قرار دیا گیا، ارشادِ باری تعالیٰ ہے :

وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا O إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا O إِنَّا نَخَافُ مِن رَّبِّنَا يَوْمًا عَبُوسًا قَمْطَرِيرًا O

’’اور (اپنا) کھانا اﷲ کی محبت میں (خود اس کی طلب و حاجت ہونے کے باوُجود اِیثاراً) محتاج کو اور یتیم کو اور قیدی کو کھلا دیتے ہیںo (اور کہتے ہیں کہ) ہم تو محض اللہ کی رضا کیلئے تمہیں کھلا رہے ہیں،نہ تم سے کسی بدلہکے خواستگار ہیں اور نہ شکرگزاری کے (خواہشمند) ہیںo ہمیں تو اپنے ربّ سے اُس دن کا خوف رہتا ہے جو (چہروں کو) نہایت سیاہ (اور) بدنما کر دینے والا ہےo‘‘

الدهر، 76 : 8 - 10

یہ کام اہل اﷲ کے نزدیک نفلی عبادت سےزیادہ باعثِ ثواب ہے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ مخلوقِ خدا کی خدمت دراصل اللہ تعالیٰ کو خوش رکھنے کا ایک ذریعہ ہے۔ یہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کا نمایاں وصف ہے اور اسوۂ حسنہکے اتباع میں تمام صوفیاء کا معمول رہا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود یتیموں، مسکینوں اور ناداروں کا سہارا اور ملجا تھے۔ آپ صلیاللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی متعدد احادیث میں’’اطعام الطعام‘‘ کی ترغیب اور حکم موجود ہے۔ بلکہ بعض صحیح احادیث میں بیان ہوا ہے کہ

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسلام کی تعریف اوربنیادی خصوصیات میں کھانا کھلانے اور دوسرے کی خیر خواہی چاہنے کو شامل فرمایا۔ ملاحظہ ہو فرمان نبوی :

1۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کسی نے سوال کیا :
أَيُّ الْاِسْلَامِ خَيْرٌ؟ قَالَ : تُطْعِمُ الطَّعَامَ وَتَقْرَأُ السَّلَامَ عَلَی مَنْ عَرَفْتَ وَ مَنْ لَمْ تَعْرِفْ.
’’بہترین اسلام کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تو کھانا کھلائے اور سلام کرے اس شخص کوجسکو تو پہچانتا ہو یا نہ پہچانتا ہو۔‘‘

1. بخاري، الصحيح، کتاب الإيمان، باب افشاء السلام، 1 : 19، رقم: 28
2. مسلم، الصحيح، کتابالإيمان، باب تفاضل الإيمان، 1 : 65، رقم : 39
3. ابوداؤد، السنن، کتابالأدب، باب في افشاء السلام، 4 : 350، رقم : 5194

2۔ اسی طرح مشہور صحابی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت فرمایا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم !مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جس کی بجا آوری سے میں جنت کا حق دار ٹھہر سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
أطْعِمِ الطَّعَامَ، وَ أفْشِ السَّلَامَ، وَصِلِ الْأرْحَامَ، وَصَلِّ بِالَّيْلِ وَالنَّاسُ نَيامٌتَدْخُلُ الْجَنَّة بِسَلَامٍ.
’’ضرورت مند کو کھانا کھلاؤ، سلام (سلامتی اور خیر خواہی)کو عام کرو، صلہ رحمی کرو اور دوسرے لوگ نیند کے مزے لے رہے ہوں تو تم اٹھ کر نماز (تہجد) پڑھا کرو (ان اعمال کے باعث تم) سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔‘‘

1. ابن حبان، الصحيح، 6: 299، رقم : 2559
2. حاکم، المستدرک، 4 :144، رقم : 7174

3۔ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہوآلہ وسلم جس وقت مدینہ تشریف لائے تو اول کلام جو میں نے ان سےسنا وہ یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
اَيُّهَا النَّاسُ أَفْشُوا السَّلَامَ وَ أَطْعِمُوا الطَّعَامَ وَصَلُّوْا وَالنَّاسُ نِيَامٌ تَدْخُلُوا الْجَنَّة بِسَلَامٍ.
’’لوگو! سلام کو عام کرو اور کھانا کھلاؤاور جب لوگ سو رہے ہوں، نماز پڑھو تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔‘‘

1. ترمذي، السنن، کتاب صفة القيامة، 4 : 652، رقم : 2485
2. ابن ماجه، السنن، کتاب الأطعمة، 2 : 1083، رقم : 3251
3. احمد بن حنبل، المسند، 5 : 451، رقم : 23835

4۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے اس سے مماثل روایت ہے جس میں حضور نبیاکرم صلی اللہ علیہ وآلہوسلم نے اطعام الطعام کو اﷲ کی عبادت کا ہم پلہ عمل قرار دیتے ہوئے فرمایا :
اعْبُدُوا الرَّحْمٰنَ وَ أَطْعِمُوا الطَّعَامَ وَ أَفْشُوا السَّلَامَ تَدْخُلُوا الْجَنَّة بِسَلَامٍ.
’’تم رحمٰن کی عبادت.کرو اور کھانا کھلاؤاور سلام عام کرو ان تین امور کی انجام دہی کے ثمر کے طور پر تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔‘‘

1. ترمذی، السنن، کتاب الأطعمة، باب فضل اطعام الطعام، 4 : 2870، رقم : 1855
2. احمد بن حنبل، المسند، 2 : 170، رقم : 6587
3. دارمی، السنن، 2 : 148، رقم : 2081
4. بزار، المسند، 6 : 383، رقم : 2402
5. بخاری، الأدب المفرد، 1 : 340، رقم : 981

آپ نے قرآن و سنت کے واضح احکام کو ملاحظہ کیا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھانا کھلانے کا کس قدر اہتمام اور تاکید کے ساتھ ذکر فرمایا۔ بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اللہ کے متقی، پرہیزگار، مخلصین اور محبین، اللہ تعالیٰ سےقربت اور اخلاص کا دعویٰ کریں اور اس کےمحبوب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبتو اطاعت کا دم بھی بھریں لیکن ان کے ہاں مخلوقِ خدا کو خیر خواہی نہ ملے، بھوکوں کو کھانا کھلانے کی ترغیب اور عملی مظاہرہ نہ ہو چنانچہ مقربینِ بارگاہِ ایزدی جب حیات ہوتے ہیں خود بھی مخلوق کے لیے سراپا خیر ہوتے ہیں، ان کے دوست دشمن، امیر غریب.جاننے والے اور غیر سب کے لیے ان کا دست عطا کھلا رہتا ہے اور جب وہ دنیا سے چلے جاتے ہیں تو اس وقت بھی ان کے اس عمل خیر میں انقطاع نہیں ہوتا۔

چنانچہ ہم دیکھتے ہیںکہ دنیا میں جہاں جہاں ایسے مزارات ہیں وہاں قائم لنگرخانوں میں نادار، غریب اور مفلوک الحال لوگ پیٹ کی آگ بجھاتے ہیں۔ انہیں دو وقت کا کھانا مفت ملتا ہے تویہ خود ایک بہت بڑی انسانی خدمت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی زندگی میں ان کے اخلاصِ عمل کو برکت سے نواز کر ان کے وصال کے بعد بھیایصالِ ثواب کی یہ سبیل جاری رکھی ہوئی ہے۔ یہ

دراصل.زمین پر مائدۃ الرحمن (الوہی دسترخوان) ہے جس کی سعادت سے یہی عظیم المرتبت لوگ نوازے جاتے ہیں۔ انسانی استطاعت و طاقت سے یہ ممکن نہیں ہوتا بلکہ صرف اللہ تعالیٰکی توفیق اور عنایت سے ہی اس قدر وسیع اسباب و وسائل میسر آتے ہیں۔

برصغیر پاک و ہند میں ایسے مزارات بکثرت موجود ہیں مثلاً سیدنا علی بن عثمان الہجویریالمعروف داتا صاحب رحمۃ اللہ علیہ، حضرت بابا فرید مسعود گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ پاک پتن شریف، خواجہھند حضرت معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ، حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہعلیہ، حضرت بہاؤ الدینذکریا ملتانی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مجدد الف ثانی، شیخ احمد فاروقیسرہندی رحمۃ اللہ علیہ بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ اسی طرح کے سینکڑوں مراکز اور مقامات ہیں جہاں آج بھی ہزاروں اور لاکھوں ایسے لوگ کھانا کھاتے ہیں جو بے روزگار اور بے سہارا ہوتے ہیں۔ غریب اور یتیم بچے، عورتیں،بوڑھے اور بیمار، سب بلاتمیز رنگ و نسل، عقیدہ و مذہب ان آستانوں پر آزادانہ کھاتے پیتے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق حضرت داتا صاحب کے احاطۂ مزار میں ہر روز 20 سے 30 ہزار لوگ مختلف شکلوں میں ’’لنگر‘‘ سے کھانا حاصل کرتے ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں بھوکوں، بے روزگاروں اور ضرورت مندوں کو کھانا کھلانا کوئی.معمولی بات نہیں۔
یہ تو صرف اللہ تعالیٰ کے فضل و کرماور اس کی خصوصی عطاء سے ہی ممکن ہےورنہ دنیا کا کوئی بادشاہ، دولت مند شخص.یا تنظیم ایسا کرنے کی صلاحیت و قدرت نہیں رکھتی۔ پھر یہ سلسلہ دو چار دنوں یامہینوں سے نہیں بلکہ صدیوں سے جاریو ساری ہے۔ ایسے نیک اور خدمتِ خلق پر مبنی عمل کو بلاسوچےسمجھے شرک و بدعت اور حرام کہنا بجائے خود بہت بڑی.جسارت ہے۔ جیسا کہ اوپر ہم عرض کر چکے ہیں کہ یہ ’’اطعام الطعام‘‘ کے فرمانِ الٰہی پر عمل درآمد کی ایک بہترین شکلہے۔ جائز مشروع اور مخلوقِ خدا کیلئے مفید عمل کو بلادلیل ناجائزعمل کہنا دراصل دین میں تجاوز ہے۔ یہ ایک طرف کی سوچ اور نقطۂ نظر ہے۔

دوسری طرف اس سے بھی زیادہ قباحتیں موجود ہیں۔ انہی قباحتوں میں سے ایک یہبھی ہے کہ کئی لوگوں نے اس لنگر یانذر و نیاز کے کھانےسے متعلق بہت سی خود ساختہ باتیں گھڑرکھی ہیں۔ کہیں اسکی شفا کے مبالغہ آمیزتذکرے کیے جاتے ہیں، کہیں اس کے عدمِ استعمال پر انجام بد سے ڈرایا جاتا ہے اورکسی جگہ کا لنگر ہرگناہ اور معصیت سے چھٹکارے کا ضامن سمجھا جاتا ہے۔ بزرگانِ دین کے مزارات اور ان کی قربت بلاشبہ باعثِ خیر و برکت ہے اور ان کے آستانوں پر توسلاً اللہ پاک بیماروں کو شفا بھی دیتا ہے مگر یہ سب فوائد اضافی ہیں بنیادی غرض و غایت تو ضرورت مندوں کی بھوک کا ازالہ ہے۔
علاہ ازیں بعض مقامات اور مزارات پر اس نیک عمل کو بے جا پابندیوں اور اضافی شرطوں سے خاص کردیاجاتا ہے مثلاً شیرینی کے ساتھ مختلف تحریریں لکھ دی جاتی ہیں جن کے ذریعے زائرین پر نفسیاتی طور پر ترغیب و ترھیب سے اثر انداز ہونے کی کوشش بھی کی جاتی ہے کہ ’’یہ کھانے سے اتنے پھیرے اور اسی طرح کی نیاز کی مزید تقسیم ضروری ہے۔‘‘ وغیرہ۔

یہ سب رسوم و رواج جہالت اور مزارات کے غلط استعمال کی مختلف شکلیں ہیں ایسی قباحتوں سے صاحبِ مزار کو یقینا تکلیف پہنچتی ہے اس لئے ایسے امور سے ہر ممکن.بچنے کی کوشش کرنی.چاہیے۔ عرس کی شیرینی کھانے کے فضائل بیان کرنے اور نہ کھانے والے کو محروم سمجھے جانے کی کوئی اصل نہیں ہے۔

اعلیٰ حضرت محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ عرس کی شیرینی کے متعلق یہ کہنا کہ جوکوئی اِس کو کھائے گا اُس کا جنت مقام و دوزخ حرام ہے یہ کہنا شرعاً کیاحکم رکھتا ہے؟

انہوں نے جواب دیا :’’یہ کہنا جزاف اور یاوہ گوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ کس کا جنت مقام اور کس پر دوزخ حرام ہے۔ عرس کی شیرینی کھانے پر اللہو رسول کا کوئی وعدہ ایسا نہیں ثابت جس کے بھروسہ پر یہ حکم لگا سکیں۔ یہ تقول علی اﷲ کے مترادف ہے اور وہ ناجائز ہے۔

قال اﷲ تعالی : اَطَّلَعَالْغَيبَ اَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًا (مريم، 19 : 78)،

قال اﷲ تعالی : أَتَقُوْلُوْنَ عَلَي اﷲِ مَالَا تَعْلَمُوْن (البقرة، 2 : 80).

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’وہ غیب پر مطلع ہے یا اس نے (خدائے) رحمن سے (کوئی) عہد لے رکھاہے؟ (اسی طرح) اﷲ تعالیٰ نے فرمایا : ’’تم اللہ پر یونہی (وہ) بہتان باندھتے ہو جو تم خودبھی نہیں جانتے۔‘‘

احمد رضا خان، فتاویٰ رضويه، 4 : 219

کلماتِ توسُّل میں احتیاط

اگر کوئی جاہل یہ عقیدہ رکھتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں وسیلہ کے بغیر دُعا قابل.ِسماعت ہی نہیں یا وسیلہ کا معنی یہ سمجھتا ہو کہ اللہ تعالیٰ پر العیاذ باللہ کوئی بوجھ یادباؤ پڑتا ہے، تو ایسا عقیدہ باطل ہے جس کا سلف صالحین کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃاللہ علیہ سے مزارات پر فاتحہ کے طریقہ کے متعلق پوچھا گیا کہ ’’بزرگوں کے مزارپر جائیں تو فاتحہ کس طرح سے پڑھا کریں؟‘‘ انہوں نے جوابدیا : ’’مزاراتِ شریفہ پر حاضر ہونے میں پائنتی کی طرف سے جائے اور کم از کم چار ہاتھ کے فاصلہ پر مواجہہمیں کھڑا ہو اور متوسطآواز میں مودِبانہ سلام کرے۔ ختم وغیرہ پڑھ کر اللہ عزوجل سے دعا کرے کہ الٰہی اس قرات پر مجھے اتنا ثواب دے جو تیرے کرمکے قابل ہے نہ اِتنا جومیرے عمل کے قابل ہےاور اِسے میری طرف سےاِس بندہ مقبول کو نذر پہنچا۔ پھر اپنا جو مطلب جائز شرعی ہو اُس کے لئے دُعا کرےاور صاحبِ مزار کی رُوح کو اللہ عزوجل کی بارگاہ میں اپنا وسیلہ قرار دے۔ پھر اُسی طرح سلام کر کے واپس.آئے۔ مزار کو ہاتھ نہ لگائے، نہ بوسہ دے۔ طواف بالاتفاق ناجائز ہے جبکہ سجدہحرام ہے۔‘‘
ا
حمد رضا خان، فتاویٰ رضويه، 4 : 212

سجدۂ تعظیمی اور قبر کی سمت

سجدہ کرنےکی ممانعت
سجدہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے لئے جائز نہیں۔ غیر اللہ کوسجدۂ عبادت کھلا کفر ہے اور سجدۂ تعظیمی حرام ہے بلکہ ایسا عمل بھی ممنوع ہے جو سجدہ کی سی مشابہت رکھتا ہووہ بھی مزارات پر نہیں کرنا چاہیے۔

حضرت ابو مرثد رضی اللہعنہ سے مروی ہے کہ میں نے حضور نبی اکرمصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
لَا تُصَلُّوْا إِلَی الْقُبُوْرِ وَ لَا تَجْلِسُوْا عَلَيْهَا.

’’قبروں کی طرف رخ کر کے نماز نہ پڑھو اور نہ اُن پر بیٹھو۔‘‘

1. مسلم، الصحيح، کتابالجنائز، باب النهی عن الجلوس علی القبر، 2 : 668، رقم : 972
2. نسائی، السنن، کتاب القبلة، باب النهیعن الصلوة إلی القبر، 2 : 67، رقم : 760
3. احمد بن حنبل، 4 : 135

سج عامۃ الناس میں سے بعض لوگ مزارات کو بوسہ دیتے اور چوکھٹچومتے ہیں یہ ناپسندیدہ فعل، مکروہ کے زمرے میں داخل ہےمگر شرک کے دائرے میں نہیں آتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زمین بوسی حقیقتاً سجدہ نہیںکیونکہ سجدہ میں سات اعضاء کا بیک وقت زمین پر رکھنا ضروری ہے۔ ہاں زمین بوسی اِس وجہ سے ممنوع ہے کہ مشابہتًا بت پرستی اور صورۃً قریبِ سجدہ ہے۔ حقیقتاً سجدہ نہ سہی پھر بھی منع ہے۔ اعلیٰ حضرت محدث بریلوی مولانا احمد رضا خان رحمۃاللہ علیہ نے اِس مسئلہ پر باقاعدہ الگ کتاب’’الزبدۃ الزکیۃ لتحریم سجود التحیۃ‘‘ لکھی ہے جس میں انہوں نے ٹھوس دلائل سے سجدۂ تعظیمی اور خلافِ شرع اُمور کی تردید فرمائی ہے۔

توحید فی الدُّعاءاور شرک فی الدُّعاء

 



توحید فی الدُّعا

دُعا مومن کا ہتھیار اور عبادت کا مغز ہے۔ یہ بندے کا اﷲ تعالیٰ کے ساتھ ربط و تعلق اور قربت کا ذریعہ ہے۔دُعا اﷲ تعالیٰ کا حکم بھی ہے اور بندگانِ خدا کا محبوب عمل بھی۔ اصلًا، حقیقتًا اور شرعاً دُعا اللہ تعالیٰ کے حضور مانگی جاتی ہے اور یہ اسی کے لئے خاص ہے۔ پس توحید فی الدُعا سے مراد یہ ہے کہ فقط اللہ تعالیٰ ہی کو مستجیب الدعوات (دُعائیں قبول کرنے والا)تسلیم کیا جائے۔ اِسی کی بارگاہ میں ہاتھ پھیلائے جائیں اور شدائد و مصائب اور مشکلات و آلام میں اُسی کے حضور گڑ گڑا کر گریہ و زاری کی جائے۔

فقط اللہ تعالیٰ کو پکارنا اور اس کی بارگاہ میں دُعا کرنا توحید فی الدعا ہے جبکہ اِس کے برعکس.غیر اللہ کو حقیقی فریاد رس سمجھ کر اُن سے دعا کرنا شرک فی الدعاہے۔

ایک غلط فہمی کا ازالہ

دُعا کے حوالے سے ایک.عام غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ ’’دَعَا يَدْعُو‘‘ کے ذریعے قرآن حکیم میں بہت سے مقامات پر یہ تعلیم دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو مثلاً ارشادِ باری تعالیٰ ہے :

’’فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًاo
’’پس اللہ کے ساتھ کسی اور کی پرستش مت کیا کروہo‘‘
1.
الجن، 72 : 18

اسی مضمون پر مشتمل بہت سی آیات سے برخود غلط استدلال کرتےہوئے یہ نکتہ اٹھایا جاتا ہے کہ انبیاءاور اولیاء کو نداء ’’یا‘‘ کے ساتھ مخاطب کرنا اور متوجہ کرنا شرک ہےچنانچہ بعض لوگ بتوں کی پرستش کے بارے میں نازل ہونے والی.آیات سے مغالطہ پیدا کر کے ان کو اہل اللہ سے منسوب کرتے ہیں۔ اِس مغالطہ آفرینی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے ’’دعا یدعو‘‘ کا صحیح معنی و مفہوم نہیں سمجھا۔ اس لئے ضروری ہے کہ دُعا کا معنی اور اس کے اطلاقات کو قرآنی آیات کے تناظر میں صحیح سیاق و سباق سے دیکھا جائے۔

قرآن حکیم میں لفظِ دُعا کے معانی

لفظِ دُعا، دَعْوٌ یا دَعْوَۃٌ سے مشتق ہے، جس کا لغوی معنی بلانا یا دعا کرنا ہے۔ قرآن حکیم میں لفظ دُعا تین مختلف.معانی میں استعمال ہوا ہے جو درج ذیل ہیں :

1. دُعا بمعنی دعوت (Invitation)
2. دعا بمعنی التجا (Supplication)
3. دُعا بمعنی عبادت (Worship)

اب ہم بالترتیب مذکورہبالا تینوں معانی کی مثالیں قرآنِ حکیم سے پیش کرتے ہیں :

1۔ دُعا بمعنی دعوت

دُعا کا پہلا اور معروف معنی دعوت دینا یعنی بُلانا ہے۔ ارشادِ خداوندیہے :

1.
قُلْ هَـذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللّهِ عَلَى بَصِيرَةٍ أَنَاْ وَمَنِ اتَّبَعَنِي وَسُبْحَانَ اللّهِ وَمَا أَنَاْ مِنَ الْمُشْرِكِينَo
’’(اے حبیبِ مکرم!) فرما دیجئے : یہی میری راہ ہے میں اﷲ کی طرف بلاتا ہوں، پوری بصیرت پر (قائم) ہوں،میں (بھی) اور وہ شخص بھی جس نے میری اتباع کی، اور اﷲ پاک ہے اور میں مشرکوںمیں سے نہیں ہوں۔‘‘
1.
یوسف، 12 : 108

2.
ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ
’’(اے رسولِ معظّم!) آپ اپنے رب کی راہ کی طرف حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ بلائیے۔‘‘
(1) النحل، 16 : 125
1.
وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً يَدْعُونَ إِلَى النَّارِ
’’اور ہم نے انہیں (دوزخیوں کا) پیشوا بنادیا کہ (وہ لوگوں کو) دوزخ کی طرف بلاتے تھے۔‘‘
(2) القصص، 28 : 41
1.
وَيَا قَوْمِ مَا لِي أَدْعُوكُمْ إِلَى النَّجَاةِ وَتَدْعُونَنِي إِلَى النَّارِo
’’اور اے میری قوم! مجھے کیا ہوا ہے کہمیں تمہیں نجات کی طرف بلاتا ہوںاور تم مجھے دوزخ کی طرفبلاتے ہوo‘‘
(3) المؤمن، 40 : 41
1.
وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّن دَعَا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِيمِنَ الْمُسْلِمِينَo
’’اور اس شخص سے زیادہ خوش گفتار کون ہو سکتا ہے جو اﷲ کی طرف بلائے اور نیک عمل کرے اور کہے : بیشک میں (اﷲ ل اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے) فرمانبرداروں میں سے ہوںo‘‘
(4) حم السجدۃ، 41 : 33
1.
كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ
’’مشرکوں پر بہت ہیگراں ہے (وہ توحید کی بات) جس کی طرف آپ انہیں بلا رہے ہیں۔‘‘
(5) الشوریٰ، 42 : 13
1.
هَاأَنتُمْ هَؤُلَاءِ تُدْعَوْنَ لِتُنفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ
’’یاد رکھو تم وہ لوگ ہو جنہیں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے بلایا جاتا ہے۔‘‘
(1) محمد، 47 : 38
مزید ارشاد ہوا :
1.
وَمَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ لِتُؤْمِنُوابِرَبِّكُمْ وَقَدْ أَخَذَ مِيثَاقَكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَo
’’اور تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے، حالانکہ رسول( صلی اللہعلیہ وآلہ وسلم ) تمہیں بلا رہے ہیں کہ تم اپنے رب پر ایمان لاؤ اور بیشک (اللہ) تم سے مضبوط عہد لے چکا ہے، اگر تم ایمان لانے والے ہوo‘‘
(2) الحدید، 57 : 8
مذکورہ بالا آیاتِ قرآنی میں دعابمعنی دعوت اِستعمال ہوا ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہوآلہ وسلم کی شان میں بیان ہوا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم داعی الی اللہ ہیں اور مخلوقِ خدا کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے ہیں۔

2۔ دُعا بمعنی التجا

دَعَا يَدْعُو کا دوسرا اطلاق.پکارنا ہے یعنی بعض جگہ دعا یدعو دعا کرنےکے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اللہ رب العزت کے حضور اس کے عاجز بندے دعا کرتے ہیں اور وہ ان دعائوں کو قبول کرنے والا ہے۔ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں جب کوئی سائل اپنے ہاتھاٹھا کر مانگتا ہے تواس وقت التجا کی صورت میں دعا عبادت شمار ہوتی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ
’’اور تمہارے رب نے فرمایا ہے تم لوگ مجھ سے دعا کیا کرو میں ضرور قبول کروں گا۔‘‘
1.
المؤمن، 40 : 60

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اﷲ علیہ لکھتے ہیں :

(ادعونی) وحدونی قال رسول اﷲ صلی الله عليهوآله وسلم : الدعاء هو العبادة.

’’ادعونی کا معنی ہے صرف مجھ ہی سے دعا کرو، جیسا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہوآلہ وسلم نے فرمایا : دُعا عبادت ہے۔‘‘
1.
شاہ ولی اﷲ، الفوز الکبیر

اس حدیثِ پاک کی رو سے وہ دُعا شرک ہے جوغیر اللہ سے ہو اور بطورِ عبادت ہو لیکن یہ ذہن نشین رہے کہ محض پکارنا ہرگز عبادت نہیں۔

ذاتِ باری تعالیٰ حقیقی معین و مغیث اورمددگار ہے۔ قرآن مجید میں سیدنا آدمں سے لے کرحضور نبی اکرم سیدنا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک کئی انبیاء علیہم السلام کی وہ دعائیں مذکور ہیں جنہیں باری تعالیٰ نے شرفِ قبولیت سے نوازا۔ اسی طرح سابقہ اُمم کے لوگوں کا مختلف احوال میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے کا ذکر بھی قرآن مجید میں ملتا ہے۔
قرآنِ حکیم میں جن آیاتِ مبارکہ میں دَعَا يَدْعُوْ بمعنی ’’دعا‘‘ استعمال ہوا ہے ان میں سے چند درج ذیل ہیں :
1.
هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهُ
’’اسی جگہ زکریا (ں) نے اپنے رب سے دعا کی.‘‘
1.
اٰل عمران، 3 : 38

2. قُلْ أَرَأَيْتَكُم إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُ اللّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ أَغَيْرَ اللّهِ تَدْعُونَ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَo بَلْ إِيَّاهُ تَدْعُونَ فَيَكْشِفُ مَا تَدْعُونَ إِلَيْهِ إِنْ شَاءَ وَتَنسَوْنَ مَا تُشْرِكُونَo
’’آپ (ان کافروں سے) فرمائیے : ذرا یہ تو بتاؤ اگر تم پر اللہ کا عذاب آجائے یا تم پرقیامت آ پہنچے تو کیا(اس وقت عذاب سے بچنے کے لئے) اللہ کے سوا کسی اور کو پکاروگے؟ (بتاؤ) اگر تم سچے ہو۔ (ایسا ہرگز ممکن نہیں) بلکہ تم (اب بھی) اسی (اللہ) کو ہی پکارتے ہو پھر اگر وہ چاہے تو ان (مصیبتوں) کو دور فرما دیتا ہے جن کے لئے تم (اسے) پکارتے ہو اور (اس وقت) تم ان (بتوں) کو بھول جاتے ہو جنہیں (اللہ کا)شریک ٹھہراتے ہوo‘‘
1.
الانعام، 6 : 40۔ 41

3. قَالَ قَدْ أُجِيبَت دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِيمَا
’’ارشاد ہوا : بے شک تم دونوں کی دعا قبول کرلی گئی، سو تم دونوں ثابت قدم رہنا۔‘‘
(2) یونس، 10 : 89
1.
قُلِ ادْعُواْ اللّهَ أَوِ ادْعُواْ الرَّحْمَـنَ أَيًّا مَّا تَدْعُواْ فَلَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى
’’فرما دیجئے کہ اللہ کو پکارو یا رحمان کوپکارو، جس نام سے بھی پکارتے ہو (سب) اچھے نام اسی کے ہیں۔‘‘
(3) بنی اسرائیل، 17 : 110
1.
وَإِذَا مَسَّ الْإِنسَانَضُرٌّ دَعَا رَبَّهُ مُنِيبًا إِلَيْهِ ثُمَّ إِذَا خَوَّلَهُ نِعْمَةً مِّنْهُ نَسِيَ مَا كَانَ يَدْعُواْ إِلَيْهِ مِن قَبْلُ…
’’اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے رب کو اسی کی طرف رجوع کرتے ہوئے پکارتا ہے پھر جب (اللہ) اُسے اپنی جانب سے کوئی نعمت بخش دیتا ہے تو وہ اُس (تکلیف) کو بھول جاتا ہے جس کے لئےوہ پہلے دعا کیا کرتا تھا۔‘‘
(4) الزمر، 39 : 8
1.
لاَّ يَسْأَمُ الْإِنسَانُمِن دُعَاءِ الْخَيْرِ وَإِن مَّسَّهُ الشَّرُّفَيَؤُوسٌ قَنُوطٌo
’’انسان بھلائی مانگنے سے نہیں تھکتا اور اگر اسے برائی پہنچ جاتی ہے تو بہت ہی مایوس، آساور امید توڑ بیٹھنے والا ہو جاتا ہےo‘‘
(1) حم السجدہ، 41 : 49
1.
وَإِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ فَذُو دُعَاءٍعَرِيضٍo
’’اور جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو لمبی چوڑی دعا کرنیوالا ہوجاتا ہےo‘‘
(2) حم السجدۃ، 41 : 51
1.
فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانتَصِرْo
’’سو انہوں نے اپنے ربسے دعا کی کہ میں (اپنی قوم کے مظالم سے) عاجز ہوں پس تو انتقام لےo‘‘
(3) القمر، 54 : 10

مذکورہ بالا تمام آیات میں دعا کا معنی یہ ہے کہ اللہ رب العزت کو حقیقی معین و مغیث جان کر اُسی سے ہی دُعا کی جائے بلاشک و ریب وہی مجیب الدعوات ہے۔

3۔ دُعا بمعنی عبادت

محاورہِ قرآنی میں یہ بات بڑی عام اور متداول ہے کہ جہاں عبادت کا معنی مراد ہو وہاں قرآن یدعون کا استعمال کرتا ہے اور عموماً جہاں’’دعا‘‘ من دون اﷲ یا مع اﷲ کے ساتھ استعمال ہو، وہاں عبادت مراد ہوتی ہے۔ قرآن حکیم.میں اس معنی کے حوالےسے کثیر آیات وارد ہوئی ہیں جن میں سےچند ایک مندرجہ ذیل ہیں :
1.
وَلاَ تَطْرُدِ الَّذِينَيَدْعُونَ رَبَّهُم بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ
’’اور آپ ان (شکستہ دل اور خستہ حال) لوگوں کو (اپنی صحبت و قربت سے) دور نہ کیجئے جو صبح و شاماپنے رب کو صرف اس کی رضا چاہتے ہوئے پکارتے رہتے ہیں۔‘‘
(1) الانعام، 6 : 52
1.
قُلْ إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَعْبُدَ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللّهِ
’’فرما دیجئے کہ مجھے اس بات سے روک دیا گیا ہے کہ میںان (جھوٹے معبودوں) کی عبادت کروں جن کی تم اللہ کے سوا پرستش کرتے ہو۔‘‘
(2) الانعام، 6 : 56
1.
قُلْ أَنَدْعُواْ مِن دُونِ اللّهِ مَا لاَ يَنفَعُنَا وَلاَ يَضُرُّنَا
’’فرما دیجئے : کیا ہم اللہ کے سوا ایسی چیز کی عبادت کریں جو ہمیں نہ (تو) نفع پہنچا سکے اور نہ (ہی) ہمیں نقصان دے سکے۔‘‘
(3) الانعام، 6 : 71
1.
إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَمِن دُونِ اللّهِ عِبَادٌأَمْثَالُكُمْ
’’بے شک جن (بتوں) کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو وہ بھی تمہاری ہی طرح(اللہ کے) مملوک ہیں۔‘‘
(4) الاعراف، 7 : 194
1.
فَمَا أَغْنَتْ عَنْهُمْ آلِهَتُهُمُ الَّتِي يَدْعُونَ مِن دُونِ اللّهِ مِن شَيْءٍ
’’سو ان کے وہ جھوٹے معبود جنہیں وہاللہ کے سوا پوجتے تھے ان کے کچھ کام نہ آئے۔‘‘
(5) ھود، 11 : 101
1.
رَبَّنَا هَـؤُلاَءِ شُرَكَآؤُنَا الَّذِينَ كُنَّا نَدْعُوْاْ مِن دُونِكَ
’’اے ہمارے رب! یہی ہمارے شریک تھے جن کی ہم تجھے چھوڑ کر پرستش کرتے تھے۔‘‘
(1) النحل، 16 : 86
1.
لَن نَّدْعُوَاْ مِن دُونِهِ إِلَهًا لَّقَدْ قُلْنَا إِذًا شَطَطًاo
’’ہم اس کے سوا ہرگز کسی (جھوٹے) معبود کی پرستش نہیں کریں گے (اگر ایسا کریں تو) اس وقت ہم ضرور حق سے ہٹی ہوئی بات کریں گےo‘‘
(2) الکہف، 18 : 14
1.
يَدْعُواْ مِن دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَضُرُّهُ وَمَا لَا يَنفَعُهُ ذَلِكَ هُوَ الضَّلَالُ الْبَعِيدُo يَدْعُواْ لَمَن ضَرُّهُ أَقْرَبُ مِن نَّفْعِهِ لَبِئْسَ الْمَوْلَى وَلَبِئْسَ الْعَشِيرُo
’’وہ (شخص) اﷲ کو چھوڑ کر اس (بت) کی عبادت کرتا ہے جو نہ اسے نقصان پہنچا سکے اور نہ ہی اسے نفع پہنچا سکے، یہی تو (بہت) دور کی گمراہی ہےo وہ اسے پوجتا ہے جس کا نقصان اس کے نفع سےزیادہ قریب ہے، وہ کیا ہی برا مدد گار ہے اور کیا ہی برا ساتھی ہےo‘‘
(3) الحج، 22 : 12۔ 13

1.
إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُون.َمِن دُونِ اللَّهِ لَن يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِاجْتَمَعُوا لَهُ
’’بیشک جن (بتوں) کو تم اللہ کے سوا پوجتےہو وہ ہرگز ایک مکھی (بھی) پیدانہیں کرسکتے اگرچہ وہ سب اس (کام) کیلئے جمع ہوجائیں۔‘‘
(4) الحج، 22 : 73
1.
وَمَن يَدْعُ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ لَابُرْهَانَ لَهُ بِهِ
’’اور جو شخص اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کی پرستش کرتا ہے اس کے پاس اس کی کوئی سند نہیں ہے۔‘‘
(1) المؤمنون : 23 : 117
1.
وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ
’’اور (یہ) وہ لوگ ہیں جو اللہ کے ساتھ کسیدوسرے معبود کی پوجا نہیں کرتے اور نہ (ہی) کسی ایسی جان کو قتلکرتے ہیں جسے بغیر حق مارنا اللہ نے حرام فرمایا ہے اور نہ (ہی) بدکاری کرتے ہیں۔‘‘
(2) الفرقان، 25 : 68
1.
ثُمَّ قِيلَ لَهُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ تُشْرِكُونَo مِن دُونِاللَّهِ قَالُوا ضَلُّوا عَنَّا بَل لَّمْ نَكُن نَّدْعُواْ مِن قَبْلُ شَيْئًا
’’پھر ان سے کہا جائے گا : کہاں ہیں وہ (بت) جنہیں تم شریک ٹھہراتے تھے۔ اللہ کے سوا، وہ کہیں گے : وہ ہم سے گم ہوگئے بلکہہم تو پہلے کسی چیز کی پرستش نہیں کرتے تھے۔‘‘
(3) المؤمن، 40 : 73۔ 74
1.
وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَدْعُونَ مِن قَبْلُ
’’اور وہ سب (بت) اُن سے غائب ہو جائیں گے جن کی وہ پہلے پوجا کرتے تھے۔‘‘
(4) حم السجدہ، 41 : 48
1.
وَلَا يَمْلِكُ الَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِهِ الشَّفَاعَةَ
’’اور جن کی یہ (کافر لوگ) اللہ کے سوا پرستش کرتے ہیں وہ (تو) شفاعت کا (کوئی) اختیار نہیں رکھتے۔‘‘
(1) الزخرف، 43 : 86

دُعا بمعنی عبادت : جمہور مفسرین کی صراحت

مندرجہ بالا تمام آیاتِ مبارکہ کے ایسے مقامات میں جہاں دُعا کا معنی عبادت ہے وہاں اس سے مراد بتوں کی.عبادت لی گئی ہے۔ عبادت کے معنی میں دعا سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی اور کے لئے جائز نہیں جیسا کہ کفار و مشرکین بتوں کی عبادت کرتے تھے لیکن اس مفہوم کو انبیاء اور اولیاء عظام کو توسلاً پکارنے پرمنطبق کرنا صریحاً منشاءقرآن کی خلاف ورزی ہے۔ ایسے مقامات پرجمہور مفسرینِ کرام نے بھی دعا یدعو سے عبادت مراد لیا ہے محض.پکارنا نہیں، چند ایک حوالہ جات ملاحظہ کیجئے۔

1۔ تفسیر ابنِ عباس

رئیس المفسرین سیدنا عبد اﷲ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی تفسیر ’’تنویر المقباس منتفسیر ابن عباس‘‘ میں آیاتِ قرآنی میں دعا یدعو سے مشتق الفاظ جب مِنْ دُوْنِ اﷲِکے ساتھ ہوں تو ان کے معانی ’’عبادت و پرستش‘‘ اور مِنْ دُوْنِ اﷲِ سے مراد ’’کفار و مشرکین کے بت اور طواغیت‘‘ ہیں۔

1۔ سورۃ الانعام، 6 : 56

(اَنْ اَعْبُدَ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ) تعبدون (مِنْ دُوْنِ اﷲِ) من الأوثان.
یہاں تَدْعُوْنَ کا معنی تَعْبُدُوْنَ ہے

(یعنی جن کی تم عبادت کرتے ہو) اور مِنْ دُوْنِ اﷲِ کا معنی مِنَ الأوْثَانِ (بت) ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہعنہما نے تَدْعُوْنَ سے محض پکارنا مراد نہیںلیا بلکہ ان کے نزدیک.اس کا معنی عبادت کرناہے جبکہ مِنْ دُوْنِ اﷲِ کامعنی بت ہیں۔(1)
(1۔4) تنویر المقباس من تفسیر ابن عباس

2۔ سورة الانعام، 6 : 71

(اَنَدْعُوْ) تأمروننا ان تعبد (مِنْ دُوْنِ اﷲِ مَا لَا يَنْفَعُنَا) ان عبدناه فی الدنيا و الآخرة (وَلَا يَضُرُّنَا) إن لم نعبده فی الدنيا والآخرة.

أنَدْعُوْا

کا معنی ہے کہ تم ہمیں یہ کہتے ہو کہہم اﷲ کے سوا ایسی چیز کی عبادت کریں جوہمیں دنیا اور آخرت میں کوئی نفع نہیں پہنچا سکتے خواہ ہم عبادت کریں اور نہ ہی ہمیں کوئی نقصان پہنچا سکتے ہیں خواہ ہم ان کی عبادت نہ بھی کریں۔
(1۔4) تنویر المقباس من تفسیر ابن عباس

3۔ سورة الانعام، 6 : 108

(وَلَا تَسُبُّوا الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ) يعبدون.
وَلَا تَسُبُّوا الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ
کا معنی ہے اور (اے مسلمانو!) تم ان جھوٹے معبودوں کو گالی مت دو جنہیں یہ (مشرک لوگ) اللہ کے سوا پوجتے ہیں۔
(1۔4) تنویر المقباس من تفسیر ابن عباس

یہاں بھی يَدْعُوْنَ کا معنی محض پکارنا نہیں بلکہ يَعْبُدُوْنَ عبادت اور پرستش کرنا، ہے۔

4۔ سورة الأعراف،7 : 194

(إِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ) تعبدون (مِنْ دُوْنِ اﷲِ) من الأصنام.

اس آیت کریمہ میں بھی تَدْعُوْن َ کا معنی تَعْبُدُوْنَ عبادت کرنا اور مِنْ دُوْنِ اﷲِ کے معنی مِنَ الْأصْنَامِ یعنی.بت ہیں۔
(1۔4) تنویر المقباس من تفسیر ابن عباس

5۔ سورة الاعراف، 7 : 197

(وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ) تعبدون (مِنْ دُوْنِهِ) مِنْ دُوْنِ اﷲِ مِنَ الأوثان.

اور جن (بتوں) کو تم اس کے سوا پوجتے ہو۔
(1۔4) تنویر المقباس من تفسیر ابن عباس

یہاں بھی تَدْعُوْنَ کا معنی تَعْبُدُوْنَ ہے (جن کی تم عبادت کرتے ہو) اور من دونہ سے مراد أوثان (بت) ہیں۔

6۔ سورة یونس، 10 : 106

(وَلَا تَدْعُ) لَا تَعْبُدْ.
(1۔4) تنویر المقباس من تفسیر ابن عباس

وَلَا تَدْعُ سے مراد لا تعبد (عبادت نہ کرو) ہے۔

7۔ سورة ھود، 11 : 101

(يَدْعُوْنَ) يعبدون.
(1۔4) تنویر المقباس من تفسیر ابن عباس

يَدْعُونَ کا معنی يَعْبُدُوْنَ (وہ پوجتے تھے) ہے۔

8۔ سورة النحل، 16 : 86
(کُنَّا نَدْعُوْا) نعبد. کُنَّا نَدْعُوْا کا معنی کُنَّا نَعْبُدُ (جس کی.ہم عبادت کرتے تھے) ہے۔

9۔ سورة الکہف، 18 : 14
(لَنْ نَّدْعُوَاْ مِنْ دُوْنِهِ) لن نعبد من دون اﷲ. لَنْ نَّدْعُوَاْ مِنْ دُوْنِهِ کا معنی لَنْ نَعْبُدَ مِنْ دُوْنِ اﷲ (ہم اﷲ کے سوا ہرگز کسی (جھوٹے) معبود کی عبادت نہیں کریں گے) ہے۔
(1۔4) تنویر المقباس من تفسیر ابن عباس

10۔ سورة الحج، 22 : 12

(يَدْعُوْا) يعبد. یدعوا کا معنی یعبد (عبادت کرنا ہے) ہے۔

(1۔4) تنویر المقباس من تفسیر ابن عباس
11۔ سورة الحج، 22 : 73
(اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ) تعبدون (مِنْ دُوْنِ اﷲِ) من الأوثان.
’’بیشک جن (بتوں) کو تم اللہ کے سوا پوجتےہو۔‘‘
(1۔4) تنویر المقباس من تفسیر ابن عباس

اس آیت کریمہ میں بھی تدعون کا معنی تعبدون (تم عبادت کرتے ہو)ہے اور من دوناﷲ کا معنی من الأوثان (بت) ہے۔

12۔ سورة المؤمنون، 23: 117

 (وَمَنْ يَدْعُ) يعبد (مَعَ اﷲِ اِلٰهًا اٰخَرَ) من الأوثان.

اور جو شخص اللہ کے سوا بتوں کی عبادت کرتا ہے۔
(1۔4) تنویر المقباس من تفسیر

ابن عباس اس آیت میں بھی سیدنا ابن عباس رضی اللہعنہما سے مروی تفسیر کے مطابق يَدْعُ کا معنی يَعْبُدُ اور اِلٰهًاآخر کا معنی اوثانہے۔

13۔ سورة الفرقان، 25 : 68

(وَالَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اﷲِ) لا يعبدون مع اﷲ (اِلٰهًا اٰخَرَ) من الأصنام. لا يَدْعُوْنَ مَعَ اﷲ ِ کامعنی لَا يَعْبُدُوْنَ مَعَاﷲِ (وہ لوگ اﷲ کے ساتھ عبادت نہیں کرتے) اِلٰهًا اٰخَرَ کا معنی من الأصنام (بتوں میں سے) ہے۔

(1۔4) تنویر المقباس من تفسیر ابن عباس

14۔ سورة المؤمن، 40 : 74

(بَلْ لَّمْ نَکُنْ نَّدْعُوْا) نعبد. نَّدْعُوْا کا معنی نَعْبُدُ (ہم عبادت نہیں کرتے تھے) ہے۔

(1۔3) تنویر المقباس من تفسیر ابن عباس

15۔ سورة الزخرف، 43 :86

(وَلَا يَمْلِکُ الَّذِيْنَيَدْعُوْنَ) يعبدون (مِنْ دُوْنِهِ الشَّفَاعَةَ).
’’اور جن کی یہ (کافر لوگ) اللہ کے سوا پرستش کرتے ہیں وہ (تو) شفاعت کا(کوئی) اختیار نہیں رکھتے۔ ‘‘

(1۔3) تنویر المقباس من تفسیر ابن عباس

یہاں بھی یدعون کا معنی یعبدون ہے۔

16۔ سورة الجن، 72 : 18

(فَـلَا تَدْعُوْا) فلا تعبدوا. فلا تدعوا کا معنی فلا تعبدوا (پرستش مت کیا کرو) ہے۔

(1۔3) تنویر المقباس من تفسیر ابن عباس

2۔ تفسیر بغوی

امام بغوی کے نزدیک بھی جب مِنْ دُوْنِ اﷲِ کے ساتھ دَعَا يَدْعُوْ کا استعمال ہو تو عبادت کا معنی دیتا ہے۔ سورہ النحل کی آیت 86 کے تحت وہ رقمطراز ہیں :

(کُنَّا نَدْعُوْا مِنْ دُوْنِکَ) أربابًا و نَعبدهم.
کُنَّا نَدْعُوْا مِنْ دُوْنِکَ
کا معنی ہے وہ جھوٹے معبود جن کی ہم تجھے چھوڑ کر عبادت کرتے تھے۔

(4) بغوی، معالم التنزیل،3 : 81

3۔ تفسیر نسفی

معروف مفسر امام نسفی کے نزدیک بھی جب_تدعون کے الفاظ مِنْ دُوْنِ اﷲِ کے ساتھ آئیں تو اس سے مراد عبادت ہوتی ہے۔ سورۃ الاعراف کی آیت نمبر 194 کے تحت وہ لکھتے ہیں :

(اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اﷲِ) أی تعبدونهم و تسمونهم آلهة.
(1) نسفی، مدارک التنزیل، 2 : 168

اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَمِنْ دُوْنِ اﷲِ
کا معنی ہے (بے شکجن بتوں کی) تم عبادت کرتے ہو اور انہیں معبود سمجھتے ہو۔

4۔ تفسیر ابنِ کثیر

امام ابنِ کثیر نے بھی مِنْ دُوْنِ اﷲِ کے ساتھ یدعون اور تدعون کا معنی عبادت کیا ہے۔

1۔ سورة ھود، 11 : 101

(فَمَآ اَغْنَتْ عَنْهُمْ اٰلِهَتُهُمْ) أوثانهم (الَّتِيْ) يعبدونها و يدعونها (مِنْ دُوْنِ اﷲِ مِنْ شَئٍْ) ما نفعوهم ولا انقذهم لما جاء أمر اﷲ بإهلاکهم.
فَمَا أَغْنَتْ عَنْهُمْ اٰلِهَتُهُمْ
سے مراد اوثانھم (ان کے بت) ہے جن کی وہ عبادت کرتے اور پکارتے (مِنْ دُوْنِ اﷲِ مِنْ شَئٍْ) کا معنی ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے سوا انہوں نے کبھی بھی انہیں نفع پہنچایا اور نہ وہ انہیں اس وقت بچا سکے جب اﷲ تعالیٰ نے ان کی ہلاکت کا فیصلہ فرمایا۔

(2) ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، 2 : 460

2۔ سورة الحج، 22 : 73
(اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اﷲِلَنْ يَخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّلَوِ اجْتَمَعُوْا لَهُ)أی لو اجتمع جميع ما تعبدون من الأصنام و الانداد علی ان يقدروا علی خلق ذباب واحد.
اس آیت کا معنی ہے یعنی اگر وہ سب بت اور جھوٹے معبود بھی جمع ہو جائیں جنکی تم عبادت کرتے ہو تب بھی وہ اس بات پر قدرت نہیں رکھتے کہ ایک مچھر کی بھی تخلیق کر سکیں۔

(1) ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، 3 : 235

3۔ سورة المؤمن، 40 : 74

(لَمْ نَکُنْ نَّدْعُوْا مِنْ قَبْلُ شَيْئًا) أی جحدوا عبادتهم.
اس میں آیت کا معنی ہےکہ انہوں نے ان کی عبادت بجا لانے کا انکار کیا تو پتہ چلا کہ ہر جگہ’’ دَعَا يَدْعُوْ ‘‘کا معنی محض پکارنا نہیں بلکہ جب وہ مِنْ دُوْنِ اﷲِ کے ضمن میں ہوتو قرآنی اصول کے مطابق وہاں اس سے مراد عبادت ہوتی ہے اوریہی شرک ہے۔

(2) ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، 4 : 88

5۔ تفسیر الجلالین

عالم اسلام کے دینی تدریسی حلقوں میں متداولمعروف تفسیر جلالین میںبھی قرآنی اصول کے مطابق مِنْ دُوْنِ اﷲِ کے ساتھ یدعون اور تدعون کا معنی عبادت ہے۔

1۔ سورة الانعام، 6 : 56

(اَنْ اَعْبُدَ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ) تعبدون.
اس آیت کریمہ میں تَدْعُوْنَ کا معنی تَعْبُدُوْنَ (تم عبادت کرتے ہو) ہے۔

(1۔5) تفسیر الجلالین

2۔ سورة الاعراف، 7 : 194

(اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ) تعبدون.
’’بے شک جن بتوں کی تم عبادت کرتے ہو۔‘‘

(1۔5) تفسیر الجلالین تَدْعُوْنَ سے مراد تَعْبُدُوْنَ (تم عبادت کرتے ہو) ہے۔

3۔ سورة یونس 10 : 106

(وَلَا تَدْعُ) تَعْبد. وَلَا تَدْعُ کا معنی وَلَا تَعْبُدْ (اور تم عبادت نہ کرو) ہے۔

(1۔5) تفسیر الجلالین

4۔ سورة ھود، 11 : 101

(يَدْعُوْنَ) أی يَعبدون. يَدْعُوْن َ کا معنی يَعْبُدُوْنَ (عبادت کرتےتھے) ہے۔

(1۔5) تفسیر الجلالین

5۔ سورة الحج، 22 : 12

(يَدْعُوْا) يعبد (مِنْ دُوْنِ اﷲِ) من الصنم (مَا لَا يَضُرُّهُ) إن لم يعبده (وَمَا لَا يَنْفَعُهُ) إن عبده. يَدْعُوْا کا معنی يَعْبُدُ (عبادت کرتا ہے) ہے مِنْ دُوْنِ اﷲِ کا معنی من الصنم (بت) ہے
مَا لَا يَضُرُّهُ
کا معنی ہے جو اسے نقصان نہیں پہنچا سکتے اگرچہ عبادت نہبھی کریں اور وَمَا لَايَنْفَعُهُ کا معنی (جو اسے نفع نہیں پہنچا سکتے اگرچہ اس کی عبادت بھی کریں) ہے۔

(1۔5) تفسیر الجلالین

6۔ سورة الحج، 22 : 73

(اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اﷲِ) أی غيره و هم الأصنام. تَدْعُوْنَ يعنی تَعْبُدُوْنَ (عبادت کرتے ہیں) مِنْ دُوْنِ اﷲِ سے، اﷲ کے ما سوا بت مراد ہیں۔

(1۔3) تفسیر الجلالین

7۔ سورة المؤمن، 40 : 74

(مِنْ دُوْنِ اﷲِ) معه و هی الأصنام مِنْ دُوْنِ اﷲِ سے مراد اصنام (بت) ہیں۔
(بَلْ لَّمْ نَکُنْ نَّدْعُوْا مِنْ قَبْلُ شَيْئًا) أنکروا عبادتهم إياها.
اس آیتِ کریمہ میں کفار ومشرکین نے بتوں کی عبادت بجا لانے کا انکار کیا ہے محض پکارنے کا نہیں۔

(1۔3) تفسیر الجلالین


8۔ سورة الزخرف، 43 : 86

(وَلَا يَمْلِکُ الَّذِيْنَيَدْعُوْنَ) يعبدون أی الکفار.

اس آیت میں بھی يَدْعُوْن َ کا معنی يَعْبُدُوْنَ (کفار کا بتوں کی عبادت کرنا) ہے۔

(1۔3) تفسیر الجلالین

9۔ سورة الجن، 72 : 18

(وَ اَنَّ الْمَسَاجِدَ) مواضع الصلاة (لِلّٰهِ فَـلَا تَدْعُوْا) فيها (مَعَ اﷲِ اَحَدًا) بأن تشرکوا کما کانت اليهود و النصاری اذا دخلوا کنائسهم و بيعهمأشرکوا.

اس آیت کریمہ کا معنی یہ ہے کہ مساجد اﷲ کے لئے نماز کی جگہ ہیں بس اس میں اس کے ساتھ کسی کی عبادت نہ کرو، کہ تم اس طرح شرک کرو جس طرح یہود و نصاریٰ جب اپنی عبادت گاہوں میں جاتے تھے اور شرک کرتے تھے۔

(1) تفسیر الجلالین

6۔ تفسیر فتح القدیر

علامہ شوکانی نے بھی اپنی تفسیر’’فتح القدیر‘‘ میں دَعَا يَدْعُوْ جب مِنْ دُوْنِ اﷲِ کے ساتھ ہو تو اس کا معنی عبادت کیا ہے۔

1۔ سورة الانعام، 6 : 56

(قُلْ اِنِّيْ نُهِيْتُ) أمره اﷲ سبحانه أن يعود إلی مخاطبة الکفار ويخبرهم بأنه نهی عن عبادة ما يدعونه و يعبدونه من دون اﷲ.
قُلْ اِنِّيْ نُهِيْتُ
میں اﷲ سبحانہ و تعالیٰنے حکم دیا کہ کفار کی باتوں کا جواب دیاجائے اور انہیں آگاہ کیا جائے کہ اﷲ تعالیٰ نے ان بتوں کو بطور عبادت پکارنے سے منع فرمایا ہے جن کی یہ کفار اﷲ تعالیٰ کے سوا عبادت کرتے ہیں۔

(2) شوکانی، فتح القدیر، 2 : 122

2۔ سورة الانعام، 6 : 71

(قُلْ اَنَدْعُوْا مِنْ دُوْن اﷲِ) أی کيف ندعوا من دون اﷲ أصناما لا تنفعنا بوجه من وجوه النفع إن أردنا منها نفعا و لا نخشی ضرها بوجه من الوجوه، ومن کان هکذا فلا يستحق العبادة.
قُلْ اَنَدْعُوْ مِنْ دُوْنِ اﷲِ
سے مراد ہے : ہم کس طرح اﷲ تعالیٰ کے سوا ان بتوں کی عبادت_کریں جو ہمیں کسی طرح بھی کوئی نفعنہیں پہنچا سکتے خواہ ہم ان سے کسی نفع کی توقع رکھیں اور نہ ہمیں ان سے کسی قسم کے نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔پس جن کی اتنی سی حیثیت ہو وہ ہرگز عبادت کے لائق نہیں ہوسکتے۔

(1) شوکانی، فتح القدیر، 2 : 130

3۔ سورة ھود، 11 : 101

(فَمَا اَغْنَتْ عَنْهُمْ اٰلِهَتُهُم) أی فما دفعت عنهم أصنامهم التیيعبدونها من دون اﷲ شيئا من العذاب.
(فَمَا اَغْنَتْ عَنْهُمْ اٰلِهَتُهُمْ)
سے مراد ہے جن بتوں کی وہ اﷲ سبحانہ و تعالیٰ کے سوا عبادت کرتے تھے وہ ان کفار سے اﷲ تعالیٰ کا عذاب نہ ٹال سکے۔

(2) شوکانی، فتح القدیر، 2 : 524

4۔ سورة النحل، 16 : 86

(الَّذِيْنَ کُنَّا نَدْعُوْا مِنْ دُوْنِکَ) أی الذين کنا نعبدهم من دونک.
(اَلَّذِيْنَ کُنَّا نَدْعُوْا مِنْ دُوْنک)
سے مراد ہے : یہی ہمارے شریک تھے ہم تجھے چھوڑ کر جن کی عبادت کرتے تھے۔

(3) شوکانی، فتح القدیر، 3 : 187

5۔ سورة الحج، 22 : 12

(يَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اﷲِ) أی يعبد متجاوزا عبادة اﷲ الی عبادة الاصنام (مَا لَا يَضُرُّهُ) إن ترک عبادته، (وَلَا يَنْفَعُهُ)إن عبده لکون ذلک المعبود جمادا لا يقدر علی ضرر ولا نفع.
يَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اﷲِ
سے مراد ہے یعنی وہ اﷲ تعالیٰ کی عبادت کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کے سوا ان بتوں کی عبادت کرتا ہے جو اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا اگرچہ وہ اس کی_عبادت ترک بھی کرے اور نہ وہ بت اسے کوئی نفع پہنچاسکتا ہے خواہ وہ اس کی عبادت بھی کرے اس لئے کہ وہ جس بت کی عبادت کرتا ہے وہ تو ایک بے جان چیز ہے جو نفع و نقصان پہنچانے پر قادر ہی نہیں۔

6۔ سورة الحج، 22 : 73

(اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ) والمراد بما يدعونه من دون اﷲ : الاصنام التی کانت حول الکعبة و غيرها.
و قيل المراد بهم السعادة الذين صرفوهم عن طاعة اﷲ لکونهم أهلالحل والعقد فيهم.
و قيل الشياطين الذين حملوهم علی معصية اﷲ، والأول أوفق بالمقام و أظهر فی التمثيل.
’’اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ
سے مراد ایک تو وہ بت ہیں جو کعبۃ اﷲ کے ارد گرد تھے یا اس کے علاوہ دیگر بت جن کی مشرکین اﷲ کے سوا عبادت کرتے تھے۔

(1) شوکانی، فتح القدیر، 3 : 429

دوسرا یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان سے وہ سردار اور وڈیرے مراد ہیںجنہوں نے لوگوں کو اﷲ کی اطاعت سے روکا کیونکہ وہی ان کے ارباب بست و کشاد تھے۔
اور یہ بھی کہا گیاہے کہ ان سے مراد وہشیاطین ہیں جنہوں نے ان کو اﷲ کی معصیت پر ابھارا۔ مذکورہ معانی میں سے پہلا معنی مقام و محل اور تمثیل کے اعتبار سے زیادہ موافق ہے۔‘‘

7۔ سورة المؤمنون، 23 : 117

(وَمَنْ يَدْعُ مَعَ اﷲِ اِلٰهًا اٰخَرَ) يعبده مع اﷲ أو يعبده وحده.
وَمَنْ يَدْعُ مَعَ اﷲِ اِلٰهًا اٰخَرَ
سے مراد وہ شخص ہے جو اللہ کے ساتھ کسی.اور بت کی عبادت کرتا ہے یا اکیلے صرف بت کی عبادت کرتا ہے۔

(1) شوکانی، فتح القدیر، 3 : 501

8۔ سورة المؤمن، 40 : 74

(بَلْ لَّمْ نَکُنْ نَدْعُوْا مِنْ قَبْلُ شَيْئًا) أی لم نکن نعبد شيئا.
بَلْ لَّمْ نَکُنْ نَدْعُوا مِنْ قَبْلُ شَيْئًا
سے مراد ہے : ہم تو پہلے کسی بھی چیزکی عبادت نہیں کرتےتھے۔

(2) شوکانی، فتح القدیر، 4 : 502

9۔ سورة الزخرف، 43 : 86

(وَلَا يَمْلِکُ الَّذِيْنَيَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الشَّفَاعَةَ) أی لا يملکمن يدعونه من دون اﷲ من الأصنام.
وَلَا يَمْلِکُ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الشَّفَاعَةَ
سے مراد ہے : یہ کفار اللہ کے سوا جن بتوں کی عبادت کرتے ہیں۔ وہ (تو شفاعت کا) اختیار نہیںرکھتے۔

(3) شوکانی، فتح القدیر، 4 : 567

7۔ تفسیر روح المعانی

امام محمود آلوسی بھی اپنی تفسیر ’’روح المعانی‘‘ میں مِنْ دُوْنِ اﷲِ کے ساتھ دَعَا يَدْعُوْ کا معنی عبادت کرتے ہیں۔

1۔ سورة الانعام،6 : 56

(تَدْعُوْنَ) أی تعبدونهم. تَدْعُوْنَ کا معنی تَعْبُدُوْنَهُمْ ( تم ان بتوں کی عبادت کرتے ہو) ہے۔

(1) آلوسی، روح المعانی،7 : 168

2۔ سورة الاعراف،7 : 194

(اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ) … أی ان الذينتعبدونهم (مِنْ دُوْنِ اﷲِ).
اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْن
َ کا معنی ہے یعنی بےشک جن بتوں کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو۔

(2) آلوسی، روح المعانی،9 : 143

3۔ سورة الجن،72 : 18

(فَـلَا تَدْعُوْا) اَيْ فَـلَا تعبدوا فيها.
فَـلَا تَدْعُوْا
یعنی مسجدوں میں اللہ کے ساتھ کسی اور کی عبادت مت کیا کرو۔

(3) آلوسی، روح المعانی،29 : 104

8۔ الفوز الکبیر

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ برصغیر پاک و ہند کے ان علماء ربانیین میں سے ہیںجو غیر متنازع شخصیت کے مالک ہیں۔وہ ہر مسلک کے مسلمانوں کے ہاں قدر کی نگاہوں سے دیکھے جاتے ہیں۔ علوم القرآن پر ان کی اتنی گرفت ہے کہ ان کی تصنیف لطیف’’الفوز الکبیر‘‘ سند کا درجہ رکھتی ہے۔ اسی کتاب میں انہوں نے قرآنی اصول کا تعین کرتے ہوئے بطورنمونہ چند ایک آیات کے معانی بھی بیان کئے ہیں چنانچہ

سورۃ الانعام، 6 : 56 کے تحت وہ لکھتے ہیں :

(تَدْعُوْنَ مِن دُوْنِ اﷲِ) تَعْبُدُوْنَ.
تَدْعُوْنَ مِن دُوْنِ اﷲِ کا معنی ہے : جن کی تم اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کرتے ہو۔ یہاں انہوں نے بعض لوگوں کی طرف سے پیدا کردہ اس مغالطے کا رد کر دیا جو آیات کی غلط تفسیر و تاویل کرکے محض کسی کو پکارنے پر شرک کا فتوی لگادیتے ہیں۔ وہ اپنے استدلال کی بنیاد یہ بیان کرتے ہیں کہ قرآن میں ’’تدعون‘‘ آیا ہے تعبدون نہیں۔

(1) شاہ ولی اﷲ، الفوز الکبیر : 130

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک بھی قرآن کے ایسے مقامات پر تَدْعُوْنَ / يَدْعُوْنَ کا معنی تَعْبُدُوْنَ اور يَعْبُدُوْن یعنی عبادت و پرستش ہے۔
قرآن حکیم میں وارد شدہالفاظ کے صحیح اور درست معنی کا تعین وہشخص کر سکتا ہے جس نے قرآن مجید کا عمیق اور گہرا مطالعہ کیا ہو اور جسے علوم القرآن پر دسترس حاصل ہو۔ پس وہ اکابر ائمہ و مفسرین جو علماء ربانیین میں سے ہیں اور علومِ قرآن میں جن کی تحقیق و مہارت میں کسی کو شک و شبہ نہیں انہوں نے جو معانی.و مفاہیم متعین کئے اسپر کسی سطحی علم رکھنے والے شخص کی رائے کا کوئی وزن نہیں۔
آیات کی غلط تفسیر و تاویل کے ذریعے ممانعت.کا اطلاق استغاثہ اور توسُّل جیسے جائز شرعی امور پر نہیںکیا جا سکتا۔ کفار و مشرکین بزعمِ خویش اللہ جل مجدہ کے خلاف.اپنے جھوٹے معبودوں اور بتوں کو پکارتے تھے لہٰذا اگر کوئی عقیدتاً (معاذ اﷲ) اللہ کے مقابلے میں کسی کو پکارے تو یہ شرک اور کفر ہے۔

امام سیوطی (سورہِ یونس، 10 : 38) کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

( وَ ادْعُوْا) لِلْإعانة عليه.

’’تم اللہ کے مقابلے میں اپنے جھوٹے معبودوں کو پکارو۔‘‘

(1) تفسیر الجلالین

جب ہم انبیاء اور اولیاء سے استعانت و استغاثہ کی بات کرتے ہیں تو کبھی بھی انہیں اﷲ کے مقابلے میںنہیں لاتے۔ بعض لوگ جن آیات کا حوالہ دے کر شرک کا الزام لگاتے ہیں ان کا سیاق و سباق دیکھنے سے اس بات کا صاف پتاچلتا ہے کہ یہ آیات کفار و مشرکین کیلئے نازل ہوئی ہیں اور ان کاانبیاء علیہم السلام کے ساتھ کوئی تعلق ہی نہیں۔ لہٰذا ان کا اطلاق مسلمانوں پر کرنا صریحاً گناہ ہے۔ اجل مفسّرین کے نزدیک روئے زمین پر بد ترین مخلوق وہ ہیں جو کفار اور مشرکین کے حق میں اتری ہوئی آیات کا مسلمانوں اور مومنین پر اطلاق کرتے ہیں۔
اِستعانت و استغاثہ کی صورت میں نبی یا ولی کے توسُّل سے جو دعا مانگی جاتی ہے وہ شرعاً بالکل جائز ہے منافی توحید نہیں کیونکہ اس میں اﷲ جل مجدہ کے اس برگزیدہ بندے سے دعا کی درخواست کی جاتی ہے۔ اس موضوع پر آئندہ ابواب توسُّل اور استعانت کے ذیل میں مزید تفصیلات آرہی ہیں۔
شرک فی الدُّعاء
توحید فی الدعاء کے باب میں شرک اس وقت ہوتا ہے جب وہ دُعا بمعنی عبادت ہو جیسا کہ کفار و مشرکین کےمتعلق قرآن حکیم میں بصراحت ذکر ہوا۔ اللہ تعالیٰ کے سوا ہر غیر سے عبادت کی نفی کے لئے قرآن مجید میں لفظ مِنْ دُوْنِ اﷲِ استعمال ہوا ہے ۔ مِنْ دُوْنِ اﷲِ کے استعمال میں حکمت یہ ہے کہ عبادتِ الٰہی کا مقام اتنا اونچا اور ارفع ہے کہ یہاللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کیلئے ثابت.نہیں اس لئے کہ معبودانِ باطلہ ’’ادنیٰ ، گھٹیا، کم تر اور حقیر‘‘ ہیں۔ مِنْ دُوْنِ اﷲِ کے غیر موزوں اور غلط اطلاقات کی طرح بعض.لوگ لفظ دعا کا بھی.غلط اطلاق کرتے ہیں اور قرآن میں وارد شدہ ’’دعا‘‘کا معنی ہر جگہ ’’ندا‘‘ اور ’’پکار‘‘ کرتے ہیں کہ غیر اللہ تعالیٰ کو پکارنا شرک ہے حالانکہ مِنْ دُوْنِ اﷲِ کی طرح دَعَا يَدْعُو کا دائرہِاطلاق اور مراد بھی ہرجگہ سیاق و سباق کےپیشِ نظر متعین کرنا ضروری ہے۔
لہٰذا اگر کوئی بندہِ مؤمن اللہ تعالیٰ کو مستعان و مجیب حقیقی مان کر انبیاء علیہم السلام سے استغاثہکرے، کسی سے مدد طلب کرے، کسی روحانی شفاخانے سے علاج کروائے یا دم دروداور دعا کیلئے کسی نیک صالح بندے کے پاس جائے تو یہ ہرگز شرک نہیں ہاں اگر وہ شخص یہ عقیدہرکھے کہ مخلوق بھی اللہ رب العزت کے اذن کے بغیر مستقل، بنفسہ نفع و ضرر کی مالک ہے تو یہ عقیدہ یقینا شرک ہے۔
ایسی تمام آیاتِ مبارکہ کا سیاق و سباق کے حوالے سے جائزہ لینےکے بعد یہ حقیقت منکشف ہو جاتی ہے کہ مِنْ دُوْنِ اﷲِ سے مراد اللہ تعالیٰ کے دشمن (اصنام، بت اور طواغیتوغیرہ) ہیں جن کو مشرکینِ عرب اپنا حاجت روا اور نجات دہندہ سمجھتے تھے اس لئے غیر اللہ کو حقیقتاً حاجت روا سمجھ کر ان سے دُعا کرنا شرک ہے۔
قرآن و حدیث کی رو سے ایک مسلمان اپنے دوسرے مسلمان بھائی کیلئے مجازاً حاجت روا اور مشکل کشا ہو سکتا ہے، مجازی اور عرفی معنی میںایسا کہہ دینا شرک نہیں کیونکہ حقیقی حاجت روا، کار ساز تو اللہ تعالیٰ ہی کو مانا اور سمجھا جاتا ہے مگر اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی بارگاہ میں انبیاء و اولیاء و صلحاء کے وسیلے سے دعا کرنا مسنون ہے جس کا حکم خود قرآن نے ان الفاظ میں دیا ہے :
وَابْتَغُواْ إِلَيهِ الْوَسِيلَةَ
’’اور اس (کے حضور) تک (تقرب اور رسائی کا) وسیلہ تلاش کرو۔‘‘
1.
المائدۃ، 5 : 35خلاصہِ بحث

گذشتہ ہم نے توحید فی الدعا کے تحت دَعَا يَدْعُوْ کے درست اطلاقات کو قرآن و سنت کی روشنی میں واضح کیا جس سےیہ بات پایہِ ثبوت کو پہنچ جاتی ہے کہالفاظ قرآنی کے صحیح مفہوم سمجھنے کے لئے سیاق و سباق اور محاورہِ قرآن کا لحاظ رکھنا بے حد ضروری امر ہے۔ یونہیہر جگہ الفاظِ قرآنی کاغلط اطلاق کر کے کسی کو مشرک و بدعتی قرار دینا کسی طرح بھی درست نہیں۔ یہ بات تو ہم شروع میں بیان کرچکےہیں کہ عقیدہِ توحید اور حقیقتِ شرک کو سمجھنے کیلئے تصورات کا صحیح ادراک نہایت ضروری ہے لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم افراط و تفریط سے ہٹ کر اعتدال کے ساتھ تعلیماتِ اسلامی پر عمل پیرا ہوں۔ یہی دین کاتقاضا ہے اور یہی اللہ رب العزت اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا منشاء بھی اور اسی میں ہم سب کی نجات ہے۔_

حقیقت و مجاز کی تقسیم.لابدّی ہے

 



نفسِ اِستغاثہ کا اِنکار کرنے والے ایک طبقے کا مؤقف یہ ہے کہ ماتحت الاسباب اُمور میں اِستغاثہ جائز ہے، جبکہ اِس سلسلے میں حقیقت ومجاز کی کوئی حیثیت نہیں۔۔۔۔ اب اس مؤقف کے قائل لوگوں سے سوال یہ ہے کہ اگر ماتحت الاسباب میں اِستغاثہ کو جائز اور درست مانا جائے اور اِستغاثہ حقیقی و مجازی کو تسلیم نہ کیا جائے تو پھر ماتحت الاسباب اُمور میں مُستغاثِ حقیقی کون ہوگا؟۔۔۔ اگر مریض.کسی ڈاکٹر کے پاس علاج کے لئے جائے تو مُستعانِ حقیقی کون ہوا؟۔۔۔ کیا مُستعانِ حقیقی وہ ڈاکٹر جو مریض کے معالجے کی تدبیر کر رہا ہے یا کہ اللہ تعالی؟۔۔۔ اگر اِس کا جواب یہ ہو کہ دُنیوی اُمور میں بھی مُستعانِ حقیقی اللہ ہی ہےتو مافوق الاسباب اور ماتحت الاسباب میں باہم فرق کیا رہا؟۔۔۔ مافوق میں اسی اِستغاثہ کا نام شِرک اور ماتحت الاسباب میں اجازت! یہ کہاں کا اصول ہے کہ

حقیقت.و مجاز کا فرق ملحوظ رکھے بغیر مُستعانِ مطلق بھی اللہ کو قرار دیا جائے اور اُس کے غیر سے مدد بھی طلب کرتے پھریں؟ حالانکہ قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے:

وَ رَبُّنَا الرَّحْمٰنُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰی مَاتَصِفُوْنَo
اور ہمارا ربّ بے حد رحم فرمانے والا ہے اسی سے مدد طلب کی جاتیہے ان (دل آزار) باتوں پر جو (اے کافرو!) تم بیان کرتے ہوo
(الانب ي اء، 21 : 112)

دُوسری صورت میں اگر اِس کا جواب یہ دِیا جائے کہ اُمورِ ماتحت الاسباب میں مستغاثِ حقیقی.اللہ تبارک و تعالیٰ نہیں اِنسان ہی ہے تو اس سے تعدّد لازِم آئے گا۔۔۔ جو یقیناً شِرک ہے۔۔۔ کہ دُنیوی کاموں میں مستعان بندہ ہو اور مافوق الاسباب.کاموں میں اللہ تعالی۔ اِس دُوئی کی بنا پر جب بندے کو مستغاث ومستعان تسلیم کیا جائے تو یہ بالکل اُسی طرح کا شِرک قرارپائے گا جو کفار و مشرکینِ مکہ کا تھا کہ وہ دُنیوی اُمور میں بندوں کو مددگار تسلیم.کرتے اور دیگر اُمور میں اللہ تعالی کو مددگار مانتے تھے۔ اور اگر یہ بات کی جائے کہدنیاوی اُمور میں بھی مستعان اللہ ہی ہے تو پھر اس کے غیر سے مدد مانگنا کیونکر درست ہوگیا؟

فیصلہ کن بات یہ ہے.کہ جب معترضین کے نزدیک اُمورِ ماتحت الاسباب میں مُستغاثِ حقیقی.اللہ تعالی ہے اور مخلوق.سے اِستعانت فقط ظاہری اور مجازی معنی میں ہے، حقیقی معنی میں نہیں،۔۔۔ تو اِس صورت میں ایک سوال یہ اُبھرتا ہے کہ اگر ماتحت الاسباب میں غیر سے مدد چاہنا اِستغاثہ مجازی ہونے کیوجہ سے جائز ہے تو مافوق الاسباب میں مجاز ہونے کے باوجود کیسے حرام ہوگیا؟ جبکہ وہاں بھی اِستغاثہ حقیقی کی بجائے اِستغاثہ مجازی ہی تھا۔

مافوق الاسباب اُمور میں مجاز کا جواز

مافوق الاسباب اُمور میں مجاز کا اِستعمال اِس لحاظ سے بھی جائز ہے کہ وہ بظاہر تو اگرچہ اِستغاثہ ہوتا ہے مگر اِس سے مفہوم اور مُراد توسل ہوا کرتا ہے، اور مستعانِ حقیقی اللہ تعالی ہی کو جانا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ اِستغاثہ کا مجازی معنی میںاِستعمال قرآنِ مجید میں کئی صورتوں میں ہوا ہے، جن میں سے اکثراستعمالِ مجاز ما فوق الاسباب کے لئے ہوا ہے۔ قرآنِ حکیم میں مجاز کا اِستعمال جس کثرت کے ساتھ ہوا ہے اُس میں سے چند مقامات کا ہم یہاں ذِکر کریں گے تاکہ قارئین کے اذہان و قلوب میں یہ تصوّر اچھی طرح سے راسخ ہو جائے کہ حقیقت و مجاز کی تقسیم سے اِنکار کی صورت میں کس قدر خطرناک نتائج.برآمد ہوسکتے ہیں۔

جبرئیل علیہ السلام پر شِرک کا فتویٰ؟

حضرت جبرئیل علیہ السلام جب اﷲ کے اِذن سے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی وِلادت کے سلسلے میں حضرت مریم علیھا السلام کے پاس اِنسانی رُوپ میں آئے تو اُن سے کہا :
اِنَّمَا أنَا رَسُوْلُ رَبِّکِ لِأ ه َبَ لَکِ غُلَاماً زَکِيًّاo
(جبرئیل نے) کہا میں تو فقط تیرے ربّ کا بھیجا ہوا ہوں (اس لئے آیا ہوں) کہ میں تجھے ایک پاکیزہ بیٹا عطا کروںo
(مريم، 19 : 19)

مذکورہ بالا آیت میں جبرئیل امین علیہ السلام کا قول اُمورِ مافوق الاسباب میں سے ہے کیونکہ شادی اور اِزدواجی زندگی کے بغیر بیٹے کا ہونا اور اس پر یہ کہنا کہ :’’میں تجھے پاکیزہ بیٹا دوں‘‘ مافوق الاسباب اُمور میں مدد کی بہت بڑی قرآنی مثال ہے اور اسبابِ عادیہ کے بغیر اِس دنیا میں اِس کا تصوّر بھی محال ہے۔
قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ اگر کوئی شخص محض توسل کی نیت سے اﷲ ربّ العزّت کے کسی برگزیدہ بندے کے وسیلے سے اولاد طلب کرے تو کچھ نادان دوست فی الفور شِرک کا فتویٰ لگا دینے سے نہیں چوکتے جبکہ کوئی غیرخدا۔۔۔ جبرئیل علیہ السلام۔۔۔ کہے کہ ’’میں بیٹا دیتا ہوں‘‘ اور اﷲ تعالیٰ خود اُس کا ذِکر قرآنِ مجید میں کرے تو کیا یہ اُسی طرح شِرک نہیں ہوگا؟ مانگنے کی صورت میںتو مانگنے والا پھر بھی اِنسان ہی رہتا ہےمگر یہ کہنا کہ ’’میں بیٹا دیتا ہوں‘‘ اِس جملے کو اگر مجازی معنی پر محمول نہ کیا جائے تو حقیقی معنوں میں تو یہ سراسر خدا بننے کے مترادف ہے۔

اولاد سے نوازنا فعلِ اِلٰہی ہے اور بندے کا کام اُس سے اُس کی عطا کی بھیک مانگنا ہے۔ بندے کا غیراﷲ سے مانگنا اگر شِرک ہے تو پھر کسی دینے والے غیرِخدا کا قول یہ کہ ’’میں بیٹا دیتا ہوں‘‘ تو بدرجۂ اولیٰ شِرک قرار دیا جانا چاہئیے۔ اِس مقام پرسوال یہ پیدا ہوتا ہےکہ جبرئیلِ امین علیہ السلام تو ’’لِأهَبَ لَکِغُلَاماً‘‘ کہہ کر بھی (معاذ اﷲ) مشرک نہ ہوئے بلکہ اُن کا قول، قولِ حق رہا تو اُن کے اس قول کی آخر کیا توجیہہ ہوگی؟

جواب : یہ قول تو اگرچہ روح الامین کا ہےکہ میں بیٹا دیتا ہوں مگر اِس سے مُراد یہ ہے کہ وہ بیٹا جو اللہتبارک و تعالی عطا فرمانے والا ہے ’’میں‘‘ اُس کا سبب، وسیلہ اور ذریعہ بنتا ہوں۔ پس مذکورہ آیتِ کریمہ میں ’’لِأهَبَ لَکِ غُلَاماً‘‘ میں مدد دینے کا عمل پایا گیا مگر اس سے مُراد محض توسل ہے اور ان کا بیٹا دینے کا قول مجازِ

قرآنی کی ایک عمدہ مثال ہے۔
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام پر شِرک کا فتویٰ؟

سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے جب اپنی اُمت کے سامنے اِعلائے کلمۂ حق.کیا اور اُنہیں شِرک سےباز آنے اور اﷲ وحدہ لا شریک کی وحدانیت کیطرف بلانا چاہا تو اُنہوں نے اپنی قوم کو مختلف معجزات دِکھائے۔ قرآنِ مجید میں آپ کی اس دعوت کا ذکر یوں آیا ہے :

أَنِّي قَدْ جِئْتُكُم بِآيَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ أَنِّي أَخْلُقُ لَكُم مِّنَ الطِّينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ فَأَنفُخُ فِيهِ فَيَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِ اللّهِ وَأُبْرِىءُ الْأَكْمَهَ والْأَبْرَصَ وَأُحْيِـي الْمَوْتَى بِإِذْنِ اللّهِ وَأُنَبِّئُكُم بِمَا تَأْكُلُونَ وَمَا تَدَّخِرُونَ فِي بُيُوتِكُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لَّكُمْ إِنكُنتُم مُّؤْمِنِينَ O

بے شک میں تمہارے پاس تمہارے ربّ کی جانب سے ایک نشانی لے کر آیا ہوں، میں تمہارے لئے مٹی سے پرندے کی شکل جیسا (ایک پتلا) بناتا ہوں پھر میں اس میں پھونک مارتا ہوں سو وہاللہ کے حکم سے فوراً اڑنے والا پرندہ ہو جاتا ہے۔ اور میں مادر زاد اندھے اور سفید داغوالے کو شفا یاب کرتاہوں اور میں اللہ کے حکم سے مردے کو زندہ کر دیتا ہوں اور جو کچھ تم کھا کر آئے ہو اور جو کچھ تماپنے گھروں میں جمع کرتے ہو میں تمہیں (وہ سب کچھ) بتا دیتاہوں، بے شک اس میںتمہارے لئے نشانی ہے اگر تم ایمان رکھتے ہوo
(آل عمران، 3 : 49)

اس آیتِ کریمہ میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے دستِ اقدس سے کل پانچ معجزات کے ظہور کا ذکر آیا ہے :

1۔ مٹی سے پرندہ بناکر اُسے زِندہ کرنا

2۔ مادر زاد اَندھے کا علاج

3۔ سفید داغ (برص) کا علاج

4۔ اِحیائے موتیٰ (مُردوں کو زندہ کرنا)

5۔ غیب کی خبریں سرِعام بتانا
یہ پانچ معجزات اللہ ربّ العزّت نے

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو عطا فرمائے تھے اور آپ علیہ السلام علی الاعلان ان کا اِظہار بھی فرمایا کرتے تھے، جس کی تصدیق خود باری تعالیٰ نے قرآنِ مجید میںفرمائی ہے۔ یہاں فقط اِتنا سمجھ لینا کافی ہوگا کہ اِس آیتِ کریمہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں تمہارے پاس تمہارے ربّ کی طرف سے ایک نشانی لایا ہوں ’’ أَنِّي أَخْلُقُ لَكُم ‘‘ میں تمہارے لئے مٹی سے پرندے کی مورت بناتا ہوں ’’ أَجْعَلُ‘‘ کی بجائے ’’ أَخْلُقُ ‘‘ کا لفظ اِستعمال کیا گیا۔ اگر آپ غور کریں تو مذکورہ بالا آیتِ مبارکہ میں ساری بحث ہی حقیقت و مجاز کی ہے۔

حقیقی کارساز اللہ ربّ العزت ہی ہے

مذکورہ بالاآیاتِ کریمہ میں بھی سیدنا عیسیٰ علیہ السلام مستعانِ حقیقی نہیں ہیں بلکہ اللہ ہی حقیقی مدد کرنےوالا ہے۔ البتہ ان الفاظ کا اِستعمال فقط مجازا ہوا ہے اور ساری بحث الفاظ پر ہے، لہٰذا اُصول اور ضابطہ یہ ہوا کہ ایسے الفاظ کا اِستعمال مجازا جائز ہے۔ مذکورہ آیت میں تمام صیغے کلام کرنے والے کے ہیں مگر اِس کام کا حقیقت میں کارساز اللہ ہے گویا حقیقت باذن اللہ ہے۔ کلمات میں حقیقت و مجازکی قرآنِ کریم کے حوالے سے یہ بہترین مثال ہے۔
کیا یہ معجزہ نہیں؟

اِس موقع پر کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ یہسارا ماجرا تو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا معجزہ ہے اور اِستغاثہ کی بحث میں معجزے کا کیا کام کیونکہ اُسسے تو یہاں بحث ہی نہیں۔ اِس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ ’’معجزہ تو مریضوں کا شفایاب ہوجانا ہے نہ کہ اُن کا اپنی طرف شفا دینے کی نسبت کرنا‘‘۔ اصل بات یہی ہے کہ اُن کا اپنی طرف ان مافوق الفطرت اَعمال کی نسبت کرنا مجاز ہے اور شِفا اور بیماری

درحقیقت اﷲ ربّ العزّت کی طرف سے ہے۔ جب یہ بات اٹل ہے کہ مادر زاد اندھے کو اور سفید داغ والے کو شفاء دینے والا اللہ تبارک و تعالی ہی ہے تو پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہ کیوں فرمایا کہ ’’میں شفا دیتا ہوں‘‘؟ چاہیئے تو یوں تھا کہ اِرشاد فرماتے کہ اللہ تعالیٰ میرے ہاتھ پھیرنے سے مادرزاد اَندھے کو بینائی دیتا ہے اور کوڑھی کو شفا عطا فرماتا ہے، معجزے کی شانِ اعجازی میں تب بھی کوئی فرق نہ آتا مگر اُنہوں نے مجازاً اِن اَلفاظ کی نسبت اپنی.طرف کی۔

چوتھا قول اُنہوں نے فرمایا : وَ أُحْیِ الْمَوْتٰی بِإِذْنِ اﷲِ ’’ اور میں مُردوں کو اﷲ کے اِذن سے زندہ کرتا ہوں‘‘۔ یہاں تو اِنتہاء ہوگئی۔۔۔ ایسا نہیں فرمایا کہ تم مُردہ لے آؤ، میں اللہ سے اِلتجاء کروں گا، اللہ میری دُعا سے زندہ کردے گا، بلکہ یوں اِرشاد فرمایا :

’’میں مُردوں کو اللہ کے اِذن سے زِندہ کرتا ہوں‘‘۔ اِس کا مطلب یہ ہوا کہ ان صیغوں اور کلمات کا اِستعمال اور اُن کی کسی فردِ بشرکی طرف نسبت مجازی طور پر جائز ہے۔ مذکورہ آیتِ کریمہ میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا اپنی طرف اِن اَعمال و اَفعال کی نسبت کرنا نسبتِ مجازی ہونے کی بناء پر درست ہے

اور اِسی آیت کے دُوسرے حصے میں آپ نے بِإِذْنِ اﷲ کے اَلفاظ کے ذریعے حقیقی کارساز اللہ ربّ العزّت ہی کو قرار دیا۔

پانچویں بات حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہ فرمائی : وَأُنَبِّئُكُم بِمَا تَأْكُلُونَ وَمَا تَدَّخِرُونَ فِي بُيُوتِكُمْ ’’اور میں تمہیں بتاتا ہوں جو تم کھاتے ہو اور جو اپنے گھروں میں جمع کرتےہو‘‘۔ اس میں کوئی ذِکر نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے مطلع فرمانے سے ایسا کرتا ہوں، بلکہ فرمایا : أُنَبِّئُكُم میں تمہیں خبر دیتا ہوں۔ اِن الفاظ میں صراحت کے ساتھ علمِ غیب کا پہلو پایا گیا کیونکہ اِس بات کا علم کہ کسی نے کون سی چیز کھائیہے علمِ غیب ہے جو باری تعالیٰ کے بتائے بغیر کسی کو معلوم نہیں ہو سکتا۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے یوں نہیں فرمایا کہ خداوندِ قدّوس مجھے آگاہ فرماتا ہے۔ اگرچہ واقعتا حقیقت یہی ہے کہ اﷲہی آگاہ کرتا ہے مگراُنہوں نے اِس بات کا اپنے اَلفاظ میں اِظہار نہیں فرمایا اور مجازی طور پر اِس غیب کی نسبت اپنی طرف کی، جس سے یہ ظاہر ہوا کہ غیراﷲ کی طرف علم.ِغیب کی نسبت مجازی طور پر جائز ہے ورنہ رسولِ خدا سے یہ فعل ہرگز سرزد نہ ہوتا۔

سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کے سامنے دعوی نبوت کے سلسلے میں جو اِعلانات فرمائے آج کے نام نہاد مؤحّدین کے مؤقف کی روشنی میں وہ سب کے سب شِرک کی زدمیں آئے بغیر نہیں رہتے۔ اِس طرح کے طرزِ فکر سے تو اَنبیائے کرام جو خالصتاً توحید ہی کا پیغامِ سرمدی لے کر انسانیت کی طرف مبعوث ہوتے رہے ہیں، اُن کی قبائے عصمتِ نبوّت بھی تار تار ہوئے بغیر نہیں رہتی اور وہ بھی شِرک کے فتویٰ سے نہیں بچ سکتے۔

اﷲ تعالیٰ پر شِرک کا فتویٰ؟

سورۂ آل عمران کی مذکورہ بالا آیتِ مبارکہ میں تو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے اَلفاظ مذکور ہیں کہ میں اللہ کے اِذن سے مُردے زِندہ کرتا ہوں، مٹی سے پرندوں کی مُورتیں بنا کر اُن میں جان ڈالتا ہوں وغیرہ، مگر مندرجہ ذیل آیتِ کریمہ میں تو خود اللہ تعالیٰ بھیاُن کے اِس فعل کی تصدیق فرما رہا ہے۔ اِرشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَإِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ بِإِذْنِي

اور جب تم میرے حکم سے مٹی کے گارے سے پرندے کی شکل کی مانند (مورتی) بناتےتھے۔
(المائد ه ، 5 : 110)

اللہ تعالی نے یہ نہیں فرمایا کہ اے عیسیٰ علیک السلام میں نے تیرے لئے مٹی کے پرندے بنائے اورزِندہ کر دیئے، تیرے لئے مادر زاد اَندھوں کو بینائی دی اور برص زدہ لوگوں کو شفا دی۔ با وجود یہ کہ اللہ تعالی توحیدِ خالص کے حامل سادہ لوح مؤحّدین کی حسبِ خواہش حقیقت پر مبنی اِس اُسلوب کو اپنا بھی سکتا تھا، مگر اِس کے باوجود اُس خالق و مالک نے فرمایا :

فَتَنفُخُ فِيهَا فَتَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِي

پھر تم اس میں سے پھونک مارتے تھے تو وہ (مورتی) میرے حکم سے پرندہ بن جاتی تھی۔
(المائده، 5 : 110)

رُوح پھونکنا دَرحقیقت فعلِ اِلٰہی ہے
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہےکہ کسی میں رُوح پھونکنا اور جان ڈالنا خالقِ کائنات ہی کا کام ہے۔ مگر اُس نے خود سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے لئے فرمایا: فَتَنفُخُ فِيهَا فَتَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِي

’’پھر تو اُس.میں پھونک مارتا تو وہ میرے حکم سے اُڑنےلگتی‘‘ وَتُبْرِىءُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ بِإِذْنِي ’’اور جب تم مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں کو میرے حکم سے اچھا کر دیتے تھے‘‘ وَإِذْ تُخْرِجُ الْمَوتَى بِإِذْنِي ’’اور جب تم میرے حکم سے مُردوں کو ( زِندہ کرکے قبر سے) نکال (کھڑا کر) دیتے تھے‘‘۔ اِنآیاتِ مبارکہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایسے کلمات کا غیراﷲ پر اِطلاق مجازاً جائز ہے۔

اِن کلمات کو خود اللہ ربّ العزّت نے اِستعمال فرمایا اور انبیائے کرام علیھم السلام نے بھی اِستعمال کیا حالانکہ ایسے کلمات کی ادائیگی فرمانا اُن کی.مجبوری نہ تھی۔ اﷲ ربّ العزّت کا اپنے کلامِ مجید میں اِن اَلفاظ کو مجازی معنی میں اِستعمال کرنا نہ صرف مجازی معنی کے جواز کا سب سے بڑا ثبوت ہے بلکہ اس کے سنتِ اِلٰہیہ ہونے پر بھی دالّ ہے۔

اِس ساری بحث سے ظاہری اور باطنی اَسباب کے لئے ایک خاص ضابطہ بھی میسر آتا ہے کہ تمام مافوق الاسباب اُمور میں اَلفاظ اگرچہ براہِ راست.بندے اور مخلوق کی طرف منسوب ہوں تب بھی فاعلِ حقیقی اللہ تعالی ہی کو گردانا جائیگا کیونکہ

کارسازِحقیقی وُہی ہے۔

ALA HAZRAT (aleh rehma) AUR RADD-E-BIDDA'AT

 


 Assalam-u-Alaikum !
''Bid'at nayi baat ko kehte hen.Shar'yi istilah me bid'at us baat ko kaha jata he. Jiski asalquran o sunnat me na mile. Ya jo kaam quran o sunnat k khilaf ho
Mas'ala ye he k alahazrat parilzamat lagaye jate hen k unho ne bid'at ko riwaj dya lihaza ek aisa segment me ne chalaya jis me alahazrat ki aisibaatein code krke btayi jarahihen jis me bid'at ka radd kya gaya ho.
Aur iska name rakha gaya

¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤

Any other question?

#01
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
Bad Gumani Se Bachna:
"Aye Imaan Walo!!
Buhat Se Gumano Se Bacho Beshak Baaz Guman Gunaah Ho Jata Hai"
(Surah Hujrat Ayat#12 P#26)
Mafhum e Hadees:
"(Bure)Gumaan Se Dur Raho Ke (Bura)Gumaan Sub Se Barh Kar Jhooti Baat He"
(Bukhari 3/117 H#6066)
#02
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
Mazaar Sharif Ko Bousa DenaAur Tawaf Karna:
"Mazar Ka Tawaf Baneyat Tazem Najaiz Hai,
Tawaf Sirf Kaabe Ke Lye Makhsus He,
Bousa Dene Se Bachna Chahiye,
Ulma Ka Is Masle Mein Ikhtalaf He,
Aastana Bousi Aur Aankho SeLagana Jaiz He"
(Fatawa Razawiya 4/08)
#03
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
Jab Ke Paish e Nazar Jaliyaan Hon:
"Khabardar Jaali Sharif(Huzoor Ke Mazaar Ki) Ko Bosa Dene Ya Hath Lagane Se Bacho Ke Ye Khilafe Adab He
Bulkey 4 Hath Faasley Se Zyada Qarib Na Jao,
Ye Un Ki Rehmat Kya Kam HeKe Apne Huzur Bulwaiya"
(Fatawa Razawiya 10/765)
#04
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"Roza e Anwar Ka Na Tawaf Karo Na Sajda,
Na Itna Jhuko Ke Ruku Ke Barabar Ho, Huzur Ki TazeemUnki Ita'at Me He"
(Fatawa Razawiya 10/769)
#05
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
Mazaarat Par Chaadar Charhana:
"Mazaar Par Jab Chaadar Mojud Ho,
Kharab Na Hui Ho Badalne KiHaajat Nahi Tu Chaadar Charhana Fuzul He,
Bulkey Jo Daam Is Me Sarf Karen, ALLAH Ke Wali Ko Esaal e Sawab Karne K Lye Kisi Mohtaj Ko Den"
(Ahkaam e Shariyat 1/42)
#06
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
Urs Ka Din Muqarrar Karne Me Maslihat :
"Auliya Ki Arwah e Tayyiba Ko Unke Wisal Ke Din Quboor e Karima Ki Taraf Tawajju Zyada Hoti He, ChunaChey
Wo Waqt Jo Khaas Wisaal Ka He, Akhaz e Barakat Ke Lye Zyada Munasib Hota He"
(Malfuzat Sharif P#383)
#07
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
Urs Me Aatish Baazi Aur Niaz Ka Khana Lutana Haraam:
"Aatish Baazi Israaf He Aur Israaf Haraam He, Khane Ka Aise Lutana Be Adabi Aur Be Adabi Mehrumi He, Maal Ka Israf He.
Roshni Agar Masaliha e Shariya Se Khali Ho To Wo Bi Israaf He"
(Fatawa Razawiya 24/112)
#08
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"Randiyo Ka Naach Be Shak Haraam He, Urson Me Be Qaid Jaahilo Ne Ye Maasiyat Phelayi He"
(Fatawa Razawiya 29/92)
#09
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"Agar Wajd Saadiq (Sacha) Aur Haal Gaaib Aur Aqal Mastoor Aur Is Aalam Se Door He To Is Par To Qalam Hi Jaari Nhe,
Agar Ba Takalluf Krta He To Haraam, Riya Ke Lye He To Jahannam Ka Mustahiq Aur Saadiqeen Ke Sath Tashbih KiNiyyat He To Hasan He"
(Malfuzat P#231)
#10
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
Hurmat e Mazaamir:
Mazaamir Yani Aalat e Lahw o La'ab Bila Shuba Haraam Hen
Jin Ki Hurmat Auliya Aur Ulama Key Kalimaat Me Wazeh He.
Unkey Sunn'ney Sunaney Ke Gunah Hone Me Shak Nahi.
Aur Saadaat e Chisht Ki TarafUnki Nisbat Iftera He.
(Fatawa Razawiya 10/54)
#11
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"Nasha Haram He, Nasha Ki Cheezen Peena Jis Se Nashe Baazo Ki Munasibat Ho Ye Bi Gunah He"
(Ahkam e Shariat Part2)
#12
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
Tasweer Ki Hurmat:
"Jandaar Ki Taswiren Banana Khuwa Hath Se Ho Ya Aksi Haraam He Aur Ma'abudaan e Kuffaar Ki Taswiren BananaSakht Haraam He, In Sab Logo Ko Imam Banana GunahHe Aur Inke Peeche Namaz Makruh e Tehrimi Qarib ul Haraam He"
(Fatawa Razawiya 3/190)
#13
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"Sajda ALLAH K Siwa Kisi K Lye Nhe,
Gairullah Ko Sajda e Ibadat Shirk Aur Tazimi Haraam"
(Azzubdatu zZakiyya... P#5)
#14
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"Qabro Ki Taraf Shama Lejana Bid'at Or Maal Ka Ziyaa He"
Aage Kuch Soorton Me Jaiz Likha
(AlBareequl Manaar... P#9)
#15
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
TAAZiYA:
"Farzi Mazaar Banana Aur Uske Sath Asal Ka Sa MuamlaKarna Na Jaaiz Aur Bid'at He"
(Fatawa Razawiya 9/425)
#16
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
AURAT Aur MAZAAR:
"Jis Waqt Aurat (Mazar Par Jane K Lye) Ghar Se Irada Karti He La'nat Shuru Hojati He Aur Jab Tak Wapis Aati HeMalaika La'nat Krte Rehte Hen. Siwaye Roza e Rasool K Kisi Mazaar Pr Jane Ki Ijazat Nahi, K Wo Zarya e Magfirat He"
(Malfuzat P#240)
#17
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
Mazar Pe Haazri Ka Tariqa:
"Paainti (Qadmon) Ki Taraf SeJaaye,
Kam Az Kam Chaar (4) HaathKe Faasley Par Mawajeh Pr Khara Ho,
Ba Adab Salam Arz Karey.
3 Baar Alhamd Sharif,
1 Martaba Ayat ul Kursi,
7 Martaba Sura e Ikhlas Tilawat Karey.
(Fatawa Razawiya 9/522)
#18
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
Mazaar Pr Dua Ka Tariqa:
"Fatiha Ke Bad Zaair Sahib e Mazaar Ke Wasiley Se Dua Karey Aur Apna Jaaiz Matlab Pesh Karey.
Phir Salam Krta Hua Wapis Aye.
Mazaar Ko Na Hath Lgaye NaBosa Dey.
Tawaf Bil Ittefaq Na Jaaiz He Aur Sajda Haraam He.
(Fatawa Razawiya 9/522)
#19
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
TAAZiYA Aur TAMAASHA:
"Na Jaiz Baat Ka Tamasha Dekhna Bi Na Jaiz He Jis Tarah Bandar Nachana...."
(Malfuzat P#286)
#20
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
TAAZiYE Par MANNAT:
"Kisi Ne Agar Taaziye Pr Mannat Maani To Ye Nazar Baatil O Najaiz He.
(Fatawa Razawiya 24/501)

#21
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
BUTH Aur TAAZiYE Ka Charhawa:
"Buth Ka Charhawa (Parsaad)Gair e Khuda Ki Ibadat He Iska Khana Musalmano Ke Lye Haraam Aur Taaziye Ka Charhawa Bi Na Khaye.
Agar Chey Taaziya Daari Bi Haraam He Magar MusalmanKe Nazdik Donu Barabar Nahi"
(Fatawa Razawiya 21/246)
#22
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
Q.Shia Ki Sabeel Se Paani Peena Aur Chanda Dena Kesa He?
"Ye Sabeel Shia Ke Majmae Ke Lye He Jo Tabarra O La'nat Ka Majma He.
Ye Na Jaaiz O Gunah He Aur Unhe Chanda Dena Gunah He.
Aur Un Me Shamil Hone Walon Ka Hashr Unke Sath Hoga."
(Fatawa Razawiya 21/246)
#23
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"Wafaat Ke Moqey Par Shaadi Ke Se Takalluf Karna, Umda Farsh Bichana Ye Baatein Be Jaa Hen Aur Ye Aqida Bhi Galat K Sawab Teesrey Din Puhanchta He Ya Ek Din Zyada Ya Kam Puhnchey Ga Na Khas Chaney Bantna Zaruri He"
(AlHujjatul Fatiha LitTayyibit Ta'ayyun... P14)
#24
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
SOYAM Ka Khana:
"Ye Cheezen Ghani Na Ley, Faqeer Ley.
Jo Iske Na Milney Se Naraz Ho Uska Qalb Siyah Hota He.
Ye Hukum Aam Fatiha Ka He,
Niyaz e Auliya Tabarruk He, Wo Sab Le Saktey Hen.
Behtar He Ke Chehlam, Barsi Ka Khana Bi Ghani Na Khaye"
(Fatawa Razawiya 4)
#25
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"Mayyat Par Phoolon Ki Chaadar Daalne Me Shar'an Harj Nahi Bulke Niyyat e Hasan Se Hasan He
Jese
Quboor Par Phool Daalna Ke Jb Tak Wo Tarr Rahen Ge Tasbih Karen Ge Is Se Mayyit Ka Dil Behalta He Aur Rehmat Utarti He.
Fatawa Alamgiri Me He:
Qabro Par Phoolo Ka RakhnaAcha He"
(Fatawa Hindiya 5/351)
Deegar Hawala Jaat:
(Fatawa Imam Qazi Khan)
(Imdadul Miftah)
(Raddul Mukhtar 1/606)
(Fatawa Razawiya 9/105)
#26
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
GYARWEEN Ka In'eqaad:
"Mehbuban e Khuda Ki Yaadgari Ke Lye Beshak Din Muqarrar Karna Jaiz He
Huzur Har Saal Ke Ikhtimam
Par Shuhada e Uhad Ki Qabro Par Tashrif Le Jaatey
(Ibn e Jareer)
Mashaikh Ke Urs Manana Is Hadis Se Sabit He
(Ham'aat 11 By Shah Abdul Aziz)"
#27
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
OONCHi QABAR:
"Oonchi Qabar Banana Khilafe Sunnat He
(Raddul Mukhtar)
Haan Mashaikh Ki Qabro Par Imaarat Banana Jaiz Taa Key Logg Ziyarat Karen
Sarkar Aur Sahaba Ke Mazaar Pr Agle Zamane Me Qubbey Tameer Kye Gaye
(Kashf ul Gitaa P#55)"
(Fatawa Razawiya 9/418)
#28
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"Azaan Dene Se Shetan RohaTak (Madina Se Taqriban 36 Mile Door) Bhaagta He
(Muslim H#388 P#204)
Lihaza Qabr Par Ya Waqt e Tadfin Azaan Keh Saktey HenAur Is Se Mayyat Ka Dil Bhi Behalta He Aur Bi Buhat Se Fawaid Hen"
(Malfuzat P#526)
(Fatawa Razawiya 23/374)
#29
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"Fatiha, Esaal e Sawab Ka Name He Aur Momin Ke Amal e Naik Ka Ek Sawab Uski Niyyat Karte Hi Haasil HoJaata He Aur Amal Karne Par Dus Gunaa Milta He,
Khaana Saamne Na Ho To Sawab Na Puhnche Ga, Ye Gumaan Galat He
Sirf Baargah e Ilahi Me Dua Karna Ke Wo Sawab Mayyit Ko Puhnchaye"
(Al Hujja tul Fatiha LitTayyibit Ta'ayyuni Wal Fatiha P#14)
"Apni Zindagi Me Khud Apne Lye Esaal e Sawab Kar Sakta He"
(Malfuzat P#48)
#30
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
Aalahazrat RadiyALLAH Anhu Ne Qur'an Khuani Ke Lye Ujrat Lene Aur Dene Ko Na Jaiz Qarar Dya.
(Fatawa Razawiya 4/318) 

#31
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
Rawafiz (Shion) Ki Majalis Me Jana Aur Marsiya Sun'na Haram He.
Unki Niyaz Najasat He.
Aur Unki Majalis Me Haazri Sakht Mal'oon He.
Aur Us Me Shirkat Mojib e La'nat He.
Muharram Me Siyah (Black) Kaprey Sogg Hen Aur Sogg Haraam He.
(Fatawa Razawiya 23/756)
#32
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"Aatish Baazi o Gaane Jo Shadi Wagera Me Raaij,
Beshak Haraam He, Us TaqribMe Bi Sharik Na Hon"
(Haadiyun Naas P#3)
#33
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
Nasab Par Fakhar Karna Ya Dusre Musalman Ke Nasab Par Ta'an Karna Jaiz Nahi
(Irada tul Adab Li Faazilin Nasab P#3)
#34
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
Peer Aur Mureeda Ke Darmaiyan Parda:
Aalahazrat Imam Ahmed Raza Farmatey Hen!
"Beshak Har Gair Mehram Se Parda Farz He Jiska ALLAH Aur Uske Rasool Ne Hukam Dya He.
Beshak Peer Mureeda Ka Mehhram Nahee Ho Jaata, Un Se Bhi Parda Laazim He"
(Masail e Sima'a P#32)
#35
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"Jaali Faal Naamey Jo Awam Me Mash'hur Aur Akabir Ki Taraf Mansub Hen Be Asal O Baatil Hen"
(Fatawa Razawiya 23/327)
#36
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
Anbya Ki Hayaat Haqiqi Hassi Dunyawi He
(Ibn e Maja 2/291 H#291)
Anbya o Auliya Par Mahaz EkAan Ko Mout Taari Hoti He Phir Unko Wese Hi Hayaat Ataa Farma Di Jaati He
(Hashya Tafsir Saawi 1/340)
...Auliya Ki Zindagi Dunyawi Zindagi Se Afzal o Aala He (Zurqani 7/364)
...Apni Ummat Ko Dekhte Hen
(Mudkhal 1/252)
Sarkar Haqiqi Jismani Hayaat Se Wese Hi Zinda Hen Jese Wafaat Se Pehle They
(Fatawa Razawiya 10/764)
#37
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
Sarkar Ka Elm e Gaib Ataayi He :
(Sura Takwir Ayat#24 Para30)
Ke Tehat!
Huzur Ko Elm e Gaib Aata HeAur Wo Tumhe Bi Talim Farmate Hen
(Khaazin 4/357)
"ALLAH Aur Huzur Ka Elm Barabar To Darkanar, Agar Tamam Elm Ko Jama Bi Kya Jaye To Bhi Is Elm Ko Elm e Ilahi Se Wo Nisbat Hargiz NheHosakti Jo Ek Qatre Ke Karorwen Hisse Ko Karor Samandar Se He Ke Ye Mutanahi (Mehdood) He Aur Wo Gair Mutanahi He.
(Malfuzat P#93)
#38
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
PEER o MURSHiD:
"Hamesha Sunni Sahih ul Aqeeda Aur Paband e ShariatPeer Sa Bait Ki Jaye,
Jo Masail Jaanta Ho
Aur Us Ka Silsila Huzur Alaihissalatu Wassalaam Tak Muttasil Ho,
Aur Bila Shuba Jaahil Faqeer Ka Mureed Hona Shetan Ka Mureed Hona He"
(Malfozat P#297)
#39
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"Taanbe o Peetal K Taweez Makrooh Hen, Soney Chandi K Taweez Mard Ko Haraam Jbke Aurat Ko Jaiz Hen"
(Malfuzat P#328)
#40
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
Imam Zaamin Ka Jo Nikla He Ke Bazoo Me Kapra Lapet Kar Paisa Bandha Jaata He Iski Kuch Asal Nahi
(Malfuzat P#328)
#41
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
GAiRULLAH Se Madad :
"Huzur Aur Auliya Ko ALLAH Ka Banda Aur Uski Baargah Me Wasila Jaaney.
Unka Madad Karna ALLAH Ke Izn Se Maaney Aur Aetmad Karley Ke Be Hukm eKhuda Zarra Nahi Hil Sakta, ALLAH Ke Diye Bagair Koi Ek Hissa Nhe De Sakta"
(Ahkaam e Shariat 1/4)
#42
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
NAFAL Ya MUSTAHAB Ko FARZ Par Foqiat:
Aalahazrat Imam Ahmed Raza Khan Farmate Hen!
"Agar Farz Ki Adayegi Se Qabl Sunan o Nawafil Me Mashgool Ho To Sunan o Nawafil Qubul Nahi Hoti Balke Mojib e Ihanat Hoti Hen"
(Ayizzul Iktinah Fi Sadaqati Mani'iz Zakaat P#10)
#43
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
JASHN e WiLADAT Ka Charaagaan:
Sura e Furqan Ayat#67 Ke Tehat!
"Israaf Me Koi Bhalayi Nhe, Aur Bhalai Ke Kaamo Me Kharch Karne Me Koi Israaf Nhe
(Tafsir Kashaaf 3/293)"
(Malfuzat P#174)
Imam Ghazali Ki Ahyaaul Uloom Me Bi Is Se Muta'alliq Tazkira Milta He.
#44
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"Adab Ka Taqaza Ye He Ke Sarkar Ko Aapke Zaati Name Se Na Pukara Jaye Na Hi NaatMe Parha Jaye. Bulke Ya Rasoolallah, Ya Habiballah Keh Kar Nida Di Jaye,
Kahin Masajid, Posters Wagera Me Bi
<Ya Muhammad>
Ki Jaga Alqaabaat Tehrir Karey"
(Fatawa Razawiya 15/171)
#45
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
Un Mardon Par La'nat Farmayi Gayi Jo Aurton Se Mushabihat Karen, Aur Isi Tarah Un Aurton Par Jo Mardon Se Mushabihat Karen.
(Musnad Imam Ahmed 1/727 H#3151)
(Bukhari H#5885 P#4)
"Mard Ko Baal Barhana Jahalat Aur Chotti Rakhna Haraam He"
(Malfuzat P#281, 297)
#46
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"ALLAH Ko Aashiq Aur HuzurKo Ma'shooq Kehna Na Jaaiz He.Ye Lafz Shan e Ilahi K Laaiq Nahi"
(Fatawa Razawiya 21/114)
#47
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"Jo Madina Ko Yasrab Kahey Us Par Touba Waajib He,
Madina TAABA He
Madina TAABA He"
Raawi : Baraa Bin Aazib
Iski Sanad Sahee He
(Masnad Ahmed 4/285)
"Madina Paak Ko YASRAB Kehna Na Jaiz,Mamnu Aur Gunaah He Aur Kehne Wala Gunahgaar He"
(Fatawa Razawiya 21/116)
#48
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"Maal e Haraam Qabil e Qubool Nahi, Na Isey Raah e Khuda Karna Rawaa Na Is ParSawab He"
(Fatawa Razawiya 21/105)
#49
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"Aksar Log Safar Ki Kuch Makhsus Taarikhon Me Shaadi Wagera Nahi Kartey, Ye Sab Be Asal He"
(Fatawa Razawiya 23/272)

#50
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"Safar Ki Aakhri Budh Ki Koi Asal Nahi Na Is Din Huzur Ki Sehat Yaabi Ka Koi Suboot He"
(Fatawa Razawiya 10/117)
#51
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"Imam Zainul Abdin Ne Yazid Ko Magfirat K Lye Koi NamazNahi Batayi, Ye Riwayat Be Asal He"
(Fatawa Razawiya 10/117)
#52
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"Daarhi Mundwane Aur Katarwane Wala Shakhs Faasiq e Mo'lin He, Usko Imam Banana Gunaah He"
(Ahkaam e Shariat 2/321)
#53
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"Dawato Me Log Khare Hokar Khate Hen.
Huzur Ne Beth Kar Aur Jootey Utaar Kr Khane Ka Hukum Dya"
(Fatawa Africa P#38)
#54
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"Janab Nabi Karim Ne Farmaya!
Be Adabi Aur Bad Tehzibi He Ke Admi Kharey Hokar Peshab Karey"
(Fatawa Africa P#09-10)
#55
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
Imam Ahmed Raza Khan Ne Joota Pehan Kr Qabron Pr Chalne Ko Ahl e Quboor Ki Touheen Qarar Dya
(Fatawa Razawiya 4/107)
#56
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
BIJLI :
"ALLAH Ne Badalon Ke Chalane Ke Lye Ek Farishta Muqarrar Kya He, Jiska NameRa'ad He, Uska Qadd Buhat Chota He, Uske Haath Me Ek Buhat Bara Koraa He, Jab WoKoraa Badal Ko Maarta He Uski Tari Se Aag Jharti He Uska Name BIJLI He."
(Fatawa Razawiya 27/23)
#57
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
Q.ZALZALA Aane Ka Kya Baais He?
"Zalzala Aane Ka Asli Baais Aadmiyon Ke Gunah Hen AurPaida Yun Hota He Ke Ek Pahar Tamam Zamin Ko Muheet He, Iske Raishey Zamin Ke Andar Sab Jaga Pheley Hue Hen Jese Barey Darakht Ki Jaren Door Tak Andar Anadar Phelti Hen, Jis Zamin Par MuazALLAH Zalzaley Ka Hukum Hota He, Pahar Us Jaga Ke Raishey Ko Junbish Deta He Aur Zamin Hilne Lagti He"
(Fatawa Razawiya 27/93)
#58
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"Ghous e Paak Hamesha Se Hambli They. Jab Mansab e Ijtehad Hasil Hua Aur Mazhabe Hanbal Kamzor Hota Dekh Kar Uskey Mutabiq Fatwa Dya K Huzur Mohiuddin Aur Deen e Mateen Ke Ye CharonSutoon Hen, Jis Sutoon Me Zouf Dekha, Taqwiyat Farmayi"
(Fatawa Razawiya 2/433)
#59
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"Taash o Shatranj Donu Na Jaiz Hen Aur Taash Zyada Gunah o Haraam Ke Is Me Tasaweer Bi Hen"
(Fatawa Razawiya 24/113)
#60
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"Anbya e Karaam Ke Na Sirf Fuzlaat e Sharifa (Jism Se Kharij Hone Wale Zaayed Maaddey Misl e Boul o Baraz Wagera) Paak Bulke Inke Waldain Kareemain Ke Wo Nutfey Bi Paak Hen Jin Se Ye Hazraat Paida Hue"
(Shifa Sharif V1 P#168)
(Zurqani V1 P#194)
(Malfuzat P#456)
#61
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"Payinche Takhne Se Niche Rakhna Bi Makrooh e Tanzihi He"
Bahawala Bukhari
O Fatawa Alamgiri
(Fatawa Razawiya 27/93)
#62
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"Mard Ko Anguthi Sirf
Chandi, Ek Nag,
4.5 Masha Se Km Wazan Ki,
Ek Waqt Me Ek Pehana Jaiz He"
(Ahkam e Shariat 2/30)
#63
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"Zakaat Saadaat e Karaam Par Haraam e Qat'ai He Jis Par Ijmaa He"
(Meezan ul Kubra 2/13)
(Fatawa Razawiya 10/99)
#64
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"Sheikhen (Abubakr o Umer) Ka Gustakh Mutlaqan Kafir He"
"Siddiqu e Akbar Ki Sahabiat Ka Munkir Kafir He"
(Durr e Mukhtar 1/83)
"Inki Khilafat Ka Munkir KafirAur Mola Ali Ko Sab Se Afzal Janne Wala Gumrah He"
(Khazana tul Muftin 1/28)
(Fatawa Razawiya 14/250)
#65
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"Yazid Beshak Paleed Tha, Isey Paleed Likhna Aur KehnaJaiz He. Rehmatullahi Alaih Na Kahe"
(Fatawa Razawiya 14/603)
#66
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"SAHABA Ke Name Ke Sath RadiyALLAHu anhu Aur Baad Wale ULAMA Ke Sath Rehmatullah Alaihi Kehna Ya Likhna Mustahab He Aur IskaUlat Bhi Jaiz He, Bahijjatul Israr Wa Jumla Tasanif Me Raaij He."
(Tanwirul Absar)
(Durr e Mukhtar Sharah 2/350)
(Fatawa Razawiya 23/390)
#67
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"Qabar Par Namaz Parhna, Qabar Ki Taraf Namaz, Musalman Ki Qabar Par PaunRakhna, Qabron Par Masjid Banana Sab Haraam.
Agar Masjid Me Koi Qabar Ajaye To Charo Taraf Thori Diwar Qaim Kar Ke Us Par Chatt Bana Len, Ab Deewar Ki Taraf Bi Jaiz He
(Irfan e Shariat V2)
#68
¤Imam e Ahlesunnat Aur Radde Bid'aat¤
"Moonchein Itni Barhana Ke Mun Me Aayen, Haraam o Sakht Gunaah Aur MushrikonKi Mushabihat He"
(Ahkaam e Shariat V2)

منقبت بر اعلٰی حضرت رحمتہ اللہ تعالٰی علیہ


تونے باطل کو مٹایا اےامام احمد رضا
دین کا ڈنکا بجایا اے احمد رضا
دور باطل اور ضلالت ہند میں تھا
جس گھڑی تو مجدد بن کے آیا اے امام احمد رضا
تھر تھرائے کانپاٹھے باغیان مصطفٰے
قہر بن کے ان پہ چھایا اے امام احمد رضا
علم کا دریا ہوا ہے موجزن تحریر میں
جب قلم تو نے اٹھایااے امام احمد رضا
خلق کو وہ فیض بخشا علم سے بس کیاکہوں
علم کا دریا بہایا اے امام احمد رضا
اے امام اہلسنت ! نائبشاہ ہدٰی !
کیجئے ہم پر بھیسایہ اے امام احمد رضا
فیض جاری ہی رہے گاحشر تک تیرا شہا
کام ہے وہ کر دکھایا اے امام احمد رضا
قبر پر ہو بارش انوار حق تیری سدا
ہو نبی کا تجھ پہ سایہ اے امام احمد رضا
ہے بدرگاہ خدا عطار عاجز کی دعا
تجھ پہ ہو رحمت کا سایہ اے امام احمد رضا.

KYA KHAN-e-KABA PAR WAHABIYO KA KABZA UNKE HAQ HONE KI DALEEL HAI




KYA KHAN-e-KABA PAR
WAHABIYO KA KABZA UNKE HAQ HONE KI DALEEL HAI
*************** **************
********
*************** **************
********

Makka madina ahle iman ka markaz hai magar yahan
shuru se batil firqe qabza karte aaye hain or yeh silsila aaj tak jari hai magar baaz naadan is haqeeqat ko yeh keh kar jhutla dete hain ki khuda ke ghar par kabza kaise ho sakta hai..?

yaad rahe yeh bhi Hamare rab ki hiqmat aur haq aur batil me farq karne ke liye
hai...
woh din yaad kijiye jab
mushirikeen makke par
kabiz the aur hamare pyare aaqa janab ahmade mujtaba
muhammad mustafa sallahu alahe wasalam wahan se hijrat kar ke madina munawwara tashreef le gaye.
khana kaaba us waqt
bhi allah ka ghar tha aur us me 360 buth rakhe hue the...

[BHUKHARI JILD.2 PAGE 614]

ab jo yeh kahe wahan kabza nahin ho sakta woh is hadees ka kya jawab dega,?
khane kaaba jo shuru se hi allah ki azmaton ka ghar raha hai wahan mushrikeen kaaba ki gird nange ho kar
tawaf karte the fathhe makka ke baad hamare pyare aaqa janab
ahmade mujtaba muhammad mustafa sallahu alahe wasalam nealain farmaya ab koi mushrik yahan nanga ho kar tawaf nahi kar sakta..

[BHUKHARI JILD.2 PAGE 206]

Is hadees se yeh baat wazeh ho gai ke waha batil firqe kabiz rahe
Yazeed paleed ne bhi
makka madina par kabza jamaya.
makke madine ki
be hurmati ki masjid ke
sutnoon se ghoore bandhe jo nijasat karte.. 3 din masjide nawvi me
naamaz band karai , kaabe par patthar barsaye,
gilafe kaaba phada, makke madine ki paak biwiviyan apnee
kammine ka
shkar par hallah ki aur zina ki ijazat de di,
sahabi-e-rasool
abdullah bin zubair ko
suuli chadaya aur 3 din tak unki laash baazar me latki rahi

[IRFAN-E-SHARIY AT JILD.2 PAGE.31,
TAKMILUL IMAN PAGE.71 , TABRANI]

kya is paleed ki kaabe par hukumat uske haq hoone ki daleel hai
hamare pyare aaqa janab ahmade mujtaba muhammad mustafa sallahu alahe wasalam kewisal ke baad
360 hijri me zaakat ke
munkireen ne makka
madina par kabza jamaya
aur murtad abu tahir
quramti ki wajah se hajj
band ho gaya wahan hajiyon
ko shaheed kiya gaya aur
mazeed zulm ye hua ke 20
saal tak hajre aswad ko
kaabe se juda rakha gaya
(yeh log qaramti firqe ke
naam se bhi jane jate
hain)

[HUJJA TULLAH ALAL AALAMEEN
JILD.2 PAGE.829]

654 hijri me khalifa
musthasim billah ke daur me shia rafzion ne
makka aur madina par qabza jamaya ,
ye woh zamana tha
ke makka madina ke
tammam imam or khateeb sab shia the. wahan sunni hona
to door ki baat sunnion ki kitab padhne par bhi
pabandi thi..

[WAFA UL WAFA JILD.1 PAGE.429]

agar imame kaaba haq hone ki alamat hai shia bhi imame kaba tha kya ye bhi haq par tha.
kya musalmano ki naamaz is shia imam ke
piche hoti hogi jo ye
kehte hai imame kaba ko bura mat kaho woh yahan kya jawab denge
ab jo jawab shia imam ke bare mehai wahi jawab najdi imam ke bare me
hai inhi firqo me se ibne
abdul wahab najdi ne bhi makke madina par kabza jamaya ,
masjid aur mazarate sahaba ko shaheed
karaya ,
darood o salam band
karaya ,
ulmao ko shaheed
karaya ,
sunnion par kufr aur
shirk ka fatwa lagaya ,

[TAWASSULU BINNABI PAGE.105,
RADDUL MUHTAR ALA DURRE MUKHTAR KITABUL IMAN PAGE.309]

is gumrah firqe aur is ke
manne walon ke bare me allama shami rehmatullah aleh ne inki mazzamat me apni book me likhte
hain.:
jaisa ki hamare zamane
main ibne abdul wahab
najdi ke manne walon ka waqia ronoma hua ye log najd se nikle aur makka aur madina par inhone kabza kar liya apne ko hambli kahte the lekin inka aqeeda yeh tha ki hum hi
musalman hain aur jo
hamare aqeede ke khilaf hai woh mushrik hai is liye inhone ahle sunnat ka Qatl jaiz samjha aur ulma ko shaheed kiya

[DURRE MUKHTAR JILD.16 PAGE.377]

1925 me ek baar phir najdi aqaid ke hamil shah abdul aziz najdi wahabi ne makka madina par qabza
jamaya 10,000 se zayada
sahaba o ahle bait ke
maazar ko giraya , darood o salam band karaya ,
makka ka mauzzin azan ke baad darood padta tha usko yeh
kaam karne se shaheed kar dala

[TAWASSULU BINNABI PAGE.105]

makka madina me milad manana, charagha karna ,
darood o salam parhna to door ki baat wahabiyo ne
ye fatwa bhi de diya k
hamare pyare aaqa janab ahmade mujtaba muhammad mustafa sallahu alahe wasalam k roze par salam
padna biddat hai..

[FATHUL MAJID SHARAK KITABUT TOHID PAGE.219]

ab samjhe aap ke wahan mamulate ahle sunnat par pabandi kyun hai.... —

ضعفِ اِعتقاد پر مبنی رسوم سے اِجتناب کی ضرورت

 




دینِ اسلام کے احکام اور اوامر و نواہی کا منبع اور سرچشمہ قرآن اور سنت و سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔ اچھے اور صالح اسلامی معاشرے میں لوگ اطاعت الٰہی اور اتباع رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہی معیار عمل سمجھتے ہیں۔ تاہم دین سے دوری اور بے عملی کیوجہ سے ہر دور میں کچھ طبقات معاملاتِ حیات میں ڈگمگا جاتے ہیں۔ ایسے میں علمائےحق اور داعیان دین کا فریضہ ہوتا ہے کہ وہ سادہ لوح لوگوں کی ہدایت و رہنمائی فرمائیں۔ جائز اور ناجائز میں، حلال و حرام میں، توحید اور شرک میں فرق سمجھائیں۔احکامِ دین کی تبلیغ میں ذاتی مفادات کو آڑےنہ آنے دیں ورنہ دین کھیل بن جائے گا۔ ذیل میں اسی طرح کے کچھ امور کا ذکر ہو رہا ہے جن میں احتیاط اور پرہیز ضروری ہے مثلاً

مزارات کے درختوں کےنیچے منتیں ماننا

بعض مزارات کے قریب بیری وغیرہ کے درخت ہوتے ہیں جن کے نیچے لوگ چادریں بچھا کر بیٹھتے ہیں۔ اگر بیر گرے تو اُس کا احترام بجا لاتے ہیں اور اُس سے روزہ افطار کرنا ضروری خیال کرتے ہیں۔ بیری کے پھل سے بیٹےکی فال نکالتے ہیں اور اگر پتے گریں تو بیٹیوں کی فال نکالتےہیں۔ کوئی شخص خود بیر توڑ لے تو اُسے بھی سخت براگردانتے ہیں۔ یہ تمام اُمور توہم پرستی کو فروغ دینے والے ہیں اور ایسے تمام اُمور بے بنیاد ہیں اور شرعاً ان کی کوئی اصل نہیں لہٰذا علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو حقائق سے آگاہ کریں۔

اسی طرح قبر بلامقبور کی زیارت کرنے کی کوئی اصل نہیں ہے۔بعض جہلاء فرضی مزارات بنا کر اس کےساتھ اصل کا سا معاملہ کرتے ہیں جس کی فقہائے کرام نے اجازت نہیں دی۔ جس طرح کہ بعض جگہ لوگوں نے حضرت سیدنا شیخ عبدالقادر جیلا نی رحمۃ اللہ علیہ کے نام سے مزارات وغیرہ بنائے ہوئے ہیں جن پر عرس کرتے ہیں۔

محدث بریلوی رحمۃ اللہعلیہ سے اس سلسلے میں پوچھا گیا کہ’’پیرانِ پیر رحمۃ اللہ علیہ کے نام سے بعض جگہ مزار بنا لیا گیا ہے۔ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ اِن کے مزار کی اینٹ دفن ہے۔ اِس مزار میں ایسی.جگہ جا کر عرس کرنا، چادر چڑھانا کیسا ہے وہ قابلِ تعظیم ہے یا نہیں؟‘‘ آپ نے جواب دیا :

’’جھوٹا مزار بنانا اور اُس کی تعظیم جائزنہیں۔‘‘

فتاویٰ رضويه، 4 : 116

اِسی طرح بعض اولیاء اللہ کے مزارات کے قریب ایسے درخت ہوتے ہیں جن کے بارے میںلوگوں میں مشہور ہوتا ہے کہ اِن کے کاٹنےسے صاحبانِ مزار ناراض ہو جاتے ہیں لہٰذا اِنہیں کاٹنا مقاماتِ حرم کی طرح حرام ہے۔ یہسراسر جہالت ہے اور یہ بھی شرک فی التحریم ہے۔ علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ درست اور غلط عقیدے میں امتیاز پیدا کریں اورایسے شرکیہ عقائد سے عوام و خواص کو منع کریں۔

سر پر چوٹی رکھنا

مردوں کا سر پر کسی.بھی بزرگ کے نام پر چوٹی رکھنا اور پھر کٹوانے کی نذر ومنت ماننا شرعاً جائز نہیں۔ اعلیٰ حضرت محدث بریلوی رحمۃ اللہعلیہ نے نہایت عمدہ لکھا ہے۔ آپ سے پوچھا گیا کہ کیا مرد کو چوٹی رکھنا جائز ہے یا نہیں؟ بعض فقیر چوٹی رکھتے ہیں؟

آپ نے فرمایا کہ حرام ہے، حدیث میں آیا ہے:
أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم لَعَنَ الْمُتَشَبِّهِيْنَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ وَالْمُتَشَبِّهَاتِ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ.

[ابن ماجة، السنن، کتابالنکاح، باب فی المخنثين، 1 : 614، رقم :1904].

’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان مردوں پر جو عورتوں سے مشابہت رکھیں اور ایسی عورتوں پر جو مردوں سے مشابہت پیدا کریں، لعنت کی ہے۔‘‘

احمد رضا خان، الملفوظ، 2 : 210

بچوں کے سر پر اولیاء کے نام کی چوٹی رکھنے کے متعلق حضرت فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ مزید لکھتے ہیں :

’’بعض جاہل عورتوں میں دستور ہے کہ بچے کے سر پر بعض اولیائے کرام کے نام کی چوٹی.رکھتی ہیں اور اِس کی کچھ میعاد مقرر کرتی ہیں۔ اِس میعاد تک کتنی ہی بار بچےکا سر منڈے وہ چوٹی برقرار رکھتی ہیں، پھر میعاد گذار کر مزارپر لے جا کر وہ بال اُتارتی ہیں تو یہ محض بے اصل و بدعت ہے۔‘‘

فتاوي افريقه : 68

مختلف درختوں میں ارواحِ شہداء و اولیاء کا تصور کرنا

کئی دیہاتوں میں بعض جہلاء درختوں کے ساتھ عجیب و غریب داستانیں وضع کئے ہوئے ہیں اور فرضی قصے کہانیاں سنا کر مجاور لوگ لنگر کے لئے تحائف و ہدایا اکٹھے کرتے ہیں۔ اِنسے متعلق محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ سے مسئلہ پوچھا گیا : ’’کیا فرماتے ہیں علمائے اہلسنت اِس صورت میں کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ فلاں درخت پر شہید مرد ہیں اور فلاں طاق میں شہید مرد رہتے ہیںاور اُس درخت اور اُس طاق کے پاس جا کر ہر جمعرات کو فاتحہ،شیرینی اور چاول وغیرہ دلاتے ہیں، ہار لٹکاتے ہیں، لوبان سلگاتے ہیں، مرادیں مانگتے ہیں اور ایسا دستور اِس شہر میں بہت جگہ واقع ہے، کیا شہید مردان درختوں اور طاقوں میں رہتے ہیں اور یہ اشخاص حق پر ہیں یا باطل؟‘‘

محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس سے منع کرتے ہوئے جواب دیا : ’’یہ سب واہیات و خرافات اور جاہلانہ حماقات و بطالات ہیں اِن کا ازالہ لازم ہے۔ ما أنزل اﷲ بها من سلطان ولاحول ولاقوة إلا باﷲ العلي العظيم.‘‘

احمد رضا خان، احکام شريعت، 1 : 32

حلف میں احتیاط کا پہلو

شرعی حلف اللہ تعالیٰ کے نام کا ہوتا ہے تاہم فقہائے اُمت کےنزدیک کلام اللہ اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پر بھی حلف منعقد ہوجاتا ہے اور مستقبل میں کسی اَمر کے کرنے یا نہ کرنے پر قسم کھانا اور پھر توڑ دینے کی صورت میں کفّارہ لازم ہو جاتا ہے۔ اِس کے علاوہ اگر کوئی شخص کسی اور کے نام کا حلف اُٹھائے اور یہ عقیدہ رکھے کہ اِس کی حرمت اور حیثیت اُسی طرح ہے جیسے اللہ تعالیٰ کی یا کلام اللہ اور رسول اللہصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حلف کی، تو یہعقیدہ اصلاح طلب ہے کیونکہ اعتقاداً کسی اورکے نام پر قسم کی حرمت کو اللہ تعالیٰ کی قسم کی مثل جاننا شرک ہے۔ اگر کوئی شخص بوجہ جہالت یا سہواً کسی اور کی قسم.اُٹھائے تو وہ شرعی حلف نہیں ہوگا اِس لئے اِس پر کفّارہ لازم.نہیں۔

ایصالِ ثواب اور نذر و نیاز کے طریقوں میں احتیاط

نذر و نیاز برائے ایصالِ ثواب اور گیارہویں شریف وغیرہ جیسے مباح مستحب اور مستحسن اُمور کے بارے میں بعض علاقوں میں بہت سی چیزیں بوجہ جہالت رواج.پا گئی ہیں جو ازروئےشرع جائز نہیں مثلاً کوئی یہ کہے کہ اگر اُس نے گیارہویں کا دودھ نہ دیا تو اِس کی وجہ سے بھینس.یا گائے مر جائے گی، وہ بیمار ہو جائے گی یا رزق کم ہو جائے گا، اولاد کی موت واقع ہو جائے گی، گھر میں نقصان ہو جائے گا۔ اِسی طرح کاروبار اور کھیتی میں بزرگوں کا حصہ یعنی زکوٰۃ اور عشر شرعی وغیرہ سے الگ بزرگوں کی سالانہ شیرینی جو عوام میں مروج ہے یہ شرعاً دینا تو جائز ہے لیکن.نہ دینے پر توہم پرستی کو فروغ دینا جائز نہیں ہے۔ یہ تمام باتیں بوجہ جہالت.فروغ پا جاتی ہیں اور پھر لوگ اِن کے ساتھ نفع و نقصان کا عقیدہ وابستہ کر لیتے ہیں جو کہ شرک فی العبادت ہے لہٰذا اِن اُمور سے بچنا ضروری ہے۔

ائمہ اہلِ بیت اطہار کے لئے نیاز برائے.ایصالِ ثواب مسلمانوں کامعمول ہے۔ اس عمل میںبھی بعض حالتوں میں افراط و تفریط کا عنصر موجود ہے۔ اس مستحب عمل کو بجا لانے والے اگر نذر کی طرح فرض اور واجب سمجھ کر اسے ادا کریں تو یہ بھی احکامِ شریعت سے انحراف ہے۔ اسی طرح اس کے رد عمل میں بعض لوگ اس مستحب عمل کوقطعی حرام اور شرک کے زمرے میں شامل کرکے ختمِ نیاز وغیرہ کا اہتمام کرنے والوں کو مشرک ٹھہراتے ہیں حالانکہ یہ عمل مستحب ہے اس میں حرمت اور شرک کی کوئی علت موجود نہیںہوتی۔ ایسی نذر و نیاز کے ساتھ بعض لوگ اپنی طرف سے طرح طرح کی شرائط و حدود اور پابندیاں عائد کرتے ہیں

مثلاً فلاں شخص کھا سکتا ہے، فلاں عورت نہیںکھا سکتی، گھر سے باہر لے جانا منع ہے وغیرہ وغیرہ۔ اِسی طرح اولیاء اللہ کے نام جانوروں کو منسوب کر کے اُن کا احترام بجا لانا، اُن سے کوئی کام.لینا شرعاً حرام سمجھنا اور اُن کی بے حرمتی کو بھی حرام سمجھنا ایسا عقیدہ شرک فی التحریم میں شمار ہوتا ہے لہٰذا عوام پر ایسی باریکیاں واضح کر دینی چاہئیں۔
.

ASHRA MUBASSHARA BIL JANNAH