Pages

Wednesday, November 20, 2013

توحید و شرک کا لُغوی,شرعی و اصطلاحی مفہوم



توحید کا لغوی معنی

 

توحید ’وحدت‘ سے بنا ہے جس کا معنی ہے: ایک کو ماننا اور ایک سے زیادہ ماننے سے انکار کرنا۔ ائمہ لغت نے توحید کی تعریف اس طرح کی ہے:
التوحيد تفعيل من الوحدة، وهو جعل الشيء واحداً، والمقصود بتوحيد اﷲ تعالی اعتقاد أنه تعالی واحد في ذاته وفي صفاته وفي أفعاله، فلا يشارکه فيها أحد ولا يشبهه فيها أحد.
’’توحید ’الوحدۃ‘ سے باب تفعیل کا مصدر ہے۔ اس سے مراد کسی چیز کو ایک قرار دینا ہے۔ اللہ کی توحید سے مراد ہے اس چیز کا اعتقاد رکھنا کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات، صفات اور افعال میں واحد و یکتا ہے ان میں اس کا کوئی شریک ہے نہ کوئی اس کا مشابہ۔‘‘

توحید کا شرعی و اصطلاحی مفہوم

 

شریعت کی اصطلاح میں یہ عقیدہ رکھنا توحید ہے کہ ’’اللہ تعالیٰ اپنی ذات، صفات اور جملہ اوصاف و کمالات میں یکتا و بے مثال ہے، اس کا کوئی ساجھی یا شریک نہیں، کوئی اس کا ہم پلہ یا ہم مرتبہ نہیں۔‘‘
1۔ امام ابو جعفر الطحاوی رحمۃ اللہ علیہ ( 321ھ) عقیدہ توحید کی تشریح کرتے ہوئے اس کے شرعی و اصطلاحی مفہوم کو درج ذیل الفاظ میں بیان کرتے ہیں :
نقول في توحيد اﷲ معتقدين بتوفيق اﷲ: اِن اﷲ وَاحِدٌ لا شريک لهُ. ولا شيئ مثلهُ ولا شيئ يعجزهُ، ولا الٰه غيرهُ، قديم بلا اِبتدائٍ، دائم بلا انتهائٍ. لا يفنی ولا يبيد. ولا يکون إلا ما يريد. لا تبلغهُ الأوهام ولا تدرکهُ الأفهام. ولا يشبههُ الأنام، حَيّ لا يموت، قيوم لا ينام. خالق بلا حاجة. رازق بلا مؤنة، مميت بلا مخافةٍ، باعث بلا مشقةٍ. مازال بصفاتهِ قديمًا قبل خلقه لم يزدد بکونهم شيئًا لم يکن قبلهم من صفتهِ. وکما کان بصفاتهِ ازلياً کذالک لا يزال عليها أبديا، ليس بعد خلقِِ الخلق استفادَ اِسم الخالق، ولا بأحداثهِ البرية استفاد اِسم البارئ. لهُ معنٰی الربوبية ولا مربوب، و معنی الخالق ولا مخلوق. وکما انهُ محی الموتٰی بعد ما احيا استحق هذا الإسم قبل احيائهم کذالک استحق اسم الخالق قبل انشائهم. ذالک بأنهُ علی کل شيئٍ قدير، وکل شيئٍ إليه فقيره، وکل أمر عَليه يسير لا يحتاج إلٰی شيئٍ، ليس کمثله شيئ وهو السميع البصير. خلق الخلق بعلمهِ وقدر لهم اقدارًا وضرب لهم اٰجالاً. ولم يخف عليه شیء قبل أن يخلقهم. وعلم ما هم عاملونَ قبل أن يخلقهم. وأمرهم بطاعته ونهاهم عن معصيته. وکل شيئٍ يجری بتقديرهِ ومشيئتهِ، و مشيئته تنفذ. لا مشيئة للعباد اِلاَّ مَا شائَ لهم، فما شاء لهم کان وما لم يشأ لم يکن. يهدی من يشآئُ ويعصم ويعافی فضلًا، ويضل من يشآئُ ويخذلُ ويبتلی عدلا. وکلهم يتقلبون فی مشيئتهِ بين فضلهِ وعدلهِ. وهو متعال عن الأضدادِ والاندادِ، لارادّ لقضائِ هِ ولا معقب لحکمهِ ولا غالب لامرهِ. اٰمنا بذالک کلهُ وايقنا ان کلا من عندهِ.
’’ہم اللہ رب العزت کی توحید پر اعتقاد رکھتے ہوئے اُسی کی توفیق سے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات یکتا و یگانہ ہے اُس کے ساتھ کوئی شریک نہیں، کوئی شے اُس کی مثل نہیں اور کوئی چیز اللہ تعالیٰ کو کمزور اور عاجز نہیں کر سکتی، اُس کے سواء کوئی لائقِ عبادت نہیں۔ وہ قدیم ہے جس کے وجود کے لئے کوئی ابتداء نہیں، وہ زندہ جاوید ہے جس کے وجود کے لئے کوئی انتہاء نہیں۔ اُس کی ذات کو فنا اور زوال نہیں۔ اُس کے ارادہ کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا۔ اُس کی حقیقت فکرِ اِنسانی کی رسائی سے بلند ہے اور اِنسانی عقل و فہم اُس کے ادراک سے قاصر ہے۔ اس کی مخلوق کے ساتھ کوئی مشابہت نہیں ہے۔ وہ ازل سے زندہ ہے جس پر کبھی موت وارد نہیں ہوگی اور ہمیشہ سے قائم رہنے والا ہے جو نیند سے پاک ہے۔ وہ بغیر کسی حاجت کے خالق ہے، وہ بغیر کسی محنت کے رازق ہے۔ بغیر کسی خوف و خطر کے وہ موت دینے والا ہے۔ وہ بغیر کسی مشقت کے دوبارہ زندہ کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ مخلوق کو پیدا کرنے سے قبل ہی اپنی صفاتِ کاملہ سے متصف تھا۔ اُس نے مخلوق کے وجود سے کوئی ایسی صفت حاصل نہیں کی جو اُسے پہلے سے حاصل نہ تھی۔ جس طرح ازل میں وہ صفاتِ اُلوہیت سے متصف تھا اُسی طرح ابد تک بلاکم و کاست اِن سے متصف رہے گا۔ اُس نے اپنے لئے خالق اور باری کا نام مخلوقات اور کائنات کی پیدائش کے بعد حاصل نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ کو ربوبیت کی صفت اُس وقت بھی حاصل تھی جب کوئی مربوب یعنی پرورش پانے والا نہ تھا اور اُسے خالق کی صفت اُس وقت بھی حاصل تھی جب کسی مخلوق کا وجود ہی نہ تھا۔ جس طرح وہ مُردوں کو زندہ کرنے والا انہیں زندہ کرنے کے بعد کہلایا حالانکہ وہ انہیں زندہ کرنے سے پہلے بھی اِس نام کا مستحق تھا اِسی طرح مخلوق کی ایجاد سے پہلے بھی وہ خالق کے نام کا مستحق تھا۔ یہ اس وجہ سے ہے کہ وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، ہر چیز اُس کی محتاج ہے، ہر امر کا کرنا اس پر آسان ہے اور وہ خود کسی کا محتاج نہیں، اُس کی مثل کوئی چیز نہیں ہے اور وہی سننے والا دیکھنے والا ہے۔ اُس نے مخلوق کو اپنے علم کے مطابق پیدا کیا ہے، اُس نے مخلوق کے لئے ہر ضروری چیز کا اندازہ اور مقدار پہلے سے مقرر اور متعین کر دی ہے اور اُس نے اُن کی موت کے اوقات مقرر کر دئیے ہیں۔ مخلوق کو پیدا کرنے سے پہلے بھی اُس سے کوئی شے پوشیدہ نہیں تھی، اُسے ان کی تخلیق سے قبل ہی علم تھا کہ یہ لوگ (پیدا ہونے کے بعد) کیا کریں گے۔ اُس نے انہیں اپنی اطاعت کا حکم دیا اور اپنی نافرمانی و سرکشی سے منع کیا۔ ہر چیز اُس کی مشیت اور تقدیر کے مطابق چلتی ہے اور اسی کی مشیت و ارادہ نافذ ہوتا ہے۔ بندوں کی (اپنی) کوئی مشیت و ارادہ نہیں ہوتا مگر جو وہ ان کے لئے چاہے پس جو وہ ان کے لئے چاہے وہی ہوتا ہے اور جو وہ نہ چاہے نہیں ہوتا۔ وہ جسے چاہے اپنے فضل سے ہدایت کی توفیق دیتا ہے، نافرمانی سے بچاتا ہے اور معاف کرتا ہے، اور وہ جسے چاہے اپنے عدل کی بناء پر گمراہ کرتا ہے، رسوا ٹھہراتا ہے اور عذاب میں مبتلا کرتا ہے۔ تمام لوگ اُس کی مشیت کے اندر اُس کے فضل اور عدل کے درمیان گردش کرتے رہتے ہیں۔ نہ کوئی اُس کا مدِّمقابل ہے اور نہ کوئی شریک۔ اُس کے فیصلہ کو کوئی رد کرنے والا نہیں، اُس کے حکم کے آگے کوئی پس و پیش کرنے والا نہیں اور کوئی اس کے امر پر غالب آنے والا نہیں۔ ہم اِن تمام باتوں پر ایمان لا چکے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ یہ سب کچھ اُس کی طرف سے ہے۔‘‘
  1.  ابو جعفر الطحاوی، العقیدۃ الطحاویۃ: 9۔11
2۔ امام ابوالحسن الاشعری رحمۃ اللہ علیہ ( 324ھ) توحید کی تشریح ان الفاظ میں کرتے ہیں :
المتفرد بالتوحيد، المتَمَجِّد بالتمجيد، الذي لا تَبْلُغُه صفاتُ العبيد، وليس له مثل ولا نَديد، وهو المبدي المعيد، الفعَّالُ لما يريد، جلَّ عن اتخاذ الصاحبة والأبنائ، و تقدس عن ملامسة النسائ، فليست له عَثَرة تُقال، ولا حَدٌّ يُضْرَب له فيه المثالُ، لم يَزَل بصفاته أولًا قديرًا، ولا يَزَال عالمًا خبيرًا، سبق الأشياء عِلْمُهُ، و نفذت فيها إرادتهُ، ولم تعزُب عنه خفيَات الأمور، ولم تغيِّره سوالفُ صروف الدهور، وَلَمْ يَلْحَقْه في خَلقِ شيئٍ مما خلق کَلال ولا تعبٌ، وَلا مَسَّهُ لُغوبٌ ولا نَصَبٌ، خَلَقَ الأشيائَ بقدرته، و دبَّرها بمشيئته، وقهرها بجبروته، وذلّلها بعزته، فذلَّ لعظمته المتکبِّرون، واستکان لعز ربوبيته المتعظِّمون، وانقطع دون الرسوخ في علمه الممترون، و ذلَّت له الرقاب، و حارت في ملکوته فِطَنُ ذوي الألباب، وقامت بکلمته السمٰوات السبع، واستقرت الأرض المهاد، وثبتت الجبال الرواسي، وجرت الرياحُ اللواقحُ، وسار في جو السماء السحابُ، وقامت علی حدودها البحارُ، وهو اﷲ الواحد القَهار يخضعُ له المتعزَّزون، و يخشع له المترفِّعون، ويدين طوعًا و کرها له العالمون.
’’اللہ تبارک وتعالیٰ وہ ذات ہے جو توحید کے اعتبار سے یکتاہے، تمجید کے اعتبار سے قابلِ تعریف ہے، اس ذات کو بندوں کی صفات نہیں پا سکتیں، اس کا کوئی مثل اور نظیر نہیں، وہی ہر چیز کی ابتداء کرنے والا ہے اور اس کو اصل حالت پر لوٹانے والا ہے، وہ جو ارادہ فرمائے اسے کر دینے والا ہے، وہ بیوی اور بیٹے رکھنے سے بلند و برتر ہے، وہ عورتوں کے میل ملاپ سے پاک ہے، اس کی کوئی ایسی لغزش نہیں جسے ختم کیا جا سکے (یعنی اس کے تمام افعال لغزشوں سے پاک ہیں) اور نہ ہی اس کی کوئی ایسی حد ہے جس کی مثال دی جا سکے، وہ اپنی صفات کے ساتھ اوّل سے ہی قادر ہے، وہ ہمیشہ عالم اور خبیر رہا ہے، اس کا علم کل اشیاء سے پہلے ہے اور اس کا ارادہ اُن میں نافذ ہے، پوشیدہ امور میں سے کچھ بھی اس سے مخفی نہیں، گردشِ زمانہ نے ان میں کچھ تغیر نہیں کیا، کسی چیز کو بھی تخلیق کرنے میں اسے مشقت اور تھکان نہیں ہوئی، نہ ہی اسے کوئی کمزوری اور تکلیف پہنچی، اس نے تمام اشیاء کو اپنی قدرت سے تخلیق کیا، اپنی مشیت سے ان کی تدبیر کی، اپنی طاقت سے ان پر غالب رہا۔ اپنی قوت سے ان کو تابع کیا، پس متکبرین اس کی عظمت کے سامنے جھک گئے، اس کی ربوبیت کی عزت کے سامنے بڑے بڑے عاجز ہوئے، اس کے علمِ راسخ کے آگے شک کرنے والے ختم ہوگئے، اس کے لئے گردنیں خم ہوگئیں، عقلمندوں کی عقل و دانش اس کی بادشاہی میں متحیر ہوگئیں، اس کے کلمہ کے سبب ساتوں آسمان قائم ہوئے، فرشِ زمین نے قرار پایا، بلند و بالا پہاڑ وجود میں آئے، آندھیاں چلیں، آسمانی فضا میں بادل چلنے لگے، سمندر اپنی حدود میں قائم ہوئے، وہی اللہ واحد و یکتا ہے، زبردست ہے جس کے سامنے طاقتور جھکتے اور بلند رتبہ رکھنے والے انکساری کرتے ہیں اور عالم طوعاً و کرہاً (پسند و ناپسند سے) اس کی اطاعت اختیار کرتے ہیں۔‘‘
  1.  ابو الحسن الاشعری، الابانۃ عن أصول الدیانۃ: 7
3۔ امام غزالی ( 505ھ) عقیدہ توحید کی وضاحت میں فرماتے ہیں :
إنه في ذاته واحدٌ لا شريکَ لهُ، فَردٌ لا مَثِيلَ له، صَمَدٌ لا ضِدَّ له، منفرد لا نِدَّ له، وأنه واحدٌ قديمٌ لا أوَّلَ لهُ، أزليٌّ لا بِدايَةَ له، مُسْتَمِرُّ الوجُود لا آخرَ له، أبَديٌّ لا نِهايةَ له، قَیُّومٌ لا انقِطَاعَ له، دَائِمٌ لا انصِرامَ له، لم يزل موصوفًا بنعُوت الجلال، لا یُقْضَی عليه بالانقِضَائ، والانْفِصَال، بتَصَرُّم الآباد وانقِرَاض الآجال، بل هو الأوَّلُ والآخِرُ، والظاهرُ والباطنُ، وهو بکل شيء عَلِيْمٌ.

التنزیہ:

وأنه ليس بِجِسْمٍ مُصَوَّر، ولا جَوْهر محدود مقدر، و أنه لا یُماثِل الأجسامَ، لا في التقدير ولا في قبول الانقِسام، و أنه ليس بجوهر ولا تَحلُّه الجواهرُ، ولا بِعَرَضٍ ولا تحله الأعراضُ، بل لا یُماثِلُ موجُوْدًا ولا يماثله موجودٌ، ليس کمثله شيئٌ ولا هو مِثْلُ شيئٍ، و أنه لا يحده المقدارُ، ولا تَحْوِيه الأقطارُ، ولا تُحِيْطُ به الجِهاتُ، ولا تَکتَنِفُه الأرضُوْن ولا السمواتُ، و أنه مُستَوی علی العرش علی الوجه الذي قَالَه، وبالمعنی الذي أرادَهُ، استوائً منزها عن المُمَاسَّة والاستِقْرَار، والتَّمَکُّن والْحُلُول والانتِقَال، لا يَحملُه العَرشُ، بل العرشُ و حَمْلتُه مَحمُولُون بِلُطف قُدرتِه، و مَقهورون في قبضته، وهو فوقَ العرش والسَّمائِ، وفوقَ کُلِّ شيئٍ إلی تَخُومِ الثَّرَي، فَوقيةٌ لا تزيده قُرْبًا إلی العرشِ والسمائِ، کما لا تزيده بُعدًا عن الأرض والثری، بل هو رَفِيعُ الدرجات عن العرش والسمائ، کما أنه رَفِيعُ الدرجات عن الأرض والثری، وهو مع ذلک قَرِيبٌ من کل مَوْجُوْدٍ، وهو أقربُ إلی العبد من حَبْلِ الْوَرِيْدِ، وهو علی کُلِّ شَيئٍ شَهِيْدٌ، إذا لا يماثل قُربُه قُربَ الأجسام، کما لا تُماثِل ذَاتُهُ ذاتَ الأجْسام، و أنه لا يَحُلُّ في شيئٍ ولا يَحُلُّ فيه شيئٌ، تَعالَی عن أن يَحْوِیه مکانٌ، کما تَقَدَّس عن أن يَحُدَّه زمانٌ، بل کان قَبْلَ أن خُلِقَ الزمانُ والمکانُ، وهو الآن علی ما عَلَيه کَانَ، و أنه بائِنٌ عن خَلْقِه بصفاته، ليس في ذاته سِوَاه، ولا في سِوَاه ذاتُه، و أنه مُقَدَّسٌ عن التَّغیِيْرِ والانتقال، لا تُحِلُّه الحوادثُ، ولا تَعْتَرِیه العَوَارِضُ، بل لا يزال في نَعُوْتِ جلاله مُنَزَّها عن الزوال، و في صفات کَمَالِهِ مُسْتَغْنِياً عن زيادة الاستکمال، و أنه في ذاته معلومُ الوجود بالعقول، مَرئِي الذات بالأبصار، نِعمَةً منه وَلُطفًا بالأبرار في دارِ القَرار، واتماما منه للنَّعِيمِ بالنظر إلی وَجْهه الکريم.
’’بے شک اللہ تعالیٰ اپنی ذات میں واحد ہے جس کا کوئی شریک نہیں، یکتا ہے جس کی مثل کوئی نہیں، بے نیاز ہے جس کی ضد نہیں، منفرد ہے جس کی مانند کوئی نہیں، وہ ایسا واحد اور قدیم ہے جس کا اوّل کوئی نہیں، وہ ازل سے ہے جس کی کوئی ابتداء نہیں، اس کا وجود ہمیشہ باقی رہنے والا ہے جس کا کوئی آخر نہیں، وہ ابدی ہے جس کی کوئی انتہاء نہیں، ہمیشہ قائم اور باقی رہنے والا ہے جس میں کوئی انقطاع نہیں، وہ جلالت کی صفت سے متصف رہا ہے، مدتوں کے خاتمہ اور زمانوں کی ہلاکت کے باعث اس فنائیت اور انجام کے سبب اس کے خلاف فیصلہ نہیں ہو سکتا، بلکہ وہی اوّل ہے، وہی آخر ہے، وہی ظاہر ہے اور وہی باطن ہے، وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔

ہر عیب اور نقص سے پاک ذات

 

بیشک وہ کوئی جسم نہیں جس کی تصویر کشی کی جائے (وہ جسم سے پاک ہے)، نہ ہی وہ محدود جوہر ہے، جس کا اندازہ کیا جاسکے۔ وہ اجسام سے مماثلت نہیں رکھتا نہ ہی مقدار میں اور نہ ہی قبولِ تقسیم میں، وہ جوہر نہیں ہے اور نہ ہی جواہر اس میں حلول کرسکتے ہیں۔ اور وہ عرض نہیں ہے نہ ہی اعراض اس میں حلول کرسکتے ہیں (وہ جوہر و عرض سے پاک ہے)، بلکہ وہ کسی موجود کے مماثل نہیں ہوسکتا اور نہ ہی کوئی موجود اس کے مماثل ہو سکتا ہے۔ کوئی چیز اس کی مثل نہیں ہے اور نہ ہی وہ کسی چیز کے مثل ہے، مقدار اس کی حدبندی نہیں کر سکتی، اطراف اسے سمیٹ نہیں سکتے، جہات اس کا احاطہ نہیں کر سکتیں، سب آسمان اور زمینیں اس کو گھیر نہیں سکتے (وہ مکان و جہت سے پاک ہے)، وہ اسی طرح اپنے عرش پر مستوی ہے جیسا اس نے فرمایا، اس معنی کے ساتھ جس کا اس نے ارادہ کیا، اس کا یہ استواء فرمانا چھونے سے، قرار پکڑنے سے، تمکن و حلول اور انتقال سے منزہ ہے، عرش اس کو نہیں اٹھاتا، بلکہ عرش اور اس کو اٹھانے والے اس کی لطفِ قدرت کے سبب اٹھے ہوئے ہیں اور اس کے قبضہ قدرت میں بے بس ہیں، وہ عرش و سماء سے بلند ہے اور تحت الثریٰ تک ہر چیز پر فوق اور برتر ہے، یہ بلندی اس کے عرش اور آسمان تک کے قرب میں کچھ اضافہ نہیں کرتی جس طرح کہ وہ زمین و پاتال تک سے اُسے دور نہیں کرتی۔ بلکہ وہ عرش و سماء سے بلند مرتبہ ہے جس طرح کہ وہ زمین و ثریٰ سے بلند مرتبہ ہے، اس کے ساتھ ساتھ وہ ہر موجود سے قریب ہے، وہ بندے کی شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے، وہ ہر چیز پر نگہبان ہے، کیونکہ اس کا قرب اجسام کے قرب جیسا نہیں ہے جس طرح کہ اس کی ذات اجسام کی ذاتوں جیسی نہیں ہے، بے شک وہ کسی چیز میں حلول نہیں کرتا اور نہ کوئی چیز اس میں حلول کر سکتی ہے وہ اس سے بلند ہے کہ مکان اسے گھیر سکے، جس طرح وہ اس سے پاک ہے کہ زمانہ اس کا احاطہ کر سکے، بلکہ وہ زمان و مکان کی تخلیق سے پہلے تھا، وہ اب بھی اپنی اسی ازلی صفت پر قائم ہے، وہ اپنی مخلوق سے اپنی صفات کے اعتبار سے جدا ہے، اس کی ذات میں اس کے علاوہ کوئی نہیں اور نہ اس کے غیر میں اس کی ذات ہے، وہ تغییر و انتقال سے پاک ہے، حوادث اس میں داخل اور عوارض اس کو لاحق نہیں ہوسکتے، بلکہ وہ اپنی صفاتِ جلال میں پاک رہے گا اور اپنی کمال کی صفات میں وہ قبولِ اضافہ سے مستغنی ہے، عقل و دانش کے سبب وہ اپنی ذات میں وجودِ معلوم ہے، آنکھوں سے دکھائی دینے والی ذات ہے، دارِ آخرت میں یہ اس کی طرف سے نعمت اور نیکوکاروں کے لئے انعام ہوگا اور اس کی طرف سے اس نعمت کا اتمام و کمال اس کے حسین و جمیل چہرے کی زیارت پر ہوگا۔‘‘
  1.  غزالی، قواعد العقائد: 50۔54
4۔ امام عمر بن محمد النسفی( 537ھ) مفہومِ توحید کے بیان میں لکھتے ہیں :
والمحدِث للعالم هو اﷲ تعالی الواحد القديم الحيُّ القادر العليم السميع البصير الشائي المريد. ليس بعرض، ولا جسم، ولا جوهر ولا مصوَّر، ولا محدود، ولا معدود، ولا متبعِّض، ولا متجزٍّ، ولا مترکب، ولا متناه، ولا يُوصف بالمَاهية، ولا بالکيفية، ولا يتمکن في مکان، ولا يجري عليه زمان ولا يشبهه شيئ، ولا يخرج عن علمه و قدرته شيئ.وله صفات أزلية قائمة بذاته وهي لا هو ولا غيره.
’’عالم کو سب سے پہلے وجود عطا کرنے والی ذات اللہ تبارک و تعالیٰ کی ہے، جو کہ واحد ہے، قدیم ہے، ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے، قدرت رکھنے والا ہے، جاننے والا ہے، سننے والا ہے، دیکھنے والا ہے، چاہنے والا ہے، ارادہ کرنے والا ہے، وہ عرض نہیں ہے نہ جسم، نہ جوہر ہے نہ اسکی شکل و صورت، نہ محدود ہے نہ معدود (جس کو شمار کیا جا سکے)، نہ حصوں کی شکل میں ہے نہ جزء کی صورت میں، نہ مرکب ہے نہ متناہی، نہ اسے ماہیت کے ساتھ بیان کیا جا سکتا ہے نہ ہی کیفیت کے ساتھ۔ وہ نہ کسی مکان میں متمکن ہے نہ ہی کوئی زمانہ اس پر جاری ہے، کوئی چیز بھی اس سے مشابہت نہیں رکھتی، اور کوئی چیز بھی اس کی قدرت اور اس کے علم سے خارج نہیں (ہر چیز اس کے احاطے میں ہے لیکن اس کی ذات ہر چیز سے ما ورا ہے)۔
’’اس کی صفات ازلی ہیں جو اس کی ذات سے قائم ہیں اور یہ صفات نہ ہی وہ (ذاتِ باری تعالیٰ) ہے اور نہ ہی اس کا غیر ہیں۔‘‘
  1.  نسفی، العقیدۃ النسفیۃ: 2
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے متعلق منقول ہے کہ ان کے سامنے کسی شخص کے زُہد و تقویٰ کی تعریف اِن الفاظ میں کی گئی کہ ’’وہ جانتا تک نہیں ہے کہ گناہ کیا ہے‘‘ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ایسے آدمی کے گناہ میں مبتلا ہونے کا امکان بہت زیادہ ہے۔ ‘‘
چنانچہ ’’تُعرَفُ الأشياء بأضدادها‘‘ (یعنی اشیاء کی صحیح معرفت اُن کی اضداد کی پہچان سے ہوتی ہے) کے اُصول کے تحت عقیدہ توحید کی معرفت کے لئے ضروری ہے کہ شرک اور اُس کی جملہ اقسام کو سمجھا جائے۔ توحید خدائے واحد کو لاشریک اور یکتا و یگانہ ماننے کا نام ہے اور کسی کو اس کا ساجھی، حصہ دار یا برابر کا شریک ٹھہرانے کا نام شرک ہے۔

شرک کا لُغوی معنی

 

لفظِ ’’شرک‘‘ شرکت سے بنا ہے جس کے معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات یا اس کی صفات میں اوروں کو شریک مانا جائے۔ صاحبِ لسان العرب لکھتے ہیں:
الشِّرْکةُ والشَرِکةُ سوائٌ: مخالَطَةُ الشريکين. يقال: اشترَکنا بمعنی تشارکنا، وقد اشترک الرّجلانِ و تشارکا و شارکَ أحدهُما الآخر.
’’شِرْکَۃٌ اور شَرِکَۃٌ کا معنی دو شریکوں کا ایک چیز میں ملنا ہے۔ جیسے کہا جاتا ہے کہ ہم شریک ہوئے یعنی آپس میں ہماری شراکت ہوئی اور دو شخص باہم شریک ہوئے یعنی دونوں میں شراکت ہوگئی اور ایک دوسرے کے ساتھ شریک بن گیا۔‘‘
  1.   ابن منظور، لسان العرب، 10: 448

 

شرک کا شرعی اور اصطلاحی مفہوم

 

ائمہ علم الکلام اور ائمہ لغت نے شرک کا شرعی و اصطلاحی مفہوم درج ذیل الفاظ میں بیان کیا ہے:
1۔ علامہ سعد الدین تفتازانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
الإشراک هو اثبات الشريک فی الألوهية، بمعنی وجوب الوجود کما للمجوس أو بمعنی استحقاق العبادة کما لعبدة الأصنام.
’’مجوس کی طرح کسی کو واجب الوجود سمجھ کر الوہیت میں شریک کرنا یا بتوں کی پوجا کرنے والوں کی طرح کسی کو مستحق عبادت سمجھنا، اشراک کہلاتا ہے۔‘‘
  1.  تفتازانی، شرح عقائد نسفی: 61
2۔ صاحبِ لسان العرب علامہ ابنِ منظور افریقی لکھتے ہیں:
وأشرک باﷲ: جَعَلَ لهُ شَرِيکاً فی مُلْکهِ، تعالی اﷲ عَنْ ذالِک، والشرک أن يجعل ﷲ شريکا فی ربوبيته، تعالی اﷲ عن الشرکائِ والاندادِ، لأن اﷲ وَحْدَهُ لا شَرِيْکَ له وَلَا نِدّ لهُ ولا نَدِيْد.
’’جب یہ کہا جاتا ہے کہ فلاں نے اللہ تعالیٰ سے شرک کیا تو اس کا معنی یہ ہوتا ہے کہ اس نے کسی اور کو اللہ تعالیٰ کے ملک اور سلطنت میں شریک بنا دیا جبکہ اللہ تعالیٰ اس سے بلند وبرتر ہے، اور شرک کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت میں کسی کو شریک ٹھہرایا جائے حالانکہ اللہ تعالیٰ کی ذات شریکوں اور ہمسروں سے پاک ہے،. .. کیونکہ وہ ذات واحد ہے نہ اس کا کوئی شریک ہے نہ اس کی کوئی نظیر اور نہ مثل۔ ‘‘
  1.  ابن منظور، لسان العرب، 10: 449
ہمارے عہد میں جہاں اور تصوراتِ دین خلط ملط اور گڈ مڈ ہوئے وہاں بنیادی عقائد اِسلام بھی متاثر ہوئے ہیں۔ ایمانیات کے باب میں توحید اور شرک کے ضمن میں بہت سے ابہام و التباس، مغالطے اور وساوس در آئے ہیں۔ بعض لوگوں نے بہت سی غلط فہمیاں اور عجیب و غریب قسم کے شکوک و شبہات لوگوں کے ذہنوں میں پیدا کئے ہیں۔ اِس لئے امت میں شدید ٹکراؤ اور اُلجھاؤ کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ ایسے لوگوں کے ہاں فکری وحدت اور تصوراتی واضحیت کا سخت فقدان پایا جاتا ہے جسے دور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ چنانچہ اِس کتاب میں اِسی بنیادی ضرورت کو پورا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ عمل اگر کمزور ہو تو اِس کا علاج آسان ہے لیکن جب عقیدہ میں طرح طرح کے ابہام اور التباس پیدا کر دئیے جائیں تو پھر فکری وحدت کا برقرار رہنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اُمتِ مسلمہ کے خصائص میں سے ایک یہ ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اِس کے لئے یہ خوشخبری دی ہے کہ اُمت مسلمہ کی اصل آزمائش مال و زر کی حرص و ہوس سے ہو گی لیکن یہ شرک میں مبتلا نہیں ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ باقی بگاڑ اور نقائص اپنی جگہ گھمبیر کیوں نہ ہوں مجموعی طور پر اُمت مسلمہ شرک سے محفوظ ہے۔
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
صَلّٰی رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم عَلَی قَتْلٰی اُحُدٍ. ثُمَّ صَعِدَ الْمِنْبَرَ کَالْمُوَدِّعِ لِلْاَحْيَآئِ وَ الْاَمْوَاتِ. فَقَالَ: اِنِّيْ فَرَطُکُمْ عَلَی الْحَوْضِ. وَاِنَّ عَرْضَهُ کَمَا بَيْنَ اَيْلَةَ اِلَی الْجُحْفَةِ. اِنِّيْ لَسْتُ اَخْشٰی عَلَيْکُمْ اَنْ تُشْرِکُوْا بَعْدِيْ. وَلٰـکِنِّيْ اَخْشٰی عَلَيْکُمُ الدُّنْيَا اَنْ تَنَافَسُوْا فِيْهَا، وَتَقْتَتِلُوْا فَتَهْلِکُوْا، کَمَا هَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ.
قَالَ عُقْبَةُ: فَکَانَتْ اٰخِرَ مَا رَاَيْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم عَلَی الْمِنْبَرِ.
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شہداء اُحد کی نمازِ جنازہ پڑھی، پھر آپ نے مبنر پر رونق افروز ہوکر اس طرح نصیحت فرمائی جیسے کوئی زندوں اور مردوں کو نصحیت کر رہا ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں حوض پر تمہارا پیش رو ہوں گا اور اس حوض کا عرض اتنا ہے جتنا مقام اَیلہ سے لے کر جحفہ تک کا فاصلہ ہے، مجھے تمہارے متعلق یہ خدشہ تو نہیں ہے کہ تم (سب) میرے بعد مشرک ہو جاؤ گے لیکن مجھے تمہارے متعلق یہ خدشہ ہے کہ تم دنیا کی طرف رغبت کرو گے اور ایک دوسرے سے لڑکر ہلاک ہو گے۔
’’حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آخری بار منبر پر دیکھا تھا۔‘‘
  1.  مسلم، الصحیح،کتاب الفضائل، باب إثبات حوض نبینا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و صفاتہ، 4: 1796، رقم: 2296
یہ بات ذہن نشین رکھنے والی ہے کہ حضرت عقبہ بن عامر معروف صحابئ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی یہ حدیث دراصل حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آخری خطبہ کی روایت ہے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی خطبہ، کوئی باقاعدہ وعظ اور خطاب منبر پر نہیں فرمایا۔ اس اعتبار سے یہ روایت اور بھی اہمیت اختیار کر جاتی ہے اور اس میں بیان کیے گئے مضامین کی حجیت مزید مسلم ہو جاتی ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت کے شرک میں مبتلا ہونے کا خدشہ ظاہر نہیں فرمایا، اس کا معنی یہ ہر گز نہیں کہ کوئی فرد شرک نہیں کرے گا بلکہ من حیث الکل شرک جیسے ظلمِ عظیم سے امت محفوظ رہے گی۔

توحید و شرک کے باب میں چند اہم نکات

اُمتِ مسلمہ کی اکثریت جو سوادِ اعظم ہے اور جس کے شرک و گمراہی سے اعتقادی طور پر محفوظ ہونے کی ضمانت خود حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عطا فرمائی ہے۔ ستم یہ ہے کہ عصرِ حاضر میں بعض گروہوں کی طرف سے امتِ مسلمہ کی اکثریتی جماعت پر شرک کا الزام لگا دیا جاتا ہے۔ یہی وہ بنیادی فتنہ ہے جس نے اُمت کی وحدت کو پارہ پارہ کر دیا ہے۔ اِس لئے ضرورت اِس امر کی ہے کہ توحید اور شرک کے موضوع پر آئندہ تفصیلی مباحث کو شرحِ صدر کے ساتھ سمجھنے کے لئے چند ضروری نکات کو ذہن نشین کر لیا جائے۔
1۔ توحید اور شرک دونوں ایک دوسرے سے متضاد اور مخالف تصورات ہیں۔ توحید ہر اُس چیز کی نفی کرتی ہے جو شرک ہے لہٰذا توحید اور شرک دو اصطلاحات ہیں، دو واضح عقیدے اور دو الگ الگ تصور ہیں جو آپس میں متقابل اور متخالف ہیں۔ اگر کوئی موضوع، کوئی عقیدہ یاعمل توحید ہے تو شرک اس کی عین نفی ہو گی مثلاً توحید سے مراد دن ہو تو رات شرک کہلائی گی، اگر توحید کی علامت ٹھنڈک ہو تو حرارت عین شرک ہو گی، توحید کی علامت طہارت ہو تو شرک عین نجاست ہو گی، توحید کی علامت نور ہو تو شرک عین تاریکی و ظلمت ہو گی۔ اِسی طرح اگر توحید کی علامت جنت ہے تو شرک عین جہنم ہے گویا توحید کا تضاد شرک ہے اور شرک کا تضاد توحید۔
2۔ غلط فہمی کی بناء پر بعض اوقات کسی ناجائز فعل کو بھی شرک تصور کر لیا جاتا ہے، اِسی جہالت نے بہت سی اُلجھنوں کو پیدا کیا ہے۔ توحید اور شرک آپس میں دو متضاد و متقابل تصورات ہیں جن کا آپس میں اتحاد اور اشتراک اسی طرح ناممکن ہے جس طرح ایمان اور کفر کا اتحاد ناممکن ہے۔ اِس لئے ضروری ہے کہ شرک کی اصطلاح کو کبھی بھی عمومی رنگ نہ دیا جائے، نہ ہی اِس کا اطلاق بے دریغ کرکے فتویٰ بازی کا بازار گرم کیا جائے۔
3۔ ازروئے شرع کسی بھی چیز کے بارے میں رائے کا اظہار کرتے ہوئے اچھی ہے یا بری، جائز ہے یا ناجائز ایسے الفاظ وسیع مفہوم میں اِستعمال ہوتے ہیں۔ اس ضمن میں یہ بات ملحوظِ خاطر رکھی جاتی ہے کہ ہر ناجائز عمل اسی طرح شرک نہیں ہوتا جس طرح ہر جائز عمل کو عینِ توحید نہیں کہتے۔ شرک کا مرتکب دائرہ اِسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ جبکہ کسی ناجائز اور حرام عمل کا مرتکب فاسق و فاجرتو بن جاتا ہے لیکن دائرہ اِسلام سے خارج نہیں ہوتا۔ ہمارے ہاں بعض لوگ جھٹ سے شرک کا فتویٰ صادر کر دیتے ہیں بلکہ مسلمانوں کی واضح اکثریت پر مشتمل طبقے کا نام بھی مشرک رکھ دیا جاتا ہے۔ پھر ردِّ عمل میں اِسی طرح کے سخت فتاویٰ کا صادر ہونا لازمی ہے۔ چنانچہ شرک و بدعت کے فتوے ہر کسی کو اِتنی تیزی سے کفر کی وادی میں دھکیلے چلے جا رہے ہیں کہ سوسائٹی میں کسی بھی شخص کے اِسلام اور ایمان پر باقی ہونے میں شک ہونے لگتا ہے لہٰذا یہ بات اچھی طرح سے ذہن نشین کر لینا ضروری ہے کہ شرک توحید کی عین ضد ہے یہ بلاواسطہ عقیدہ توحید کو رد کرنے کا نام ہے اور شرک کا مرتکب محض گنہ گار اور گمراہ نہیں بلکہ بے دین اور ایمان کے دائرے سے یکسر خارج ہوتا ہے۔
4۔ جب ایمانیات کے باب میں کسی خاص عمل یا عقیدہ پر شرک کا فتویٰ ناگزیر ہو جائے تو فتویٰ صادر کرنے سے پہلے یہ واضح کرنا ضروری ہو جاتا ہے کہ اُس عقیدہ یا عمل سے توحید کی کون سی قسم پر زد پڑی ہے اور کس درجے کی نفی اور بطلان ہوا ہے اس پر مستزاد یہ بھی ثابت کرنا لازمی ہے کہ وہ عقیدہ یا عمل شرک کی کون سی قسم اور درجہ کے تحت آتا ہے گویا توحید اور شرک کی قسم، نوع اور فرع کا بھی تقابل میں متعین کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔
5۔ ہر چیز کا شرعاً ایک مثبت پہلو ہوتا ہے اور ایک منفی مثلاً فرض ایک مثبت عمل ہے جس کے برعکس اِسی درجے کا حامل ایک منفی عمل ہے جسے حرام کہتے ہیں۔ کسی کام کے کرنے کے حکم میں مثبت طلب ہوتی ہے اور نہ کرنے کے حکم میں منفی طلب۔ لہٰذا شریعت ہم سے یہ تقاضا کرتی ہے کہ فلاں کام کریں اور فلاں کام نہ کریں۔پس احکام شریعت کی ہر دو سمت کی برابر درجہ بندی کے لئے ضروری ہے کہ مثبت اور منفی پہلو دونوں طرف ایک ہی سطح کے ہوں اور اہمیت کے اعتبار سے اِن میں ایک ہی طرح کی قوت کارفرما ہو۔ چنانچہ مثبت اور منفی دونوں پہلوؤں کے جو نتائج اور عواقب برآمد ہوں گے وہ یکساں طاقت کے ہوں گے۔ اب کسی کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ ہر اُس چیز کو جو از روئے شرع ناپسندیدہ ہو اُس کو حرام کے پلڑے میں ڈال دے۔ ممکن ہے کہ وہ مکروہ تو ہو حرام نہ ہو۔ مکروہ میں ناپسندیدگی پائی جاتی ہے مگر حرمت ثابت نہیں ہوتی۔ جیسے شریعت میں ہر جائز عمل فرض نہیں اِسی طرح ہر ناپسندیدہ عمل کو حرام نہیں کہا جا سکتا۔ مثبت طلب کا بلند ترین درجہ فرض کہلاتا ہے اور منفی طلب کا بلند ترین درجہ حرام۔ جبکہ شرک اِس حرام سے بھی اونچا درجہ ہے اِس لئے کہ وہ ’’امرِ فقہ‘‘ نہیں ’’امرِ عقیدہ‘‘ ہے۔
6۔ کتبِ اُصول فقہ میں احکامِ شریعت کی درجہ بندی کا نظم بیان کیا گیا ہے۔ راقم کی کتاب ’’الحکم الشرعی‘‘ میں اِس کی تفصیل موجود ہے۔ توحید اور شرک کی حقیقت کو سمجھنے کے لئے یہاں تمثیلًا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے۔ مثبت طلب میں احکام کا پہلا درجہ فرض، اس کے بعد واجب پھر سنت مؤکدہ، پھر سنت غیر مؤکدہ اور اُس کے بعد مستحب کا درجہ ہے۔ اس کے برعکس منفی طلب میں حرام کو فرض کے مقابل اور مکروہ تحریمی کو واجب کے مقابل رکھا گیا ہے۔ جب کہ اساء ت، سنت مؤکدہ کے مقابل ہے۔ چوتھے درجے میں مکروہ تنزیہی آتا ہے جو سنت غیر مؤکدہ کے مقابل ہے اور پانچویں درجے میں خلافِ اولیٰ (Uncommendable) ہے یہ مستحب کے مقابل ہے پھر اس کے بعد مثبت طلب اور منفی طلب دونوں میں مشترکہ مباح یا جائز کا درجہ ہے۔ اِن فقہی احکام کو درج ذیل متقابل ترتیب میں رکھ کر بآسانی سمجھا جا سکتا ہے۔
احکامِ امر (طلبِ فعل) احکامِ نہی (ترکِ فعل)
  1. فرض 1۔ حرام
  2. واجب 2۔ مکروہ تحریمی
  3. سنت مؤکدہ 3۔ اساء ت
  4. سنت غیر مؤکدہ 4۔ مکروہ تنزیہی
  5. مستحب 5۔ خلافِ اولیٰ
  6. مباح 6۔ مباح
اس درجہ بندی کے مطابق امر کے پانچ اور اس کے مقابلے میں نہی کے بھی پانچ درجے ہیں۔ جب کہ مباح دونوں طرف مشترک ہے ۔ یہاں پانچ مدارجِ امر کے مقابلے میں نہی کے بھی پانچ ہی مدارج ہیں اور اس کے بعد مباح کو صوابدیدی (Discretionary) درجہ میں رکھا گیا ہے جس میں نہ ثواب ہے اور نہ عتاب و عذاب بلکہ ایسے کاموں کو ہر کسی کی مرضی اور صوابدید پر چھوڑ دیا گیا ہے۔
7۔ فتویٰ صادر کرنا بہت بڑی، نازک اور اہم ذمہ داری ہے۔ ہر عالم اور فاضل بھی مفتی کے منصب پر فائز نہیں ہوتا کیونکہ کفر و شرک کا فتویٰ کسی کے ایمان کا فیصلہ ہے۔ اِس باب میں بڑی حزم و احتیاط اور لیاقت و دیانت درکار ہے کیونکہ ازروئے شرع اگر ایک چیز ناجائز اور حرام بھی ہو تو اِس کے لئے یہ ضروری نہیں کہ وہ شرک بھی ہو۔ گویا محض ممنوع اور حرام ہونے کی وجہ سے کسی فعل کو شرک نہیں کہا جا سکتا۔ حرام قرار دیتے ہوئے بھی یہ خیال رکھنا ضروری ہے کہ اِس میں خلافِ شرع کس درجے کا منع ہونا پایا جاتا ہے کیونکہ منع کے بھی کئی درجے ہیں، کجا یہ کہ اُسے شرک کہا جائے حالانکہ شرک تو کفر کی آخری حد ہے۔
اِس علمی اور اعتقادی غلطی کی مثال روز مرہ زندگی سے اِس طرح دی جا سکتی ہے کہ کسی کو ہلکا سا زکام ہو اور کوئی نیم حکیم اُسے ٹی بی کا نام دے دے۔ کسی کو محض Infection ہو اور کوئی ڈاکٹر اُسے کینسر (Cancer) قرار دے دے۔ بجا ہے کہ یہ دونوں امراض نقصان دہ ہیں مگر اِس نقصان سے بڑھ کر یہ عمل کہیں زیادہ نقصان دِہ یہ بات ہے کہ غلط تشخیص کے ذریعے اُس مرض کو بڑھا چڑھا کر کچھ کا کچھ بنا دیا جائے۔ لہٰذا ضرورت اِس امر کی ہے کہ علم الاحکام کو ذہن نشین رکھا جائے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ کسی عقیدہ و عمل کو شرک قرار دینے سے پہلے یہ تعین کیا جائے کہ اس کے ذریعہ جس عقیدہ و عمل کی نفی ہو رہی ہے کیا وہ عینِ توحید ہے بھی یا نہیں؟ کسی عمل کے شرک ہونے کیلئے لازم ہے کہ وہ توحید کی نفی کرے۔ اگر عین توحید کی نفی ثابت نہ ہو تو پھر وہ عمل ممنوع ہوتے ہوئے بھی شرک نہیں بن سکتا، اس پر شرک کا نہیں کوئی اور حکم صادر ہوگا۔
8۔ اسلام میں عقیدہ کی بلند ترین مثبت سطح ’’ایمان‘‘ کی ہے جس کے مقابلے میں اِسی درجے کی منفی سطح ’’کفر‘‘ کی ہے۔ گویا ’’مؤمن‘‘ کے مقابلہ میں ’’کافر‘‘ ہوگا ’’فاسق و فاجر ‘‘ کو ’’درجہ مؤمن‘‘ کے مقابل میں نہیں لایا جائے گا۔ کیونکہ فاسق، فسق کے باوجود دائرہ ایمان ہی میں رہتا ہے۔ اسی طرح اگر بحیثیت ایک مسلمان عقیدہ کی بلند ترین سطح ’’توحید‘‘ پر فائز ہے تو اس کے مقابلے میں کفر کے سب سے اونچے درجہ کا نام ’’شرک‘‘ ہے۔ چنانچہ اس ضابطہ کی رو سے صرف موحد مشرک کے مقابلہ میں ہوگا نہ کہ فاسق اورگنہ گار کے مقابلہ میں، کیونکہ فاسق اور گنہگار، گناہ کے باوجودموحّد رہتا ہے اور دائرہ ایمان یا عقیدہ توحید سے خارج تصور نہیں ہوتا۔ یہ بات بھی بالکل واضح ہے کہ شرک کو فرض، واجب اور سنت کے مقابلے میں بھی نہیں رکھا جا سکتا، نہ کسی حرام کو شرک سے تعبیر کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی فرض اور سنت کی نفی کو شرک گردانا جاسکتا ہے۔ فرض کے منافی کوئی اقدام حرام تو ہو سکتا ہے لیکن جب تک اس سے عقیدہ توحید پر زد نہ پڑے اسے شرک کے زمرے میں نہیں لایا جا سکتا۔ اِسی طرح کسی کویہ حق بھی نہیں کہ کسی اسا ء ت، مکروہ تحریمی، مکروہ تنزیہی اور خلاف اولیٰ یا مباح امر کو اٹھا کر شرک کے درجے تک لے جائے۔
یاد رہے کہ شرک صرف اس وقت وجو دمیں آتا ہے جب توحید کی واضح نفی کی جائے کیونکہ یہ بات حتمی طور پر طے شدہ ہے کہ توحید اور شرک ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ ایک کی واضح نفی کے بغیر دوسرا اَمر ثابت نہیں ہو سکتا۔ ورنہ اس سے دین و شریعت کا سارا نظام اُلٹ پلٹ ہو کر رہ جائے گا۔ کسی شخص کا ایک فتویٰ دوسرے کے ایمان کو بلا جواز کفر بنا دے گا جو سراسر ظلم اور احکامِ الٰہی کے خلاف نہ صرف بغاوت ہے بلکہ دین کے ساتھ حد درجہ زیادتی اور اسے بازیچہ اطفال بنا دینے کے مترادف ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ شرک کو ناقابلِ رد قطعی دلائل سے ثابت کیا جائے۔
9۔ ایمان اور توحید کی نفی ثابت کرنے کے لئے یہ تعین کرنا لازمی ہے کہ توحید کے جس درجہ کی خلاف ورزی ہوئی ہے اس کا شمار حقوق اللہ میں ہونا چاہیے اور یہ حق جس کی خلاف ورزی ہوئی کوئی عام یا مشترک حق نہ ہوبلکہ خالصتاً بلا شرکتِ غیرے اللہ کا حق ہو۔ یہ بھی ضروری ہے کہ یہ حق شکنی اللہ تعالیٰ کی ذات، صفات اور افعال کے حوالے سے ثابت کی جائے اور اس میں اختصاص پایا جائے نہ کہ اشتراک۔ یعنی شرک کا حکم لگانے میں اس امر کو طے کرنا ضروری ہے کہ وہ حق جس کا کسی غیر کے لئے اثبات ہو رہا ہے خصوصی طور پر بلا اشتراک اللہ کا ہی حق تھا اور وہ صفت بلا شرکت غیرے اللہ کی ہی صفت تھی۔ اگر کسی ایسی صفت، فعل اور اسم کو جو اللہ تعالیٰ کے لئے خاص ہے کسی اور کے لئے ثابت کر دیا جائے تو اس پر شرک کا حکم لگایا جا سکے گا ورنہ نہیں۔ کسی عمومی صفت کا خالق اور مخلوق میں اشتراک شرک نہیں ہوتا اس میں اس بات سے فرق واقع ہو جاتا ہے کہ اس کا اطلاق دونوں جگہ مختلف معانی کے تناظر میں ہوا ہے اور اس کی نوعیت بھی مختلف ہے۔ ظاہری طور پر دونوں یعنی خالق و مخلوق کی صفات کے بیان میں اِستعمال کیا جانے والا لفظ ایک ہی ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کے لئے اس کی معنویت اور ہوتی ہے اور مخلوق کے لئے اور۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ شرک محض الفاظ کے اشتراک کے ذریعے وقوع پذیر نہیں ہوتا۔ جب تک معنوی طور پر کسی عمل یا صفت کا مفہوم، دائرہ کار، حقیقت اور اطلاق مختلف رہے اس وقت تک وہ اشتراک خواہ اسمی ہو، فعلی ہو یا صفتی، منافئ توحید نہیں ہوتا، اِس لئے وہ باعث شرک بھی نہیں بنتا مثلاً سمیع، بصیر، کریم، علیم، رؤوف، رحیم، ولی اور مولٰی جیسے اسماء و صفات قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کے لئے، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے اور بعض ملائکہ کے لئے بلکہ عام انسانوں کے لئے بھی مشترک استعمال ہوئے ہیں۔
جو شخص کسی کے عمل کو توحید کے منافی خیال کرتے ہوئے اِس پر شرک کا الزام عائد کر رہا ہے جب تک وہ قرآن و سنت کے دلائل اور شواہد سے اس امر کو حتمی طور پر توحید کے منافی ثابت نہیں کر دیتا اُس وقت تک کسی عمل اور خیال کو مشرکانہ تصور نہیں کیا جا سکتا۔ کسی عمل کو بغیر ثبوت کے محض توحید کی نفی اور شرک نہیں گردانا جا سکتا۔
10۔ اس مقام پر وجہ شرک کو سمجھنا اور مدارِ شرک کو متعیّن کرنا از بس ضروری ہے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں :
والشرک اَن يثبت بغير اﷲ سبحانه و تعالی شيئًا من صفاتهِ المختصة بهِ.
’’شرک یہ ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی صفاتِ خاصہ میں سے کوئی صفت اس کے غیر کے لئے ثابت کی جائے۔‘‘
  1. شاہ ولی اﷲ، الفوز الکبیر: 27
ائمہ کلام کے نزدیک خاصہ کی تعریف یہ ہے کہ ’’مايوجد فيه ولا يوجد فی غيرهِ‘‘ (یعنی جو صفت جس کا خاصہ ہو اسی میں پائی جائے اور اس کے غیر میں نہ پائی جائے) لہٰذا صفاتِ خاصہ کا علی الاطلاق غیر کے لئے ثابت کرنا شرک ہے۔ شرک کا مدار محض اشتراک نہیں بلکہ مدارِ شرک چار باتوں پر ہے۔
  1. اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو واجب الوجود سمجھا جائے۔
  2. اس کے مستحقِ عبادت ہونے کا اعتقاد رکھا جائے۔
  3. اللہ رب العزت کی صفاتِ خاصّہ مثلاً علم بالذات، علم بالقدرت، ایجاد و قدرتِ ذاتیہ اور اختیار ذاتی میں سے کوئی صفت کسی غیر کے لئے ثابت کی جائے۔
  4. صفاتِ خداوندی جیسے اس کی شان کے لائق ہیں بعینہِ اسی طرح کا اعتقاد غیر کے لئے ثابت کیا جائے۔ خواہ وہ لمحہ بھر کے لئے ہی کیوں نہ ہو شرک کہلائے گا۔
11۔ صفاتِ مشترکہ جو خالق و مخلوق کے مابین مشترک ہیں مدار شر کی اساس کیفیت و ماہیت اور حقیقت و اصلیت پر ہے ان کے اطلاق کے وجوہ خالق کے لئے اور معنی میں ہیں اور مخلوق کے لئے اور معنی میں۔ صفاتِ خداوندی قائم بالذات ہیں، ذاتی ہیں، غیر محدود ہیں، قدیم ہیں، واجب ہیں اور اُس کی شانِ الوھیت کے لائق ہیں اور مخلوق کے لئے وہی صفات محدود ہیں، متناہی ہیں، ممکن ہیں، حادث ہیں اور ان کی شانِ مخلوقیت کے لائق عطائی ہیں۔ شرک کا مدار نہ تو کمیت پر ہے اور نہ توقیت پر، بلکہ کیفیت و ماہیت اور حقیقت و اصلیت پر ہے یعنی صفاتِ خداوندی جس کیفیت و ماہیت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے لئے ثابت ہیں انہیں اسی کیفیت و ماہیت اور حقیقت و اصلیت کے ساتھ غیر کے لئے بھی ثابت کیا جاسکے جب بھی اور جس وقت بھی ثابت کیا جائے گا شرک ہوگا خواہ وہ ثبوت لمحہ بھر کیلئے ہی ہو ورنہ نہیں کیونکہ صفاتِ الوہیت حقیقت و اصلیت اور کیفیت میں من کل الوجوہ اللہ تعالیٰ کے لئے خاص ہیں۔ خالق اور مخلوق دونوں کے لئے وجوہِ اثبات الگ الگ ہیں ایک جیسے نہیں۔ صفاتِ مشترک میں صرف ظاہری اشتراک ہوتا ہے مثلاً ’’ولایت‘‘ صفاتِ مشترکہ میں سے ہے۔ اِس کا ثبوت اللہ تعالیٰ کے لئے بھی ہے، رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے بھی ہے، جبرائیل امین علیہ السلام کے لئے بھی ہے اور صالحین کے لئے بھی۔ یہ نصِ قرآنی سے ثابت ہے۔
ولایتِ الٰہی، ولایتِ رسول، ولایتِ جبرئیل اور ولایتِ صالحین کا معنی، شان، کیفیت، ماہیت، اصلیت و حقیقت اور اطلاق کے اعتبار سے ایک دوسرے سے جدا اور مختلف ہے۔ ولایتِ الٰہی جس معنی اور شان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے لئے ثابت ہے، اسی معنی اور شان کے ساتھ غیر اللہ کے لئے لمحہ بھر بھی ثابت نہیں ہو سکتی۔ یہی حال علم، رحمت، حیات، سمع و بصر اور کلام جیسی دیگر صفاتِ مشترکہ کا ہے۔ وہ خالق کیلئے بھی ثابت ہیں اور مخلوق کیلئے بھی، مگر جس شان، حقیقت اور معنویت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کیلئے ثابت ہیں اگر اسی شان اور حقیقت و معنویت کے ساتھ مخلوق کے لئے ثابت نہیں اگر ایسا مان لیا جائے تو شرک واقع ہو جائے گا۔
اس کے برعکس اگر یہ شانیں، مختلف حقیقت اور مختلف معنی میں دونوں کیلئے تسلیم کی جائیں تو ہر گز شرک نہ ہو گا بلکہ اسے عین توحید کہا جائے گا۔ جس کی رو سے اللہ بھی ولی ہے، بندہ بھی ولی ہے۔ اللہ بھی علیم ہے، بندہ بھی علیم۔ اللہ بھی صاحبِ حیات ہے، بندہ بھی صاحب حیات۔ اللہ بھی کریم و رحیم ہے، بندہ بھی کریم و رحیم۔ اللہ بھی سمیع و بصیر ہے، بندہ بھی سمیع و بصیر۔ اللہ بھی صاحبِ کلام ہے اور بندہ بھی صاحبِ کلام مگر ان کا معنویٰ اطلاق مختلف ہوگا۔
خلاصہ یہ ہوا کہ مدارِ شرک کمیت پر نہیں بلکہ کیفیت و حقیقت پر ہے۔ اس لئے صفاتِ مشترکہ میں حقیقی اور مجازی یا ذاتی اور عطائی کی تقسیم زیادہ بلیغ اور معنی خیز ہے اس کے برعکس عادی و غیر عادی یا ماتحت الاسباب اور مافوق الاسباب وغیرہ کو مدارِ شرک بنانا محض الجھاؤ اور التباس پیدا کرنے کا موجب ہے۔
12۔ ہمیں توحید اور شرک کے باب میں ذاتِ حق اور اِس کے اسمائ، صفات اور افعال کی صحیح معرفت حاصل کرنی چاہیے کہ کہاں شانِ اختصاص ہے، کہاں انعامِ اشتراک ہے اور کہاں فیضِ انعکاس۔ کسی جگہ پر اس کی توحید، شانِ الوہیت کے ساتھ عدمِ شراکت کی آئینہ دار ہوتی ہے اور کسی جگہ شانِ ربوبیت کے ساتھ اپنے مربوب میں نیابت و مظہریت کا جلوہ دکھاتی ہے۔ کسی جگہ اس کی عظمت تنہاء و یکتا ہوتی ہے اور کسی جگہ خود مائل بہ عطا۔ وہ ’’کُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِيْ شَاْنٍ‘‘ کے جلوے میں بھی ہوتا ہے اور ’’فِيْ اَنْفُسِکُمْ اَفَـلَا تُبْصِرُوْنَ‘‘ کے نظارے میں بھی۔ وہ ’’لَيْسَ کَمِثْلِهِ شَيْيئٌ‘‘ کے رنگ میں بھی ہے اور ’’مَثَلُ نُوْرِهِ کَمِشْکٰوةٍ‘‘ کے ڈھنگ میں بھی۔ وہ ’’لَا تُدْرِکُهُ الْاَبْصَارُ‘‘ کی شان میں بھی ہے اور ’’اَيْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِ‘‘ کی آن بان میں بھی۔ وہ بعید از وہم و گمان بھی ہے اور قریب از رگِ جاں بھی۔ وہ ورائے مکان و لامکاں بھی ہے اور جلیسِ حلقہ بندگان بھی، وہ مستغنی از حلف و یمین بھی ہے اور خود مُقسِم دیارِ اَمین بھی، وہ ذاکر بھی ہے مذکور بھی، طالب بھی ہے مطلوب بھی، محب بھی ہے محبوب بھی۔ وہ تنہا سزاوارِ صلوٰۃ بھی ہے اور خود کسی کا صلوٰۃ خواں بھی حتی کہ وہ خود سلام بھی ہے اور سلام بھیجنے والا بھی۔ الغرض وہ جس سے جو معاملہ چاہے کر دے وہ مالک اور قادر مطلق ہے، توحید اس کا حقِ خالص ہے اور شرک اس کی نفی کامل، سو اس باب میں کسی بھی حتمی فیصلہ سے قبل اس کے سارے فیصلوں کو نگاہ میں رکھنا چاہیے۔ اس لا علمی میں یہ احتمال رہے گا کہ کہیں ہم دفاعِ توحید کے زعم میں انکارِ ربوبیت نہ کر بیٹھیں اور ردِّ شرک کے جوش میں انکارِ محبوبیت نہ کر بیٹھیں۔

گناہوں کی بخشش و مغفرت کے لئے واسطۂِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم






. گناہوں کی بخشش و مغفرت کے لئے واسطۂِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم


اس کی گواہی قرآن دے رہا ہے۔ ارشاد فرمایا گیا :

وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذ ظَّلَمُواْ أَنفُسَهُمْ جَآؤُوكَ فَاسْتَغْفَرُواْ اللّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُواْ اللّهَ تَوَّابًا رَّحِيمًا O

’’اور (اے حبیب!) اگر وہ لوگ جب اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھے تھے آپ کی خدمت میں حاضر ہو جاتے اوراللہ سے معافی مانگتے اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی ان کے لئے مغفرت طلب کرتے تو وہ (اس وسیلہ اور شفاعت
کی بنا پر) ضرور اللہ کو توبہ قبول فرمانے والا نہایت مہربان پاتےo‘‘

النساء، 4 : 64

اس آیتِ کریمہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے مومنوں کو ان کے گناہوں اور لغزشوں کی مغفرت کے لئے بارگاہِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں آ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وسیلہ پکڑنے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو واسطہ بنانے کا حکم دیا ہے۔

جَآؤُوكَ کا مفہوم

مذکورہ آیتِ کریمہ میں لفظ ’’ جَآؤُوكَ ‘‘ کے ذریعے یہ واضح کردیا گیا کہ بارگاہِ رِسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قیامت تک لائقِ تعظیمو تکریم ہے۔ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے خطاکاروں کو آج بھی معافی اسی در سے تعلق اور واسطہ استوار کرنے سے ملتی ہے۔ بشرطیکہ وہ اس کایقین رکھتے ہوں۔ جو بھی دامنِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف متوجہ ہوگا، خواہ وہ ظاہراً بارگاۂِ نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حاضری میں ہو یا باطناً، محبت و عشق رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت سے ہو، یااطاعت و اتباع
رسول صلی اللہ علیہ وآلہوسلم کے ذریعے توسلاً اور توجہاً، سب صورتیں ’’ جَآؤُوكَ ‘‘ کے تحت واسطۂِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعبیریں ہیں کیونکہ

یہ گھر یہ دَر ہے اس کا جو گھر در سے پاک ہے
مژدہ ہو بے گھرو کہ صلا اچھے گھر کی ہے!
مجرم بلائے، آتے ہیں’’ جَآؤُوكَ ‘‘ ہے گواہ
پھر رد ہو کب یہ شان کریموں کے در کی ہے

یہ آیتِ کریمہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ ظاہری تک محدود نہیں بلکہ بعداز وصال بھی اس کا حکم اسی طرح باقی ہے جس طرح ظاہری حیاتِ طیبہ میں تھا۔

قابلِ غور نکتہ

یاد رہے کہ اس آیتِ کریمہ میں ظلم سے مرادگناہ، نافرمانی اور اﷲ تعالیٰ سے سرکشی ہے۔ ظاہر ہےیہ اﷲ تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث ہیں گویا مرادی معنی یہ ہوا کہ اگر لوگ اﷲ تعالی ٰکو ناراض کردیں تو معافی کے لئے تیرےپاس آئیں۔ یہاں قابلِ غور بات یہ ہے کہ جس کو ناراض کیاگیا اب راضی کرنے بھی
اس کی بارگاہ میں جانا چاہیے مثلاً اگر کوئی زید کو ناراض کردے اور معافی مانگنےکے لئے بکر کے پاس چلا جائے تو کیا زید اس کو معاف کردے گا؟ ہر گز نہیں۔ لیکن اُس دنیائے محبت کے تواصول و قواعدی ہی نرالے ہیں فرمایا ’’ جَآؤُوكَ ‘‘محبوب! اگر وہ مجھ سے اپنے گناہوں کی بخشش کے طلب گارہیں تو تیرے پاس آئیں اور پھر فرمایا فَاسْتَغْفَرُوا اﷲَ جب آجائیں تو پھر اﷲ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں۔
یہاں کوئی سوچ سکتا تھا کہ باری تعالیٰ اگر معافی ہی لینی تھی تو وہ گھر بھی مانگی جاسکتی تھی۔ وہ کسی مسجد میں بھی تجھ سے طلب کی جاسکتی تھی، بلکہ خانہ کعبہ اور مسجدِ حرام سے بڑھ کر اور کون سا مقام ہوگا۔ لیکن تو نے اس رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں پابندی کیوں لگائی؟ حالانکہ تو تو ہر جگہ اپنے بندوں کی دعا سنتا ہے کیونکہ تو نے خود ہی تو فرمایا ہے :

وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِيعَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌأُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُواْ لِي وَلْيُؤْمِنُواْ بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ O

’’اور (اے حبیب!) جب میرے بندے آپ سے میری نسبت سوال کریںتو (بتا دیا کریں کہ) میں نزدیک ہوں، میں پکارنے والے کی پکارکا جواب دیتا ہوں جب بھی وہ مجھے پکارتا ہے، پس انہیں چاہئے کہ میری فرمانبرداری اختیار کریں اور مجھ پر پختہ یقین رکھیں تاکہ وہ راہِ (مراد) پاجائیںo‘‘

پھر تیرا یہ بھی فرمان ہے کہ :

البقره، 2 : 186
وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ O

’’ اور ہم اس کی شہ رگسے بھی زیادہ اس کے قریب ہیںo‘‘
ق، 50 : 16

اس کے باوجود معافی کے لئے گناہگاروں کو اس رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دَر پر کیوں بلاتا ہے؟ تو فرمایا تمہیں یہی سبق سکھانا مطلوب تھا کہ :

بخدا خدا کا یہی ہے در، نہیں اور کوئی مفرمقر!
جو وہاں سے ہو یہیں آکے ہو جو یہاں نہیں تو وہاں نہیں .

صیغۂ خطاب کے ساتھ صلاۃ و سلام شرک نہیں

 

 
بعض لوگ جوشِ توحید میں صیغۂ خطاب کے ساتھ آقائے دوجہاں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر صلاۃ و سلام کو استعانت بالغیر کہہ کر شرک قرار دیتے ہیں اوراسے ناجائز سمجھتے ہیں جو سراسر غلط ہے۔ اللہتعالیٰ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہوسلم کو پکارنے سے منع نہیں کیا بلکہ پکارنے کے آداب سکھائے ہیں، ارشادِ ربّانی ہے :

لَا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُم بَعْضًا قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنكُمْ لِوَاذًا فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْأَمْرِهِ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْيُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ O
’’(اے مسلمانو!) تم رسولکے بلانے کو آپس میںایک دوسرے کو بلانے کی مثل قرار نہ دو (جب رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بلانا تمہارے باہمی بلاوے کی مثل نہیں توخود رسول صلی اللہ علیہوآلہ وسلم کی ذاتِ گرامی.تمہاری مثل کیسے ہو سکتی ہے)، بیشک اللہ ایسے لوگوں کو (خوب) جانتا ہے جو تم میں سے ایک دوسرے کی آڑ میں (دربارِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے) چپکے سے کھسک جاتے ہیں، پس وہ لوگ ڈریں جو رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے امرِ (ادب) کی خلاف ورزی کر رہے ہیں کہ (دنیا میں ہی) انہیں کوئی آفت آپہنچے گی یا (آخرت میں) ان پر دردناک عذاب آن پڑے گاo‘‘

النور، 24 : 63

اس آیت کے شانِ نزول کے بارے میں ائمہ تفسیر نے حضرت سیدنا عبداﷲ بن عباس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پکارتے وقت ’’یا محمد‘‘ اور ’’یا ابا القاسم‘‘کہا کرتے تھے۔

1۔ امام محمود آلوسی رحمۃ اللہ علیہ لکھتےہیں :
فنهاهم اﷲ تعالي عن ذالک بقوله سبحانه : لاتجعلوا. . . الآية إعظاما لنبيه صلي الله عليه وآله وسلم، فقالوا : يا نبي اﷲ يا رسول اﷲ.
’’پس اللہ عزوجل نے انہیں اپنے اس فرمان ’’ لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ‘‘ کے ذریعہ اپنے نبی صلی اللہ علیہوآلہ وسلم کی تعظیم و تکریم کی خاطر منع فرمایا۔ پس صحابہ نے بوقت نداء یا نبی اﷲ، یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہنا شروع کر دیا۔‘‘

آلوسی، روح المعانی، 18: 204

تمام علمائے امت کا اسامر پر اتفاق ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لاپرواہی اور بے توجہی و بے اعتنائی کے طور پر ذاتی نام سے پکارنا حرام ہے اوریہ حکم حیاتِ ظاہری کے ساتھ مختص نہیں بلکہ قیامت تک کے لئے ہے۔ تمام اہلِ ایمان کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پکارنا جائز ہے خواہ قریب ہوں یا بعیداور خواہ حیاتِ ظاہری ہو یا بعد از وصال۔ آیتِ مبارکہ میں وارد ہونے والی نہی کا محل دراصل وہ عامیانہ لہجہ اور طرزِ گفتگو ہے جو صحابہ اور اہلِ عرب ایک دوسرے سے بلا تکلف اختیار کرتے تھے۔ اس حکمِ نہی میں مطلق ندا سے منع نہیں کیا گیا اس لیے تعظیم و تکریم پر مشتمل ندا جائز ہے۔

دوسری اور اہم بات یہ ہے کہ مدعائے کلام بارگاہِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم و توقیر کی تعلیم ہے لہٰذا اگر صیغہ خطاب کے ساتھ ادب و تعظیم کا تقاضاپورا نہ ہو اور عرفاً و معناً اس ندا سے گستاخی اور اہانتِ رسول کا پہلو نکلتا ہو تو وہ ندا ممنوع اور حرام ہوگی وگرنہ نہیں۔ اہلِ ایمان حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ گرامی.کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام لیے بغیر، منصبِ نبوت و رسالت کے ساتھ پکارتے ہیں تو اس میں محبت، ادب، تعظیم اورتوقیر مراد ہوتی ہے۔

نداء کے جواز کا تیسراسبب یہ ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہوآلہ وسلم نے قریب و بعید اور حیاتِ ظاہری اور بعد از وصال تمام اہلِ ایمان کو تشہد میں سلام پیش کرنے کا جوطریقہ تعلیم فرمایا اس میں دعا و پکار اور نداء بطریقِ خطاب ہی وارد ہے۔ یہ تلفّظ محض حکایۃً نہیں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل نے شبِ معراج حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرمایا تھا بلکہ ضروری ہے کہ ہرنمازی اپنی طرف سے بارگاہِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ اَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اﷲِ وَ بَرَکَاتُه. (یا نبی! آپ پر خاص سلامتی، اور اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی برکات ہوں) کے کلمات کے ساتھ سلام پیش کرے۔ تمام اہلِ ایمان کو اپنی طرف سے بطور انشاء بارگاہِ نبوی.صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سلام بھیجنا لازم ہے۔ ذیل میں ہم اس سلسلے میں محدثین و محققین کی آراء پیش کرتے ہیں۔

2۔ علامہ ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ لکھتےہیں :
اجمع الأربعة علي أن المصلي يقول : أيُّهَا النَّبِيُّ. وأن هذا من خصوصياته عليه السلام، إذ لو خاطب مصلٍ أحدًا غيره و يقول السلام عليکبطلت صلاته.
’’ائمہ اربعہ کا اس امر پر اجماع ہے کہ نمازی تشہد میں ’’اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ اَيُّهَا النَّبِيُّ‘‘ کہے اور یہ اندازِ سلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خصوصیات میں سے ہے۔ اگر کوئی نمازی آپ کے علاوہ کسی ایک کو بھی خطاب کرے اور ’’اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ‘‘ کہے تو اس کی نماز باطل ہو جائے گی۔‘‘

ملا علی قاري، شرح الشفاء، 2 : 120

3۔ امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے الخصائص الکبریٰ میں ایک مکمل باب قائم کیا ہے اور اس خصوصیت کو درج ذیل عنوان سے تعبیر کرتے ہوئے لکھا ہے :
باب اختصاصه صلي الله عليه وآله وسلم بأن المصلي يخاطبه بقوله’’اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ أَيُّهَا النَّبِيُّ‘‘ ولا يخاطب سائر الناس.
’’یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس امر کے ساتھ مختص ہیں کہ نمازی آپ صلی اللہعلیہ وآلہ وسلم کو صیغہ خطاب کے ساتھ اس طرح سلام پیش کرتا ہے ’’اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ اَيُّهَا النَّبِيُّ‘‘ اور وہ تمام لوگوں کو مخاطب نہیںہو سکتا۔‘‘

سيوطی، الخصائص الکبري، 2 : 253

4۔ امام قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ المواہب اللدنیہ میں اور امام زرقانی شرح المواہب میں اسی خصوصیت کو بیان کرتے ہوئے لکھتےہیں :
ومنها أن المصلي يخاطبهبقوله : اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ أَيُّهَا النَّبِيُّوَرَحْمَةُ اﷲِ وَ بَرَکَاتُه کما في حديث التشهد والصلوٰة صحيحة. ولا يخاطب غيره من الخلق ملکا أو شيطاناأو جمادًا أو ميتاً.
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خصوصیات میں سے یہ بھی ہے کہ نمازی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ’’اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ اَيُّهَا النَّبِيُّوَرَحْمَةُ اﷲِ وَ بَرَکَاتُه‘‘ کے کلماتکے ساتھ خطاب کرتا ہے جیسا کہ حدیثِ تشہد میں ہے اور اس کے باوجود اس کی نماز صحیح رہتی ہے۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ مخلوق میں سے کسی فرشتے یا شیطان اور جماد یا میت کو خطاب نہیں کر سکتا۔‘‘

زرقانی، شرح المواهب اللدنيه، 5 : 308

5۔ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے احیاء العلوم میں کیا ایمان افروز عبارت لکھی ہے فرماتے ہیں :
واحضر فی قلبک النبي صلي الله عليه وآله وسلم وشخصه الکريم، وقُلْ : سَلَامٌ عَلَيْکَ أَيُّهَاالنَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اﷲِ وَ بَرَکَاتُه. وليصدق أملک في أنه يبلغه و يرد عليک ما هو أوفٰي منه.
’’(اے نمازی! پہلے) تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کریم شخصیت اور ذاتِ مقدسہ کو اپنے دل میں حاضر کر پھر کہہ : اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ أَيُّهَا النَّبِيُّوَرَحْمَةُ اﷲِ وَ بَرَکَاتُه. تیری امید اور آرزو اس معاملہ میں مبنی پر صدق و اخلاص ہونی چاہیے کہ تیرا سلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں پہنچتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے کامل تر جواب سے تجھے نوازتے ہیں۔‘‘

غزالی، إحياء علوم الدين، 1 : 151

اس عبارت سے یہ امر واضح ہوا کہ اگر خطاباپنے ظاہری معنی و مفہوم میں نہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ مقدسہ کو مستحضر سمجھ کر سلام پیش کرنے کی تلقین نہ کی جاتی۔

6۔ نماز میں صیغۂ خطاب سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مخاطب ہونے کی حکمت امام طیبی نے بھی بیان کی ہے جسے امام ابنِ حجر عسقلانی نے فتح الباری میں نقل کیا ہے :
إن المصلين لما استفتحوا باب الملکوت بالتحيات أذن لهم بالدخول في حريم الحي الذي لا يموت، فَقَرَّت أعينهمبالمناجاة. فنبهوا أن ذلکبواسطة نبي الرحمة وبرکة متابعته. فالتفتوا فإذا الحبيب في حرم الحبيب حاضر فأقبلوا عليه قائلين : اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ أَيُّهَا النَّبِيُّوَرَحْمَة اﷲِ وَ بَرَکَاتُه.
’’بے شک نمازی جب التحیات سے ملکوتی دروازہ کھولتے ہیں تو انہیں ذاتِ باری تعالیٰ حَیٌّ لَا يَمُوْتُ کے حریمِ قدس میں داخل ہونے کی اجازت نصیب ہوتی ہے، پس مناجاتِ ربانی کے سبب ان کی آنکھوں کو ٹھنڈک عطا ہوتی ہے۔پھر انہیں متنبہ کیا جاتا ہے کہ یہ سب کچھ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وساطت اور آپ کیمتابعت کی برکت سے حاصل ہوا ہے۔ پس وہ ادھر توجہ اور التفات کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ سرکارِ دو عالم صلی اللہعلیہ وآلہ وسلم اپنے کریم رب کے حضور میں موجود ہیں تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف یوں سلام پیش کرتے ہوئے متوجہہوتے ہیں : اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ أَيُّهَا النَّبِيُّوَرَحْمَةُ اﷲِ وَ بَرَکَاتُه.‘‘

عسقلاني، فتح الباري، 2: 314

7۔ شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ صیغہ خطاب کی وجہ پر محققانہ کلام کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
و بعضے از عرفاء گفتہ اند کہ ایں خطاب بجہت سریان حقیقۃ محمدیہ است در ذرائر موجودات وافراد ممکنات۔ پس آن حضرت در ذات مصلیان موجود و حاضر است۔ پس مصلی باید کہ ازیں معنی آگاہ باشد وازین شہود غافل نبود تا بانوار قرب و اسرار معرفت متنور و فائز گردد۔
’’بعض عرفاء نے کہا ہے کہ اس خطاب کیجہت حقیقتِ محمدیہ کی طرف ہے جو کہ تمام موجودات کے ذرہ ذرہ اور ممکنات کے ہر ہر فرد میں سرایت کیے ہوئے ہیں۔ پس حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازیوں کی ذاتوں میں حاضر و موجود ہیں لہٰذا نمازی کو چاہئے وہ اس معنی سے آگاہ رہے اور اس شہود سے غافل نہ ہو یہاں تک کہ انوارِ قرباور اسرارِ معرفت سے منور اور مستفید ہوجائے۔‘‘

عبد الحق الدهلوی، اشعة اللمعات، 1 : 401

8۔ شیخ عبدالحق محدث دہلوی ایک اور مقام پر لکھتے ہیں :
ذکر کن او را و درود بفرست بروے صلی اللہعلیہ وآلہ وسلم و باش در حال ذکر گویا حاضر است پیش تو در حالتِ حیات، و می بینی تو اورا امتادب با جلال و تعظیم و ہیبت وحیاء۔ بدآنکہ وے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم می بیند ترا ومی شنید کلام ترا زیرا کہ وے متصف است بصفات اﷲ تعالیٰ۔ ویکے از صفات الٰہی آنست کہ انا جلیس من ذکرنی و پیغمبر را نصیب وافر است ازیں صفت.
’’(اے مخاطب!) تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر کر اور ان پر درود بھیج اور حالتِ ذکر میں اس طرح سمجھ کہ گویا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حیات ظاہری میں تیرے سامنے موجودہیں، اور تو جلالت و عظمت کو ملحوظ رکھ کر اور ہیبت و حیاء کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ رہا ہے۔ یقین جان کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تجھے دیکھتے ہیں اور تیرا کلام سنتے ہیں کیونکہحضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کی صفات کے ساتھ موصوف و متصف ہیں۔ ان صفاتِ ربانی میںسے ایک صفت یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے أَنَا جَلِيْسُ مَنْ ذَکَرَنِيْ (میں اس کا ہم نشین ہوں جو مجھے یاد کرے) اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس صفتِ الہٰیہ سے وافر حصہ حاصل ہے۔‘‘

عبد الحق الدهلوی، اشعة اللمعات، 2 : 621

ایک شبہ اور اس کا ازالہ

بعض لوگوں کا کہنا یہ بھی ہے کہ صحابہ کرام بعد از وصال.ِنبوی اَلسَّلَامُ عَلَيْک.َأَيُّهَا النَّبِيُّ کی بجائے اَلسَّلَامُ عَلَی النَّبِیِّ کہتے تھے لہٰذا اب سلام بصیغہ خطاب کہنا جائز نہیں ہے اس لئے شرک ہے۔ ذہن نشین رہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف اور صرف اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اﷲِ وَ بَرَکَاتُه کے اندازِ نداءو خطاب میں ہی سلام پیش کرنے کا طریقہ سکھلایا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قطعاً یہ نہیں فرمایا کہ میری ظاہری حیات میں تو مجھ پر سلام نداء و خطاب کے ساتھ پیش کریں اور بعد از وصال بدل دیں۔ اگر بعد از وصال نداء وخطاب کے انداز میں سلام پیش کرنا جائز نہیں تھا تو گویا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تشہد کے بارے میں تعلیم ادھوری اور ناقص رہ گئی؟ (معاذ اﷲ) کیا کوئی عام مسلمان بھی یہ تصور کر سکتا ہے؟ ہر گز نہیں۔

حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے عہدِ خلافت میں منبرپر بیٹھ کر نداء و خطاب پر مشتمل تشہدو سلام کی تعلیم دی اور اکابر صحابہ کی موجودگی میں یہ تلقین.فرمائی اور کسی صحابی نے اس کا انکارنہیں کیا۔ خطاب کے صیغہ کے ساتھ سلام پیش کرنے پر اجماعِ صحابہ ہے۔ خلفائے راشدین اور دیگر اکابر صحابہ نے اَلسَّلَامُ عَلَيْکَ أَيُّهَا النَّبِيُّ کے صیغہ خطاب کے ساتھ سلام پیش کیا ہے۔ تاہم اتنا کہا جا سکتا ہے کہ نداء و خطاب کے صیغہ کے ساتھ سلام پیش کرنا واجب نہیں ہے لیکن وجوب کی نفی سے جواز بلکہ استحباب کی نفی بھی لازم نہیں آتی کیونکہ خلفائے راشدین اور اہلِ مدینہ کا اجماع اور جمہور امت کا اسی پر مداومت کے ساتھ عمل اس پر شاہدِ عادل اور دلیلِ صادق ہے۔

علامہ ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ کا اس پر قول بطور دلیل ہم پچھلے صفحات میں نقل کر آئے ہیں کہ جمہور امت کے نزدیک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہوآلہ وسلم کو بصیغہ نداء و خطاب کے ساتھ سلام پیش کرنا بالکل جائز ہے۔
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آپ کی ظاہری حیاتِ طیبہ اور بعد از وصال صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سلف صالحین نے قریب اور بعید کی مسافت کے فرق کے بغیر بصیغہ نداء و خطاب پکارا۔

مستند کتبِ احادیث اور سیر میں درجنوں واقعات اس بات کی دلیل ہیں کہ اکابر اور سلف صالحین کبھی بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بصیغہ خطاب پکارنے میں کسی قسم کے الجھاؤ اور شک و شبہ میں مبتلا نہیں رہے۔ انہوں نے اپنی اپنی کتب میں اس عقیدہ صحیحہ کو بڑی شرح وبسط کے ساتھ واضح کیا ہے۔

مزاراتِ اَولیاء کی زیارت اورحاضری کے آداب

 


اولیاء اللہ کے مزارات پر حاضری اور دُعا سے متعلق بعض طبقات کی.سوچ اور طرزِ عمل افراط و تفریط کا شکار ہے۔ ایک طبقہ وہ ہے جو سرے سے اِس کے جوازکا ہی قائل نہیں بلکہ اِسے صریح شرک و بدعت گردانتا ہے۔ اِس کے برعکس ایک طبقہ عوام الناس کا ہے جسے اہلِ علم کی سند حاصل نہیں وہ بھی اِس سلسلہ میں جہالت اور تفریط میں مبتلا ہے۔ جمہور مسلمانوں کا مزارات پر طریقِ حاضری و دُعا نہایت معقول اور حزم و احتیاط کا آئینہ دار ہے۔ قاضی الحاجات، فریاد رس اور حقیقی مشکل کشا اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ لیکن مقربینِ بارگاہِ الٰہی انبیاء و اولیاء کا دُعا میں توسل جائز ہے اور اِن کے توسل سے دُعائیں قبول ہوتی ہیں۔ اِس سلسلہ میں

حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتےہیں :
واز جملہ آدابِ زیارت است کہ روئے بجانب قبر وپشت بجانب قبلہ مقابل روئے میت بایستد و سلام دہد و مسح نکند قبر را بدست و بوسہ ندہد آنرا و منحنی نشود وروئے بخاک نمالد کہ ایں عادتِ نصاریٰ است۔ وقرات نزد قبر مکروہ است نزدِ ابی حنیفہ و نزدِ محمد مکروہ نیست۔ وصدر الشہید کہ یکے از مشائخ حنفیہ است بقولِ محمد اخز کرد و فتویٰ ہم بریں است۔ و شیخ امام محمد بن الفضل گفتہ کہ مکروہ قراتِ قرآن بہ جہر است واما مخافت لا باس بہ است اگرچہ ختم کند۔
’’قبورِ اولیاء کی زیارات کے آداب میں سے ہے کہ زائر قبر کی طرف منہ اور قبلہ کی جانب پیٹھ کر کے صاحبِ قبر کے منہ کے برابر کھڑا ہو جائے، اُسے سلام کہے، ہاتھ سے قبر کو نہ چھوئے اور نہ قبر کو بوسہ دے اورنہ قبر کے سامنے جھکے اور قبر کے سامنے مٹی پر اپنا منہ نہ ملے کیونکہ یہ طریقہ نصاریٰ کا ہے۔قبر کے پاس قرآن حکیم کی تلاوت امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک (بآوازِ بلند) مکروہ ہے، مگر امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک مکروہ نہیں ہے۔ علمائِ احناف میں سے صدر الشہید نے امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کے قول کو اختیار کیا ہے اور اِسی پر فتویٰ ہے۔ شیخ امام محمد بن الفضل نے کہا ہے کہ قبر کے نزدیک اُونچی آواز میں قرآن خوانی مکروہ ہے، لیکن اگر دھیمی آواز میں ہو تو سارا قرآن مجید پڑھ لینے میں بھی کوئی حرج نہیں۔‘‘

شاه عبدالحق، اشعة اللمعات، باب زيارة القبور : 763

یہ بات ذہن نشین رہے کہ صالحینِ اُمت کے مزارات کو بوسہ دینا ضروری اُمور میں سے نہیں ہے لہٰذا اس عمل کو منکرین و مخالفین کے ردِعمل میں بے ادبی اور گستاخی سمجھنا اچھا نہیں ہے۔ اکابر مشائخ کے ملفوظات اور اُن کے معمولات میں احتیاط پسندی کی خاطر بوسہ دینے سے منع کیا گیا ہے۔ چنانچہ پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی رحمۃ اللہ علیہ اِس سلسلہ میں لکھتے ہیں :

پس اقربِ بصواب می نماید کہ کسے از ثقاتو مقتدایان تقبیلِ مزارات متبرکہ ہم ننماید، تاکہ عوام کالانعام در ورطۂ ضلال نیفتند۔ چہ بہ سبب جہل فرق میانِ سجود و تقبیل کردن نمی توانند۔

’’بہتر یہی ہے کہ اربابِ علم اور رہنمایانِ قوم میں سے کوئی آدمی مزارات کا بوسہ نہ لے تاکہ دیکھا دیکھی میں بے علم اور عام اَن پڑھ لوگ گمراہی کے بھنور میں نہ پھنس جائیں۔کیونکہ وہ جہالت کی وجہ سے بوسہ اور سجدہ میں تمیز نہیں کر سکتے۔‘‘

پير مهر علی شاه، تحقيق الحق : 159

تعظیماً بوسہ دینا فی نفسہ منع اور ناجائز نہیں ہے۔ اکابر علماء و مشائخ نے صرف احتیاط کی خاطر بوسہ دینے سے منع کیا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہخواص کا عمل عامۃ الناس کے لئے دلیل و حجت ہوتا ہے اِس لئےخواص کو بطورِ خاص احتیاط کا دامن تھامنے کی طرف متوجہ کیا گیا ہے۔ خواص تو بوسہ اور سجدہ کا فرق بخوبی سمجھتے ہیں لیکن عوام یہ فرق نہیں سمجھتے اِس لئے عوام کی خاطر انہیں بھی منع کیا گیا ہے۔
مزاراتِ اولیاء پر دعا کا درست طریقہ
سلف صالحین نے قبورِ اولیاء پر حاضری دینے والے زائرین اور دُعا کرنے والوں کے لئے دو طریقے بیان کئے ہیں :

1۔ پہلا طریقہ یہ ہے کہ دعا مانگنے والا اللہ تعالیٰ کا محتاج اور فقیرہے اور اپنی حاجت اللہ تعالیٰ سے طلب کرتا ہے، مگر دُعا میں صاحبِ مزار کی روحانیت،بزرگی اور اُس کی خدماتِ جلیلہ کا وسیلہ پیش کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے مانگتا ہے اور یہ عرض کرتا ہے کہ ’’اے میرے مولا! اِس صاحبِ مزار کی برکت سے اور اُس رحمت و عنایت کے صدقے جو تو نے اس صاحب مزار پر کی ہے اور اسے عظمت و بزرگی عطا فرمائی ہے، میری فلاںحاجت کو پورا فرما، کیونکہ حقیقی عطا کرنے والا اور مرادیں پوری کرنے والا تو ہے۔‘‘

2۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ دعا مانگنے والا صاحبِ مزار کو مخاطب کرتے ہوئے کہے کہ’’اے اللہ تعالیٰ کے مقبول بندے! میری فلاںمراد اللہ تعالیٰ سے طلب کیجئے، اللہ تعالیٰ مجھے میری مطلوب شے عطا کر دے۔‘‘ اِس طرح بھی سوال اللہ تعالیٰ ہی سے کیا جاتا ہے کیونکہ حقیقی مشکل کشا وہی ذات ہے، لیکن یہ اسلوب اختیار کرنا بطریقِ مجاز ہے جس کے تحت صاحبِ قبر کو بطور وسیلہ پیش کیا جاتا ہے۔ یہ طریقہ بھی اِس لئے جائز ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے کہ جسے چاہے اس کی التجا سنوا دے کیونکہ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ کوئی قبر والاہو یا زندہ چلتا پھرتاانسان، اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمت کے بغیر نہیں سن سکتا۔ یہ امر بعید نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ دُعا کرنے والے کی آواز کوقبر والے تک پہنچا دے اور پھر صاحبِ قبرعالمِ ارواح میں اللہ تعالیٰ سے اُس حاجت مند کے مقاصد کو پوراکر دینے کی التجا کرے۔ اِس طریقے میں بھی حاجت مند بالواسطہ اللہ تعالیٰ ہیسے مانگ رہا ہوتا ہے نہ کے صاحبِ قبر سے۔

اِن نازک اعتقادی اُمور کوبڑی احتیاط کے ساتھ عامۃ المسلمین کے سامنے بیان کرنا چاہیے۔ بعض حضرات.مزارات پر حاضری دیتےوقت ایسے اعمال و افعال کرتے ہیں جو جمہور امت کے شعار کے خلاف ہیں۔ اِس کا نتیجہیہ ہوتا ہے کہ معاندین و مخالفین کو اعتراض کا موقع مل جاتا ہے۔ اس میں قصور درحقیقت ہمارے ان بعض ائمہ وخطبا کا ہوتا ہے جو ایسے نازک عقائد میں احتیاط کو ملحوظ نہیں رکھتے اور بے جا تاویلات اور اُلٹے سیدھے دلائل عوام کی تائید کی خاطر بیان کرتے رہتے ہیں۔ اس سے ناقص لوگوں کے ذہن اُلجھاؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔

ہمارا یہ عقیدہ ہے کہحیات شیخ و مرشد سے دُعا کرانے کی صورت میں بھی حاجت مانگنا اللہ تعالیٰ ہی سے متصور ہوتا ہے کیونکہ وہ بھی تو اللہ تعالیٰ ہی سے مانگتا ہے۔ کوئی ولیاللہ یا شیخِ طریقت یہ نہیں کہتا کہ ’’ اے حاجت مند! یہ سب کچھ میں تجھے دے رہا ہوں، ‘‘ بلکہ وہ تو یہ کہتے ہیں کہ تم بھی اللہ تعالیٰ سے مانگو اور ہم بھیاُسی سے تمہارے لئے دعا کرتے ہیں۔ بعض اوقات کئی جہلا’’پیر صاحب‘‘ کو مخاطب کرکے کہتے ہیں : ’’یا صاحبِ مزار مجھے اولاد دے دیں، صحت دے دیں یا فلاں مسئلہ حل کر دیں۔‘‘ ایسے موقعوں پر دین سے محبت، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ بروقت ایسے لوگوں کی اصلاح کر دی جائے۔

3۔ بزرگوں کے نزدیک دُعا میں زیادہ پسندیدہ اور محتاط طریقہ یہی ہے کہ قرآن و سنت میں منقول دُعائیں مانگنا معمول بنایا جائے اور حضرات انبیاء علیہم السلام و اولیاء کرام کا وسیلہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کیا جائے۔ اگر خاص حاجت مانگنی ہو تو حضرات انبیاء و اولیاء و مقربینِ بارگاہ اِلٰہی سے اور بالخصوص حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں درخواست کی جائے کہ آپ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ بے کس پناہ میں دُعا فرما دیں کہ ہماری مشکلات آسان فرما دےاور حاجتیں بر لائے۔ یہ وہ محتاط طریقہ دُعا ہے جس پر کوئی شخص اعتراض نہیں کر سکتا۔ حزم و احتیاط کا تقاضا بھی یہی ہے کہ جہاں توہمات اور بدعات و خرافات میں مبتلاہونے کا اندیشہ ہو اُس راستہ کو یکسر بند کر دیا جائے۔

باقی رہے خواص تو اپنی خداداد بصیرت اور رُوحانی طاقت سے عالمِ کشف میں وہ صاحبانِ قبر سے ہم کلام بھیہوتے ہیں اور صاحبِ مزارسے رابطہ بھی رکھتے ہیں۔ جہاں صالحین کے مزار کی زیارت سے زائرین کو روحانی فیض و برکت حاصل ہوتی ہے وہاں بعض اوقات صاحبِ ولایت و مقام زائرین سے صاحبانِ قبر کی رُوح بھی روحانی برکت و فیض حاصل کرتی ہے۔

حضرات انبیاء علیہم السلام اور اولیاء کرام کے متعلق یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ ذاتی یا مستقل طور پر متصرف ہیں یا اِس طرح تصرف و اختیار میں شریک سمجھنا کہ اللہتعالیٰ اُن کی شرکت کے بغیر کائنات کا نظام نہیں چلا سکتا، کفر ہے۔ اس طرح کیہر غلطی کی اصلاح کرکے اسے جڑ سے اُکھاڑ پھینکنا چاہئے۔ بزرگوں سے عقیدت اپنی جگہ لیکن کسی بھی مسئلہ میں غلو جائز نہیں۔

مزارات کے طواف
اور شور و غل کی ممانعت

کعبۃ اللہ کے علاوہ کسی مقام یا قبر کا طوافِ تعظیمی منع ہے۔ فقہائے کرام نے قبرستان میں خیرات اور شیرینی تقسیم کرنے سے اس لئے منع کیا ہے کہ تقسیم کے وقت بچے اور عورتیں شور و غل کرتے ہیں۔ قبرستان کا ادب و احترام قائم نہیں رہتا لہٰذا ایسا کرنے میں بھی احتیاط کرنی چاہیے۔ مساکین اور زائرین کے لئے مزارات پر الگ اہتمام ہونا چاہیے۔ مقبولانِ بارگاہِ خداوندی کے اعراس میں جو ناجائز افعال و اعمال کئے جاتے ہیں اِن سے صاحبِ مزار کو تکلیف و اذیت پہنچتی ہے۔ اِس طرح صاحبِ مزار کا فیض اور برکت زائر کو نصیب نہیں ہوتی۔ خیرات کی چیزیں اُوپر سے پھینکنا اور لوگوں کا اُن کو بطور تبرک حاصل کرنے کے لئےشور و غل کرنا، ایسے تمام اُمور غلط ہیں اور سلف صالحین نے اِن کی حوصلہ شکنی کیہے۔ اس طرزِ عمل سے ایک تو رزق کی بے حرمتی ہوتی ہے، دوسرا مزار کا ماحول اور اُس کا تقدس پامال ہوتا ہے اور تیسرا اِس میںریاکاری کا عمل دخل ہے۔ لہٰذا ایسے تمام اُمور سے پرہیز کرنا چاہیے۔

مزارات پر نذر و نیاز اورتبرک کی حقیقت

مزاراتِ اولیاء پر نذر و نیاز دینے اور وہاں’’لنگر‘‘ پکانے یا کھانے کی حقیقت صرف اتنی ہے کہ یہ ایک نیک عمل ہے جس کی اصل قرآن و سنت میں موجود ہے۔ یہ صدقہ جاریہ کی ایک مستحسن صورت ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب بندوں کو نواز رکھا ہے۔’’اطعام الطعام‘‘ تعلیمات قرآن و سنت کی معروف اصطلاح اور اسلامی تہذیب و ثقافت کی ایک نمایاں خصوصیت ہے۔ سورۃ الدھر میںاللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب اور مخلص بندوںکی خصوصیات بیان فرمائی ہیں جن میں ضرورت مندوں اور ناداروںکو کھانا کھلانا بنیادی خصوصیت قرار دیا گیا، ارشادِ باری تعالیٰ ہے :

وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا O إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا O إِنَّا نَخَافُ مِن رَّبِّنَا يَوْمًا عَبُوسًا قَمْطَرِيرًا O

’’اور (اپنا) کھانا اﷲ کی محبت میں (خود اس کی طلب و حاجت ہونے کے باوُجود اِیثاراً) محتاج کو اور یتیم کو اور قیدی کو کھلا دیتے ہیںo (اور کہتے ہیں کہ) ہم تو محض اللہ کی رضا کیلئے تمہیں کھلا رہے ہیں،نہ تم سے کسی بدلہکے خواستگار ہیں اور نہ شکرگزاری کے (خواہشمند) ہیںo ہمیں تو اپنے ربّ سے اُس دن کا خوف رہتا ہے جو (چہروں کو) نہایت سیاہ (اور) بدنما کر دینے والا ہےo‘‘

الدهر، 76 : 8 - 10

یہ کام اہل اﷲ کے نزدیک نفلی عبادت سےزیادہ باعثِ ثواب ہے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ مخلوقِ خدا کی خدمت دراصل اللہ تعالیٰ کو خوش رکھنے کا ایک ذریعہ ہے۔ یہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کا نمایاں وصف ہے اور اسوۂ حسنہکے اتباع میں تمام صوفیاء کا معمول رہا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود یتیموں، مسکینوں اور ناداروں کا سہارا اور ملجا تھے۔ آپ صلیاللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی متعدد احادیث میں’’اطعام الطعام‘‘ کی ترغیب اور حکم موجود ہے۔ بلکہ بعض صحیح احادیث میں بیان ہوا ہے کہ

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسلام کی تعریف اوربنیادی خصوصیات میں کھانا کھلانے اور دوسرے کی خیر خواہی چاہنے کو شامل فرمایا۔ ملاحظہ ہو فرمان نبوی :

1۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کسی نے سوال کیا :
أَيُّ الْاِسْلَامِ خَيْرٌ؟ قَالَ : تُطْعِمُ الطَّعَامَ وَتَقْرَأُ السَّلَامَ عَلَی مَنْ عَرَفْتَ وَ مَنْ لَمْ تَعْرِفْ.
’’بہترین اسلام کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تو کھانا کھلائے اور سلام کرے اس شخص کوجسکو تو پہچانتا ہو یا نہ پہچانتا ہو۔‘‘

1. بخاري، الصحيح، کتاب الإيمان، باب افشاء السلام، 1 : 19، رقم: 28
2. مسلم، الصحيح، کتابالإيمان، باب تفاضل الإيمان، 1 : 65، رقم : 39
3. ابوداؤد، السنن، کتابالأدب، باب في افشاء السلام، 4 : 350، رقم : 5194

2۔ اسی طرح مشہور صحابی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت فرمایا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم !مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جس کی بجا آوری سے میں جنت کا حق دار ٹھہر سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
أطْعِمِ الطَّعَامَ، وَ أفْشِ السَّلَامَ، وَصِلِ الْأرْحَامَ، وَصَلِّ بِالَّيْلِ وَالنَّاسُ نَيامٌتَدْخُلُ الْجَنَّة بِسَلَامٍ.
’’ضرورت مند کو کھانا کھلاؤ، سلام (سلامتی اور خیر خواہی)کو عام کرو، صلہ رحمی کرو اور دوسرے لوگ نیند کے مزے لے رہے ہوں تو تم اٹھ کر نماز (تہجد) پڑھا کرو (ان اعمال کے باعث تم) سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔‘‘

1. ابن حبان، الصحيح، 6: 299، رقم : 2559
2. حاکم، المستدرک، 4 :144، رقم : 7174

3۔ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہوآلہ وسلم جس وقت مدینہ تشریف لائے تو اول کلام جو میں نے ان سےسنا وہ یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
اَيُّهَا النَّاسُ أَفْشُوا السَّلَامَ وَ أَطْعِمُوا الطَّعَامَ وَصَلُّوْا وَالنَّاسُ نِيَامٌ تَدْخُلُوا الْجَنَّة بِسَلَامٍ.
’’لوگو! سلام کو عام کرو اور کھانا کھلاؤاور جب لوگ سو رہے ہوں، نماز پڑھو تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔‘‘

1. ترمذي، السنن، کتاب صفة القيامة، 4 : 652، رقم : 2485
2. ابن ماجه، السنن، کتاب الأطعمة، 2 : 1083، رقم : 3251
3. احمد بن حنبل، المسند، 5 : 451، رقم : 23835

4۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے اس سے مماثل روایت ہے جس میں حضور نبیاکرم صلی اللہ علیہ وآلہوسلم نے اطعام الطعام کو اﷲ کی عبادت کا ہم پلہ عمل قرار دیتے ہوئے فرمایا :
اعْبُدُوا الرَّحْمٰنَ وَ أَطْعِمُوا الطَّعَامَ وَ أَفْشُوا السَّلَامَ تَدْخُلُوا الْجَنَّة بِسَلَامٍ.
’’تم رحمٰن کی عبادت.کرو اور کھانا کھلاؤاور سلام عام کرو ان تین امور کی انجام دہی کے ثمر کے طور پر تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔‘‘

1. ترمذی، السنن، کتاب الأطعمة، باب فضل اطعام الطعام، 4 : 2870، رقم : 1855
2. احمد بن حنبل، المسند، 2 : 170، رقم : 6587
3. دارمی، السنن، 2 : 148، رقم : 2081
4. بزار، المسند، 6 : 383، رقم : 2402
5. بخاری، الأدب المفرد، 1 : 340، رقم : 981

آپ نے قرآن و سنت کے واضح احکام کو ملاحظہ کیا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھانا کھلانے کا کس قدر اہتمام اور تاکید کے ساتھ ذکر فرمایا۔ بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اللہ کے متقی، پرہیزگار، مخلصین اور محبین، اللہ تعالیٰ سےقربت اور اخلاص کا دعویٰ کریں اور اس کےمحبوب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبتو اطاعت کا دم بھی بھریں لیکن ان کے ہاں مخلوقِ خدا کو خیر خواہی نہ ملے، بھوکوں کو کھانا کھلانے کی ترغیب اور عملی مظاہرہ نہ ہو چنانچہ مقربینِ بارگاہِ ایزدی جب حیات ہوتے ہیں خود بھی مخلوق کے لیے سراپا خیر ہوتے ہیں، ان کے دوست دشمن، امیر غریب.جاننے والے اور غیر سب کے لیے ان کا دست عطا کھلا رہتا ہے اور جب وہ دنیا سے چلے جاتے ہیں تو اس وقت بھی ان کے اس عمل خیر میں انقطاع نہیں ہوتا۔

چنانچہ ہم دیکھتے ہیںکہ دنیا میں جہاں جہاں ایسے مزارات ہیں وہاں قائم لنگرخانوں میں نادار، غریب اور مفلوک الحال لوگ پیٹ کی آگ بجھاتے ہیں۔ انہیں دو وقت کا کھانا مفت ملتا ہے تویہ خود ایک بہت بڑی انسانی خدمت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی زندگی میں ان کے اخلاصِ عمل کو برکت سے نواز کر ان کے وصال کے بعد بھیایصالِ ثواب کی یہ سبیل جاری رکھی ہوئی ہے۔ یہ

دراصل.زمین پر مائدۃ الرحمن (الوہی دسترخوان) ہے جس کی سعادت سے یہی عظیم المرتبت لوگ نوازے جاتے ہیں۔ انسانی استطاعت و طاقت سے یہ ممکن نہیں ہوتا بلکہ صرف اللہ تعالیٰکی توفیق اور عنایت سے ہی اس قدر وسیع اسباب و وسائل میسر آتے ہیں۔

برصغیر پاک و ہند میں ایسے مزارات بکثرت موجود ہیں مثلاً سیدنا علی بن عثمان الہجویریالمعروف داتا صاحب رحمۃ اللہ علیہ، حضرت بابا فرید مسعود گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ پاک پتن شریف، خواجہھند حضرت معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ، حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہعلیہ، حضرت بہاؤ الدینذکریا ملتانی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مجدد الف ثانی، شیخ احمد فاروقیسرہندی رحمۃ اللہ علیہ بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ اسی طرح کے سینکڑوں مراکز اور مقامات ہیں جہاں آج بھی ہزاروں اور لاکھوں ایسے لوگ کھانا کھاتے ہیں جو بے روزگار اور بے سہارا ہوتے ہیں۔ غریب اور یتیم بچے، عورتیں،بوڑھے اور بیمار، سب بلاتمیز رنگ و نسل، عقیدہ و مذہب ان آستانوں پر آزادانہ کھاتے پیتے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق حضرت داتا صاحب کے احاطۂ مزار میں ہر روز 20 سے 30 ہزار لوگ مختلف شکلوں میں ’’لنگر‘‘ سے کھانا حاصل کرتے ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں بھوکوں، بے روزگاروں اور ضرورت مندوں کو کھانا کھلانا کوئی.معمولی بات نہیں۔
یہ تو صرف اللہ تعالیٰ کے فضل و کرماور اس کی خصوصی عطاء سے ہی ممکن ہےورنہ دنیا کا کوئی بادشاہ، دولت مند شخص.یا تنظیم ایسا کرنے کی صلاحیت و قدرت نہیں رکھتی۔ پھر یہ سلسلہ دو چار دنوں یامہینوں سے نہیں بلکہ صدیوں سے جاریو ساری ہے۔ ایسے نیک اور خدمتِ خلق پر مبنی عمل کو بلاسوچےسمجھے شرک و بدعت اور حرام کہنا بجائے خود بہت بڑی.جسارت ہے۔ جیسا کہ اوپر ہم عرض کر چکے ہیں کہ یہ ’’اطعام الطعام‘‘ کے فرمانِ الٰہی پر عمل درآمد کی ایک بہترین شکلہے۔ جائز مشروع اور مخلوقِ خدا کیلئے مفید عمل کو بلادلیل ناجائزعمل کہنا دراصل دین میں تجاوز ہے۔ یہ ایک طرف کی سوچ اور نقطۂ نظر ہے۔

دوسری طرف اس سے بھی زیادہ قباحتیں موجود ہیں۔ انہی قباحتوں میں سے ایک یہبھی ہے کہ کئی لوگوں نے اس لنگر یانذر و نیاز کے کھانےسے متعلق بہت سی خود ساختہ باتیں گھڑرکھی ہیں۔ کہیں اسکی شفا کے مبالغہ آمیزتذکرے کیے جاتے ہیں، کہیں اس کے عدمِ استعمال پر انجام بد سے ڈرایا جاتا ہے اورکسی جگہ کا لنگر ہرگناہ اور معصیت سے چھٹکارے کا ضامن سمجھا جاتا ہے۔ بزرگانِ دین کے مزارات اور ان کی قربت بلاشبہ باعثِ خیر و برکت ہے اور ان کے آستانوں پر توسلاً اللہ پاک بیماروں کو شفا بھی دیتا ہے مگر یہ سب فوائد اضافی ہیں بنیادی غرض و غایت تو ضرورت مندوں کی بھوک کا ازالہ ہے۔
علاہ ازیں بعض مقامات اور مزارات پر اس نیک عمل کو بے جا پابندیوں اور اضافی شرطوں سے خاص کردیاجاتا ہے مثلاً شیرینی کے ساتھ مختلف تحریریں لکھ دی جاتی ہیں جن کے ذریعے زائرین پر نفسیاتی طور پر ترغیب و ترھیب سے اثر انداز ہونے کی کوشش بھی کی جاتی ہے کہ ’’یہ کھانے سے اتنے پھیرے اور اسی طرح کی نیاز کی مزید تقسیم ضروری ہے۔‘‘ وغیرہ۔

یہ سب رسوم و رواج جہالت اور مزارات کے غلط استعمال کی مختلف شکلیں ہیں ایسی قباحتوں سے صاحبِ مزار کو یقینا تکلیف پہنچتی ہے اس لئے ایسے امور سے ہر ممکن.بچنے کی کوشش کرنی.چاہیے۔ عرس کی شیرینی کھانے کے فضائل بیان کرنے اور نہ کھانے والے کو محروم سمجھے جانے کی کوئی اصل نہیں ہے۔

اعلیٰ حضرت محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ عرس کی شیرینی کے متعلق یہ کہنا کہ جوکوئی اِس کو کھائے گا اُس کا جنت مقام و دوزخ حرام ہے یہ کہنا شرعاً کیاحکم رکھتا ہے؟

انہوں نے جواب دیا :’’یہ کہنا جزاف اور یاوہ گوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ کس کا جنت مقام اور کس پر دوزخ حرام ہے۔ عرس کی شیرینی کھانے پر اللہو رسول کا کوئی وعدہ ایسا نہیں ثابت جس کے بھروسہ پر یہ حکم لگا سکیں۔ یہ تقول علی اﷲ کے مترادف ہے اور وہ ناجائز ہے۔

قال اﷲ تعالی : اَطَّلَعَالْغَيبَ اَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًا (مريم، 19 : 78)،

قال اﷲ تعالی : أَتَقُوْلُوْنَ عَلَي اﷲِ مَالَا تَعْلَمُوْن (البقرة، 2 : 80).

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’وہ غیب پر مطلع ہے یا اس نے (خدائے) رحمن سے (کوئی) عہد لے رکھاہے؟ (اسی طرح) اﷲ تعالیٰ نے فرمایا : ’’تم اللہ پر یونہی (وہ) بہتان باندھتے ہو جو تم خودبھی نہیں جانتے۔‘‘

احمد رضا خان، فتاویٰ رضويه، 4 : 219

کلماتِ توسُّل میں احتیاط

اگر کوئی جاہل یہ عقیدہ رکھتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں وسیلہ کے بغیر دُعا قابل.ِسماعت ہی نہیں یا وسیلہ کا معنی یہ سمجھتا ہو کہ اللہ تعالیٰ پر العیاذ باللہ کوئی بوجھ یادباؤ پڑتا ہے، تو ایسا عقیدہ باطل ہے جس کا سلف صالحین کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃاللہ علیہ سے مزارات پر فاتحہ کے طریقہ کے متعلق پوچھا گیا کہ ’’بزرگوں کے مزارپر جائیں تو فاتحہ کس طرح سے پڑھا کریں؟‘‘ انہوں نے جوابدیا : ’’مزاراتِ شریفہ پر حاضر ہونے میں پائنتی کی طرف سے جائے اور کم از کم چار ہاتھ کے فاصلہ پر مواجہہمیں کھڑا ہو اور متوسطآواز میں مودِبانہ سلام کرے۔ ختم وغیرہ پڑھ کر اللہ عزوجل سے دعا کرے کہ الٰہی اس قرات پر مجھے اتنا ثواب دے جو تیرے کرمکے قابل ہے نہ اِتنا جومیرے عمل کے قابل ہےاور اِسے میری طرف سےاِس بندہ مقبول کو نذر پہنچا۔ پھر اپنا جو مطلب جائز شرعی ہو اُس کے لئے دُعا کرےاور صاحبِ مزار کی رُوح کو اللہ عزوجل کی بارگاہ میں اپنا وسیلہ قرار دے۔ پھر اُسی طرح سلام کر کے واپس.آئے۔ مزار کو ہاتھ نہ لگائے، نہ بوسہ دے۔ طواف بالاتفاق ناجائز ہے جبکہ سجدہحرام ہے۔‘‘
ا
حمد رضا خان، فتاویٰ رضويه، 4 : 212

سجدۂ تعظیمی اور قبر کی سمت

سجدہ کرنےکی ممانعت
سجدہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے لئے جائز نہیں۔ غیر اللہ کوسجدۂ عبادت کھلا کفر ہے اور سجدۂ تعظیمی حرام ہے بلکہ ایسا عمل بھی ممنوع ہے جو سجدہ کی سی مشابہت رکھتا ہووہ بھی مزارات پر نہیں کرنا چاہیے۔

حضرت ابو مرثد رضی اللہعنہ سے مروی ہے کہ میں نے حضور نبی اکرمصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
لَا تُصَلُّوْا إِلَی الْقُبُوْرِ وَ لَا تَجْلِسُوْا عَلَيْهَا.

’’قبروں کی طرف رخ کر کے نماز نہ پڑھو اور نہ اُن پر بیٹھو۔‘‘

1. مسلم، الصحيح، کتابالجنائز، باب النهی عن الجلوس علی القبر، 2 : 668، رقم : 972
2. نسائی، السنن، کتاب القبلة، باب النهیعن الصلوة إلی القبر، 2 : 67، رقم : 760
3. احمد بن حنبل، 4 : 135

سج عامۃ الناس میں سے بعض لوگ مزارات کو بوسہ دیتے اور چوکھٹچومتے ہیں یہ ناپسندیدہ فعل، مکروہ کے زمرے میں داخل ہےمگر شرک کے دائرے میں نہیں آتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زمین بوسی حقیقتاً سجدہ نہیںکیونکہ سجدہ میں سات اعضاء کا بیک وقت زمین پر رکھنا ضروری ہے۔ ہاں زمین بوسی اِس وجہ سے ممنوع ہے کہ مشابہتًا بت پرستی اور صورۃً قریبِ سجدہ ہے۔ حقیقتاً سجدہ نہ سہی پھر بھی منع ہے۔ اعلیٰ حضرت محدث بریلوی مولانا احمد رضا خان رحمۃاللہ علیہ نے اِس مسئلہ پر باقاعدہ الگ کتاب’’الزبدۃ الزکیۃ لتحریم سجود التحیۃ‘‘ لکھی ہے جس میں انہوں نے ٹھوس دلائل سے سجدۂ تعظیمی اور خلافِ شرع اُمور کی تردید فرمائی ہے۔

توحید فی الدُّعاءاور شرک فی الدُّعاء

 



توحید فی الدُّعا

دُعا مومن کا ہتھیار اور عبادت کا مغز ہے۔ یہ بندے کا اﷲ تعالیٰ کے ساتھ ربط و تعلق اور قربت کا ذریعہ ہے۔دُعا اﷲ تعالیٰ کا حکم بھی ہے اور بندگانِ خدا کا محبوب عمل بھی۔ اصلًا، حقیقتًا اور شرعاً دُعا اللہ تعالیٰ کے حضور مانگی جاتی ہے اور یہ اسی کے لئے خاص ہے۔ پس توحید فی الدُعا سے مراد یہ ہے کہ فقط اللہ تعالیٰ ہی کو مستجیب الدعوات (دُعائیں قبول کرنے والا)تسلیم کیا جائے۔ اِسی کی بارگاہ میں ہاتھ پھیلائے جائیں اور شدائد و مصائب اور مشکلات و آلام میں اُسی کے حضور گڑ گڑا کر گریہ و زاری کی جائے۔

فقط اللہ تعالیٰ کو پکارنا اور اس کی بارگاہ میں دُعا کرنا توحید فی الدعا ہے جبکہ اِس کے برعکس.غیر اللہ کو حقیقی فریاد رس سمجھ کر اُن سے دعا کرنا شرک فی الدعاہے۔

ایک غلط فہمی کا ازالہ

دُعا کے حوالے سے ایک.عام غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ ’’دَعَا يَدْعُو‘‘ کے ذریعے قرآن حکیم میں بہت سے مقامات پر یہ تعلیم دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو مثلاً ارشادِ باری تعالیٰ ہے :

’’فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًاo
’’پس اللہ کے ساتھ کسی اور کی پرستش مت کیا کروہo‘‘
1.
الجن، 72 : 18

اسی مضمون پر مشتمل بہت سی آیات سے برخود غلط استدلال کرتےہوئے یہ نکتہ اٹھایا جاتا ہے کہ انبیاءاور اولیاء کو نداء ’’یا‘‘ کے ساتھ مخاطب کرنا اور متوجہ کرنا شرک ہےچنانچہ بعض لوگ بتوں کی پرستش کے بارے میں نازل ہونے والی.آیات سے مغالطہ پیدا کر کے ان کو اہل اللہ سے منسوب کرتے ہیں۔ اِس مغالطہ آفرینی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے ’’دعا یدعو‘‘ کا صحیح معنی و مفہوم نہیں سمجھا۔ اس لئے ضروری ہے کہ دُعا کا معنی اور اس کے اطلاقات کو قرآنی آیات کے تناظر میں صحیح سیاق و سباق سے دیکھا جائے۔

قرآن حکیم میں لفظِ دُعا کے معانی

لفظِ دُعا، دَعْوٌ یا دَعْوَۃٌ سے مشتق ہے، جس کا لغوی معنی بلانا یا دعا کرنا ہے۔ قرآن حکیم میں لفظ دُعا تین مختلف.معانی میں استعمال ہوا ہے جو درج ذیل ہیں :

1. دُعا بمعنی دعوت (Invitation)
2. دعا بمعنی التجا (Supplication)
3. دُعا بمعنی عبادت (Worship)

اب ہم بالترتیب مذکورہبالا تینوں معانی کی مثالیں قرآنِ حکیم سے پیش کرتے ہیں :

1۔ دُعا بمعنی دعوت

دُعا کا پہلا اور معروف معنی دعوت دینا یعنی بُلانا ہے۔ ارشادِ خداوندیہے :

1.
قُلْ هَـذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللّهِ عَلَى بَصِيرَةٍ أَنَاْ وَمَنِ اتَّبَعَنِي وَسُبْحَانَ اللّهِ وَمَا أَنَاْ مِنَ الْمُشْرِكِينَo
’’(اے حبیبِ مکرم!) فرما دیجئے : یہی میری راہ ہے میں اﷲ کی طرف بلاتا ہوں، پوری بصیرت پر (قائم) ہوں،میں (بھی) اور وہ شخص بھی جس نے میری اتباع کی، اور اﷲ پاک ہے اور میں مشرکوںمیں سے نہیں ہوں۔‘‘
1.
یوسف، 12 : 108

2.
ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ
’’(اے رسولِ معظّم!) آپ اپنے رب کی راہ کی طرف حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ بلائیے۔‘‘
(1) النحل، 16 : 125
1.
وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً يَدْعُونَ إِلَى النَّارِ
’’اور ہم نے انہیں (دوزخیوں کا) پیشوا بنادیا کہ (وہ لوگوں کو) دوزخ کی طرف بلاتے تھے۔‘‘
(2) القصص، 28 : 41
1.
وَيَا قَوْمِ مَا لِي أَدْعُوكُمْ إِلَى النَّجَاةِ وَتَدْعُونَنِي إِلَى النَّارِo
’’اور اے میری قوم! مجھے کیا ہوا ہے کہمیں تمہیں نجات کی طرف بلاتا ہوںاور تم مجھے دوزخ کی طرفبلاتے ہوo‘‘
(3) المؤمن، 40 : 41
1.
وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّن دَعَا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِيمِنَ الْمُسْلِمِينَo
’’اور اس شخص سے زیادہ خوش گفتار کون ہو سکتا ہے جو اﷲ کی طرف بلائے اور نیک عمل کرے اور کہے : بیشک میں (اﷲ ل اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے) فرمانبرداروں میں سے ہوںo‘‘
(4) حم السجدۃ، 41 : 33
1.
كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ
’’مشرکوں پر بہت ہیگراں ہے (وہ توحید کی بات) جس کی طرف آپ انہیں بلا رہے ہیں۔‘‘
(5) الشوریٰ، 42 : 13
1.
هَاأَنتُمْ هَؤُلَاءِ تُدْعَوْنَ لِتُنفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ
’’یاد رکھو تم وہ لوگ ہو جنہیں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے بلایا جاتا ہے۔‘‘
(1) محمد، 47 : 38
مزید ارشاد ہوا :
1.
وَمَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ لِتُؤْمِنُوابِرَبِّكُمْ وَقَدْ أَخَذَ مِيثَاقَكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَo
’’اور تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے، حالانکہ رسول( صلی اللہعلیہ وآلہ وسلم ) تمہیں بلا رہے ہیں کہ تم اپنے رب پر ایمان لاؤ اور بیشک (اللہ) تم سے مضبوط عہد لے چکا ہے، اگر تم ایمان لانے والے ہوo‘‘
(2) الحدید، 57 : 8
مذکورہ بالا آیاتِ قرآنی میں دعابمعنی دعوت اِستعمال ہوا ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہوآلہ وسلم کی شان میں بیان ہوا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم داعی الی اللہ ہیں اور مخلوقِ خدا کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دیتے ہیں۔

2۔ دُعا بمعنی التجا

دَعَا يَدْعُو کا دوسرا اطلاق.پکارنا ہے یعنی بعض جگہ دعا یدعو دعا کرنےکے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اللہ رب العزت کے حضور اس کے عاجز بندے دعا کرتے ہیں اور وہ ان دعائوں کو قبول کرنے والا ہے۔ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں جب کوئی سائل اپنے ہاتھاٹھا کر مانگتا ہے تواس وقت التجا کی صورت میں دعا عبادت شمار ہوتی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ
’’اور تمہارے رب نے فرمایا ہے تم لوگ مجھ سے دعا کیا کرو میں ضرور قبول کروں گا۔‘‘
1.
المؤمن، 40 : 60

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اﷲ علیہ لکھتے ہیں :

(ادعونی) وحدونی قال رسول اﷲ صلی الله عليهوآله وسلم : الدعاء هو العبادة.

’’ادعونی کا معنی ہے صرف مجھ ہی سے دعا کرو، جیسا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہوآلہ وسلم نے فرمایا : دُعا عبادت ہے۔‘‘
1.
شاہ ولی اﷲ، الفوز الکبیر

اس حدیثِ پاک کی رو سے وہ دُعا شرک ہے جوغیر اللہ سے ہو اور بطورِ عبادت ہو لیکن یہ ذہن نشین رہے کہ محض پکارنا ہرگز عبادت نہیں۔

ذاتِ باری تعالیٰ حقیقی معین و مغیث اورمددگار ہے۔ قرآن مجید میں سیدنا آدمں سے لے کرحضور نبی اکرم سیدنا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک کئی انبیاء علیہم السلام کی وہ دعائیں مذکور ہیں جنہیں باری تعالیٰ نے شرفِ قبولیت سے نوازا۔ اسی طرح سابقہ اُمم کے لوگوں کا مختلف احوال میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے کا ذکر بھی قرآن مجید میں ملتا ہے۔
قرآنِ حکیم میں جن آیاتِ مبارکہ میں دَعَا يَدْعُوْ بمعنی ’’دعا‘‘ استعمال ہوا ہے ان میں سے چند درج ذیل ہیں :
1.
هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهُ
’’اسی جگہ زکریا (ں) نے اپنے رب سے دعا کی.‘‘
1.
اٰل عمران، 3 : 38

2. قُلْ أَرَأَيْتَكُم إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُ اللّهِ أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ أَغَيْرَ اللّهِ تَدْعُونَ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَo بَلْ إِيَّاهُ تَدْعُونَ فَيَكْشِفُ مَا تَدْعُونَ إِلَيْهِ إِنْ شَاءَ وَتَنسَوْنَ مَا تُشْرِكُونَo
’’آپ (ان کافروں سے) فرمائیے : ذرا یہ تو بتاؤ اگر تم پر اللہ کا عذاب آجائے یا تم پرقیامت آ پہنچے تو کیا(اس وقت عذاب سے بچنے کے لئے) اللہ کے سوا کسی اور کو پکاروگے؟ (بتاؤ) اگر تم سچے ہو۔ (ایسا ہرگز ممکن نہیں) بلکہ تم (اب بھی) اسی (اللہ) کو ہی پکارتے ہو پھر اگر وہ چاہے تو ان (مصیبتوں) کو دور فرما دیتا ہے جن کے لئے تم (اسے) پکارتے ہو اور (اس وقت) تم ان (بتوں) کو بھول جاتے ہو جنہیں (اللہ کا)شریک ٹھہراتے ہوo‘‘
1.
الانعام، 6 : 40۔ 41

3. قَالَ قَدْ أُجِيبَت دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِيمَا
’’ارشاد ہوا : بے شک تم دونوں کی دعا قبول کرلی گئی، سو تم دونوں ثابت قدم رہنا۔‘‘
(2) یونس، 10 : 89
1.
قُلِ ادْعُواْ اللّهَ أَوِ ادْعُواْ الرَّحْمَـنَ أَيًّا مَّا تَدْعُواْ فَلَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى
’’فرما دیجئے کہ اللہ کو پکارو یا رحمان کوپکارو، جس نام سے بھی پکارتے ہو (سب) اچھے نام اسی کے ہیں۔‘‘
(3) بنی اسرائیل، 17 : 110
1.
وَإِذَا مَسَّ الْإِنسَانَضُرٌّ دَعَا رَبَّهُ مُنِيبًا إِلَيْهِ ثُمَّ إِذَا خَوَّلَهُ نِعْمَةً مِّنْهُ نَسِيَ مَا كَانَ يَدْعُواْ إِلَيْهِ مِن قَبْلُ…
’’اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے رب کو اسی کی طرف رجوع کرتے ہوئے پکارتا ہے پھر جب (اللہ) اُسے اپنی جانب سے کوئی نعمت بخش دیتا ہے تو وہ اُس (تکلیف) کو بھول جاتا ہے جس کے لئےوہ پہلے دعا کیا کرتا تھا۔‘‘
(4) الزمر، 39 : 8
1.
لاَّ يَسْأَمُ الْإِنسَانُمِن دُعَاءِ الْخَيْرِ وَإِن مَّسَّهُ الشَّرُّفَيَؤُوسٌ قَنُوطٌo
’’انسان بھلائی مانگنے سے نہیں تھکتا اور اگر اسے برائی پہنچ جاتی ہے تو بہت ہی مایوس، آساور امید توڑ بیٹھنے والا ہو جاتا ہےo‘‘
(1) حم السجدہ، 41 : 49
1.
وَإِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ فَذُو دُعَاءٍعَرِيضٍo
’’اور جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو لمبی چوڑی دعا کرنیوالا ہوجاتا ہےo‘‘
(2) حم السجدۃ، 41 : 51
1.
فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانتَصِرْo
’’سو انہوں نے اپنے ربسے دعا کی کہ میں (اپنی قوم کے مظالم سے) عاجز ہوں پس تو انتقام لےo‘‘
(3) القمر، 54 : 10

مذکورہ بالا تمام آیات میں دعا کا معنی یہ ہے کہ اللہ رب العزت کو حقیقی معین و مغیث جان کر اُسی سے ہی دُعا کی جائے بلاشک و ریب وہی مجیب الدعوات ہے۔

3۔ دُعا بمعنی عبادت

محاورہِ قرآنی میں یہ بات بڑی عام اور متداول ہے کہ جہاں عبادت کا معنی مراد ہو وہاں قرآن یدعون کا استعمال کرتا ہے اور عموماً جہاں’’دعا‘‘ من دون اﷲ یا مع اﷲ کے ساتھ استعمال ہو، وہاں عبادت مراد ہوتی ہے۔ قرآن حکیم.میں اس معنی کے حوالےسے کثیر آیات وارد ہوئی ہیں جن میں سےچند ایک مندرجہ ذیل ہیں :
1.
وَلاَ تَطْرُدِ الَّذِينَيَدْعُونَ رَبَّهُم بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ
’’اور آپ ان (شکستہ دل اور خستہ حال) لوگوں کو (اپنی صحبت و قربت سے) دور نہ کیجئے جو صبح و شاماپنے رب کو صرف اس کی رضا چاہتے ہوئے پکارتے رہتے ہیں۔‘‘
(1) الانعام، 6 : 52
1.
قُلْ إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَعْبُدَ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللّهِ
’’فرما دیجئے کہ مجھے اس بات سے روک دیا گیا ہے کہ میںان (جھوٹے معبودوں) کی عبادت کروں جن کی تم اللہ کے سوا پرستش کرتے ہو۔‘‘
(2) الانعام، 6 : 56
1.
قُلْ أَنَدْعُواْ مِن دُونِ اللّهِ مَا لاَ يَنفَعُنَا وَلاَ يَضُرُّنَا
’’فرما دیجئے : کیا ہم اللہ کے سوا ایسی چیز کی عبادت کریں جو ہمیں نہ (تو) نفع پہنچا سکے اور نہ (ہی) ہمیں نقصان دے سکے۔‘‘
(3) الانعام، 6 : 71
1.
إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَمِن دُونِ اللّهِ عِبَادٌأَمْثَالُكُمْ
’’بے شک جن (بتوں) کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو وہ بھی تمہاری ہی طرح(اللہ کے) مملوک ہیں۔‘‘
(4) الاعراف، 7 : 194
1.
فَمَا أَغْنَتْ عَنْهُمْ آلِهَتُهُمُ الَّتِي يَدْعُونَ مِن دُونِ اللّهِ مِن شَيْءٍ
’’سو ان کے وہ جھوٹے معبود جنہیں وہاللہ کے سوا پوجتے تھے ان کے کچھ کام نہ آئے۔‘‘
(5) ھود، 11 : 101
1.
رَبَّنَا هَـؤُلاَءِ شُرَكَآؤُنَا الَّذِينَ كُنَّا نَدْعُوْاْ مِن دُونِكَ
’’اے ہمارے رب! یہی ہمارے شریک تھے جن کی ہم تجھے چھوڑ کر پرستش کرتے تھے۔‘‘
(1) النحل، 16 : 86
1.
لَن نَّدْعُوَاْ مِن دُونِهِ إِلَهًا لَّقَدْ قُلْنَا إِذًا شَطَطًاo
’’ہم اس کے سوا ہرگز کسی (جھوٹے) معبود کی پرستش نہیں کریں گے (اگر ایسا کریں تو) اس وقت ہم ضرور حق سے ہٹی ہوئی بات کریں گےo‘‘
(2) الکہف، 18 : 14
1.
يَدْعُواْ مِن دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَضُرُّهُ وَمَا لَا يَنفَعُهُ ذَلِكَ هُوَ الضَّلَالُ الْبَعِيدُo يَدْعُواْ لَمَن ضَرُّهُ أَقْرَبُ مِن نَّفْعِهِ لَبِئْسَ الْمَوْلَى وَلَبِئْسَ الْعَشِيرُo
’’وہ (شخص) اﷲ کو چھوڑ کر اس (بت) کی عبادت کرتا ہے جو نہ اسے نقصان پہنچا سکے اور نہ ہی اسے نفع پہنچا سکے، یہی تو (بہت) دور کی گمراہی ہےo وہ اسے پوجتا ہے جس کا نقصان اس کے نفع سےزیادہ قریب ہے، وہ کیا ہی برا مدد گار ہے اور کیا ہی برا ساتھی ہےo‘‘
(3) الحج، 22 : 12۔ 13

1.
إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُون.َمِن دُونِ اللَّهِ لَن يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِاجْتَمَعُوا لَهُ
’’بیشک جن (بتوں) کو تم اللہ کے سوا پوجتےہو وہ ہرگز ایک مکھی (بھی) پیدانہیں کرسکتے اگرچہ وہ سب اس (کام) کیلئے جمع ہوجائیں۔‘‘
(4) الحج، 22 : 73
1.
وَمَن يَدْعُ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ لَابُرْهَانَ لَهُ بِهِ
’’اور جو شخص اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کی پرستش کرتا ہے اس کے پاس اس کی کوئی سند نہیں ہے۔‘‘
(1) المؤمنون : 23 : 117
1.
وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ
’’اور (یہ) وہ لوگ ہیں جو اللہ کے ساتھ کسیدوسرے معبود کی پوجا نہیں کرتے اور نہ (ہی) کسی ایسی جان کو قتلکرتے ہیں جسے بغیر حق مارنا اللہ نے حرام فرمایا ہے اور نہ (ہی) بدکاری کرتے ہیں۔‘‘
(2) الفرقان، 25 : 68
1.
ثُمَّ قِيلَ لَهُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ تُشْرِكُونَo مِن دُونِاللَّهِ قَالُوا ضَلُّوا عَنَّا بَل لَّمْ نَكُن نَّدْعُواْ مِن قَبْلُ شَيْئًا
’’پھر ان سے کہا جائے گا : کہاں ہیں وہ (بت) جنہیں تم شریک ٹھہراتے تھے۔ اللہ کے سوا، وہ کہیں گے : وہ ہم سے گم ہوگئے بلکہہم تو پہلے کسی چیز کی پرستش نہیں کرتے تھے۔‘‘
(3) المؤمن، 40 : 73۔ 74
1.
وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَدْعُونَ مِن قَبْلُ
’’اور وہ سب (بت) اُن سے غائب ہو جائیں گے جن کی وہ پہلے پوجا کرتے تھے۔‘‘
(4) حم السجدہ، 41 : 48
1.
وَلَا يَمْلِكُ الَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِهِ الشَّفَاعَةَ
’’اور جن کی یہ (کافر لوگ) اللہ کے سوا پرستش کرتے ہیں وہ (تو) شفاعت کا (کوئی) اختیار نہیں رکھتے۔‘‘
(1) الزخرف، 43 : 86

دُعا بمعنی عبادت : جمہور مفسرین کی صراحت

مندرجہ بالا تمام آیاتِ مبارکہ کے ایسے مقامات میں جہاں دُعا کا معنی عبادت ہے وہاں اس سے مراد بتوں کی.عبادت لی گئی ہے۔ عبادت کے معنی میں دعا سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی اور کے لئے جائز نہیں جیسا کہ کفار و مشرکین بتوں کی عبادت کرتے تھے لیکن اس مفہوم کو انبیاء اور اولیاء عظام کو توسلاً پکارنے پرمنطبق کرنا صریحاً منشاءقرآن کی خلاف ورزی ہے۔ ایسے مقامات پرجمہور مفسرینِ کرام نے بھی دعا یدعو سے عبادت مراد لیا ہے محض.پکارنا نہیں، چند ایک حوالہ جات ملاحظہ کیجئے۔

1۔ تفسیر ابنِ عباس

رئیس المفسرین سیدنا عبد اﷲ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی تفسیر ’’تنویر المقباس منتفسیر ابن عباس‘‘ میں آیاتِ قرآنی میں دعا یدعو سے مشتق الفاظ جب مِنْ دُوْنِ اﷲِکے ساتھ ہوں تو ان کے معانی ’’عبادت و پرستش‘‘ اور مِنْ دُوْنِ اﷲِ سے مراد ’’کفار و مشرکین کے بت اور طواغیت‘‘ ہیں۔

1۔ سورۃ الانعام، 6 : 56

(اَنْ اَعْبُدَ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ) تعبدون (مِنْ دُوْنِ اﷲِ) من الأوثان.
یہاں تَدْعُوْنَ کا معنی تَعْبُدُوْنَ ہے

(یعنی جن کی تم عبادت کرتے ہو) اور مِنْ دُوْنِ اﷲِ کا معنی مِنَ الأوْثَانِ (بت) ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہعنہما نے تَدْعُوْنَ سے محض پکارنا مراد نہیںلیا بلکہ ان کے نزدیک.اس کا معنی عبادت کرناہے جبکہ مِنْ دُوْنِ اﷲِ کامعنی بت ہیں۔(1)
(1۔4) تنویر المقباس من تفسیر ابن عباس

2۔ سورة الانعام، 6 : 71

(اَنَدْعُوْ) تأمروننا ان تعبد (مِنْ دُوْنِ اﷲِ مَا لَا يَنْفَعُنَا) ان عبدناه فی الدنيا و الآخرة (وَلَا يَضُرُّنَا) إن لم نعبده فی الدنيا والآخرة.

أنَدْعُوْا

کا معنی ہے کہ تم ہمیں یہ کہتے ہو کہہم اﷲ کے سوا ایسی چیز کی عبادت کریں جوہمیں دنیا اور آخرت میں کوئی نفع نہیں پہنچا سکتے خواہ ہم عبادت کریں اور نہ ہی ہمیں کوئی نقصان پہنچا سکتے ہیں خواہ ہم ان کی عبادت نہ بھی کریں۔
(1۔4) تنویر المقباس من تفسیر ابن عباس

3۔ سورة الانعام، 6 : 108

(وَلَا تَسُبُّوا الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ) يعبدون.
وَلَا تَسُبُّوا الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ
کا معنی ہے اور (اے مسلمانو!) تم ان جھوٹے معبودوں کو گالی مت دو جنہیں یہ (مشرک لوگ) اللہ کے سوا پوجتے ہیں۔
(1۔4) تنویر المقباس من تفسیر ابن عباس

یہاں بھی يَدْعُوْنَ کا معنی محض پکارنا نہیں بلکہ يَعْبُدُوْنَ عبادت اور پرستش کرنا، ہے۔

4۔ سورة الأعراف،7 : 194

(إِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ) تعبدون (مِنْ دُوْنِ اﷲِ) من الأصنام.

اس آیت کریمہ میں بھی تَدْعُوْن َ کا معنی تَعْبُدُوْنَ عبادت کرنا اور مِنْ دُوْنِ اﷲِ کے معنی مِنَ الْأصْنَامِ یعنی.بت ہیں۔
(1۔4) تنویر المقباس من تفسیر ابن عباس

5۔ سورة الاعراف، 7 : 197

(وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ) تعبدون (مِنْ دُوْنِهِ) مِنْ دُوْنِ اﷲِ مِنَ الأوثان.

اور جن (بتوں) کو تم اس کے سوا پوجتے ہو۔
(1۔4) تنویر المقباس من تفسیر ابن عباس

یہاں بھی تَدْعُوْنَ کا معنی تَعْبُدُوْنَ ہے (جن کی تم عبادت کرتے ہو) اور من دونہ سے مراد أوثان (بت) ہیں۔

6۔ سورة یونس، 10 : 106

(وَلَا تَدْعُ) لَا تَعْبُدْ.
(1۔4) تنویر المقباس من تفسیر ابن عباس

وَلَا تَدْعُ سے مراد لا تعبد (عبادت نہ کرو) ہے۔

7۔ سورة ھود، 11 : 101

(يَدْعُوْنَ) يعبدون.
(1۔4) تنویر المقباس من تفسیر ابن عباس

يَدْعُونَ کا معنی يَعْبُدُوْنَ (وہ پوجتے تھے) ہے۔

8۔ سورة النحل، 16 : 86
(کُنَّا نَدْعُوْا) نعبد. کُنَّا نَدْعُوْا کا معنی کُنَّا نَعْبُدُ (جس کی.ہم عبادت کرتے تھے) ہے۔

9۔ سورة الکہف، 18 : 14
(لَنْ نَّدْعُوَاْ مِنْ دُوْنِهِ) لن نعبد من دون اﷲ. لَنْ نَّدْعُوَاْ مِنْ دُوْنِهِ کا معنی لَنْ نَعْبُدَ مِنْ دُوْنِ اﷲ (ہم اﷲ کے سوا ہرگز کسی (جھوٹے) معبود کی عبادت نہیں کریں گے) ہے۔
(1۔4) تنویر المقباس من تفسیر ابن عباس

10۔ سورة الحج، 22 : 12

(يَدْعُوْا) يعبد. یدعوا کا معنی یعبد (عبادت کرنا ہے) ہے۔

(1۔4) تنویر المقباس من تفسیر ابن عباس
11۔ سورة الحج، 22 : 73
(اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ) تعبدون (مِنْ دُوْنِ اﷲِ) من الأوثان.
’’بیشک جن (بتوں) کو تم اللہ کے سوا پوجتےہو۔‘‘
(1۔4) تنویر المقباس من تفسیر ابن عباس

اس آیت کریمہ میں بھی تدعون کا معنی تعبدون (تم عبادت کرتے ہو)ہے اور من دوناﷲ کا معنی من الأوثان (بت) ہے۔

12۔ سورة المؤمنون، 23: 117

 (وَمَنْ يَدْعُ) يعبد (مَعَ اﷲِ اِلٰهًا اٰخَرَ) من الأوثان.

اور جو شخص اللہ کے سوا بتوں کی عبادت کرتا ہے۔
(1۔4) تنویر المقباس من تفسیر

ابن عباس اس آیت میں بھی سیدنا ابن عباس رضی اللہعنہما سے مروی تفسیر کے مطابق يَدْعُ کا معنی يَعْبُدُ اور اِلٰهًاآخر کا معنی اوثانہے۔

13۔ سورة الفرقان، 25 : 68

(وَالَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اﷲِ) لا يعبدون مع اﷲ (اِلٰهًا اٰخَرَ) من الأصنام. لا يَدْعُوْنَ مَعَ اﷲ ِ کامعنی لَا يَعْبُدُوْنَ مَعَاﷲِ (وہ لوگ اﷲ کے ساتھ عبادت نہیں کرتے) اِلٰهًا اٰخَرَ کا معنی من الأصنام (بتوں میں سے) ہے۔

(1۔4) تنویر المقباس من تفسیر ابن عباس

14۔ سورة المؤمن، 40 : 74

(بَلْ لَّمْ نَکُنْ نَّدْعُوْا) نعبد. نَّدْعُوْا کا معنی نَعْبُدُ (ہم عبادت نہیں کرتے تھے) ہے۔

(1۔3) تنویر المقباس من تفسیر ابن عباس

15۔ سورة الزخرف، 43 :86

(وَلَا يَمْلِکُ الَّذِيْنَيَدْعُوْنَ) يعبدون (مِنْ دُوْنِهِ الشَّفَاعَةَ).
’’اور جن کی یہ (کافر لوگ) اللہ کے سوا پرستش کرتے ہیں وہ (تو) شفاعت کا(کوئی) اختیار نہیں رکھتے۔ ‘‘

(1۔3) تنویر المقباس من تفسیر ابن عباس

یہاں بھی یدعون کا معنی یعبدون ہے۔

16۔ سورة الجن، 72 : 18

(فَـلَا تَدْعُوْا) فلا تعبدوا. فلا تدعوا کا معنی فلا تعبدوا (پرستش مت کیا کرو) ہے۔

(1۔3) تنویر المقباس من تفسیر ابن عباس

2۔ تفسیر بغوی

امام بغوی کے نزدیک بھی جب مِنْ دُوْنِ اﷲِ کے ساتھ دَعَا يَدْعُوْ کا استعمال ہو تو عبادت کا معنی دیتا ہے۔ سورہ النحل کی آیت 86 کے تحت وہ رقمطراز ہیں :

(کُنَّا نَدْعُوْا مِنْ دُوْنِکَ) أربابًا و نَعبدهم.
کُنَّا نَدْعُوْا مِنْ دُوْنِکَ
کا معنی ہے وہ جھوٹے معبود جن کی ہم تجھے چھوڑ کر عبادت کرتے تھے۔

(4) بغوی، معالم التنزیل،3 : 81

3۔ تفسیر نسفی

معروف مفسر امام نسفی کے نزدیک بھی جب_تدعون کے الفاظ مِنْ دُوْنِ اﷲِ کے ساتھ آئیں تو اس سے مراد عبادت ہوتی ہے۔ سورۃ الاعراف کی آیت نمبر 194 کے تحت وہ لکھتے ہیں :

(اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اﷲِ) أی تعبدونهم و تسمونهم آلهة.
(1) نسفی، مدارک التنزیل، 2 : 168

اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَمِنْ دُوْنِ اﷲِ
کا معنی ہے (بے شکجن بتوں کی) تم عبادت کرتے ہو اور انہیں معبود سمجھتے ہو۔

4۔ تفسیر ابنِ کثیر

امام ابنِ کثیر نے بھی مِنْ دُوْنِ اﷲِ کے ساتھ یدعون اور تدعون کا معنی عبادت کیا ہے۔

1۔ سورة ھود، 11 : 101

(فَمَآ اَغْنَتْ عَنْهُمْ اٰلِهَتُهُمْ) أوثانهم (الَّتِيْ) يعبدونها و يدعونها (مِنْ دُوْنِ اﷲِ مِنْ شَئٍْ) ما نفعوهم ولا انقذهم لما جاء أمر اﷲ بإهلاکهم.
فَمَا أَغْنَتْ عَنْهُمْ اٰلِهَتُهُمْ
سے مراد اوثانھم (ان کے بت) ہے جن کی وہ عبادت کرتے اور پکارتے (مِنْ دُوْنِ اﷲِ مِنْ شَئٍْ) کا معنی ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے سوا انہوں نے کبھی بھی انہیں نفع پہنچایا اور نہ وہ انہیں اس وقت بچا سکے جب اﷲ تعالیٰ نے ان کی ہلاکت کا فیصلہ فرمایا۔

(2) ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، 2 : 460

2۔ سورة الحج، 22 : 73
(اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اﷲِلَنْ يَخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّلَوِ اجْتَمَعُوْا لَهُ)أی لو اجتمع جميع ما تعبدون من الأصنام و الانداد علی ان يقدروا علی خلق ذباب واحد.
اس آیت کا معنی ہے یعنی اگر وہ سب بت اور جھوٹے معبود بھی جمع ہو جائیں جنکی تم عبادت کرتے ہو تب بھی وہ اس بات پر قدرت نہیں رکھتے کہ ایک مچھر کی بھی تخلیق کر سکیں۔

(1) ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، 3 : 235

3۔ سورة المؤمن، 40 : 74

(لَمْ نَکُنْ نَّدْعُوْا مِنْ قَبْلُ شَيْئًا) أی جحدوا عبادتهم.
اس میں آیت کا معنی ہےکہ انہوں نے ان کی عبادت بجا لانے کا انکار کیا تو پتہ چلا کہ ہر جگہ’’ دَعَا يَدْعُوْ ‘‘کا معنی محض پکارنا نہیں بلکہ جب وہ مِنْ دُوْنِ اﷲِ کے ضمن میں ہوتو قرآنی اصول کے مطابق وہاں اس سے مراد عبادت ہوتی ہے اوریہی شرک ہے۔

(2) ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، 4 : 88

5۔ تفسیر الجلالین

عالم اسلام کے دینی تدریسی حلقوں میں متداولمعروف تفسیر جلالین میںبھی قرآنی اصول کے مطابق مِنْ دُوْنِ اﷲِ کے ساتھ یدعون اور تدعون کا معنی عبادت ہے۔

1۔ سورة الانعام، 6 : 56

(اَنْ اَعْبُدَ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ) تعبدون.
اس آیت کریمہ میں تَدْعُوْنَ کا معنی تَعْبُدُوْنَ (تم عبادت کرتے ہو) ہے۔

(1۔5) تفسیر الجلالین

2۔ سورة الاعراف، 7 : 194

(اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ) تعبدون.
’’بے شک جن بتوں کی تم عبادت کرتے ہو۔‘‘

(1۔5) تفسیر الجلالین تَدْعُوْنَ سے مراد تَعْبُدُوْنَ (تم عبادت کرتے ہو) ہے۔

3۔ سورة یونس 10 : 106

(وَلَا تَدْعُ) تَعْبد. وَلَا تَدْعُ کا معنی وَلَا تَعْبُدْ (اور تم عبادت نہ کرو) ہے۔

(1۔5) تفسیر الجلالین

4۔ سورة ھود، 11 : 101

(يَدْعُوْنَ) أی يَعبدون. يَدْعُوْن َ کا معنی يَعْبُدُوْنَ (عبادت کرتےتھے) ہے۔

(1۔5) تفسیر الجلالین

5۔ سورة الحج، 22 : 12

(يَدْعُوْا) يعبد (مِنْ دُوْنِ اﷲِ) من الصنم (مَا لَا يَضُرُّهُ) إن لم يعبده (وَمَا لَا يَنْفَعُهُ) إن عبده. يَدْعُوْا کا معنی يَعْبُدُ (عبادت کرتا ہے) ہے مِنْ دُوْنِ اﷲِ کا معنی من الصنم (بت) ہے
مَا لَا يَضُرُّهُ
کا معنی ہے جو اسے نقصان نہیں پہنچا سکتے اگرچہ عبادت نہبھی کریں اور وَمَا لَايَنْفَعُهُ کا معنی (جو اسے نفع نہیں پہنچا سکتے اگرچہ اس کی عبادت بھی کریں) ہے۔

(1۔5) تفسیر الجلالین

6۔ سورة الحج، 22 : 73

(اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اﷲِ) أی غيره و هم الأصنام. تَدْعُوْنَ يعنی تَعْبُدُوْنَ (عبادت کرتے ہیں) مِنْ دُوْنِ اﷲِ سے، اﷲ کے ما سوا بت مراد ہیں۔

(1۔3) تفسیر الجلالین

7۔ سورة المؤمن، 40 : 74

(مِنْ دُوْنِ اﷲِ) معه و هی الأصنام مِنْ دُوْنِ اﷲِ سے مراد اصنام (بت) ہیں۔
(بَلْ لَّمْ نَکُنْ نَّدْعُوْا مِنْ قَبْلُ شَيْئًا) أنکروا عبادتهم إياها.
اس آیتِ کریمہ میں کفار ومشرکین نے بتوں کی عبادت بجا لانے کا انکار کیا ہے محض پکارنے کا نہیں۔

(1۔3) تفسیر الجلالین


8۔ سورة الزخرف، 43 : 86

(وَلَا يَمْلِکُ الَّذِيْنَيَدْعُوْنَ) يعبدون أی الکفار.

اس آیت میں بھی يَدْعُوْن َ کا معنی يَعْبُدُوْنَ (کفار کا بتوں کی عبادت کرنا) ہے۔

(1۔3) تفسیر الجلالین

9۔ سورة الجن، 72 : 18

(وَ اَنَّ الْمَسَاجِدَ) مواضع الصلاة (لِلّٰهِ فَـلَا تَدْعُوْا) فيها (مَعَ اﷲِ اَحَدًا) بأن تشرکوا کما کانت اليهود و النصاری اذا دخلوا کنائسهم و بيعهمأشرکوا.

اس آیت کریمہ کا معنی یہ ہے کہ مساجد اﷲ کے لئے نماز کی جگہ ہیں بس اس میں اس کے ساتھ کسی کی عبادت نہ کرو، کہ تم اس طرح شرک کرو جس طرح یہود و نصاریٰ جب اپنی عبادت گاہوں میں جاتے تھے اور شرک کرتے تھے۔

(1) تفسیر الجلالین

6۔ تفسیر فتح القدیر

علامہ شوکانی نے بھی اپنی تفسیر’’فتح القدیر‘‘ میں دَعَا يَدْعُوْ جب مِنْ دُوْنِ اﷲِ کے ساتھ ہو تو اس کا معنی عبادت کیا ہے۔

1۔ سورة الانعام، 6 : 56

(قُلْ اِنِّيْ نُهِيْتُ) أمره اﷲ سبحانه أن يعود إلی مخاطبة الکفار ويخبرهم بأنه نهی عن عبادة ما يدعونه و يعبدونه من دون اﷲ.
قُلْ اِنِّيْ نُهِيْتُ
میں اﷲ سبحانہ و تعالیٰنے حکم دیا کہ کفار کی باتوں کا جواب دیاجائے اور انہیں آگاہ کیا جائے کہ اﷲ تعالیٰ نے ان بتوں کو بطور عبادت پکارنے سے منع فرمایا ہے جن کی یہ کفار اﷲ تعالیٰ کے سوا عبادت کرتے ہیں۔

(2) شوکانی، فتح القدیر، 2 : 122

2۔ سورة الانعام، 6 : 71

(قُلْ اَنَدْعُوْا مِنْ دُوْن اﷲِ) أی کيف ندعوا من دون اﷲ أصناما لا تنفعنا بوجه من وجوه النفع إن أردنا منها نفعا و لا نخشی ضرها بوجه من الوجوه، ومن کان هکذا فلا يستحق العبادة.
قُلْ اَنَدْعُوْ مِنْ دُوْنِ اﷲِ
سے مراد ہے : ہم کس طرح اﷲ تعالیٰ کے سوا ان بتوں کی عبادت_کریں جو ہمیں کسی طرح بھی کوئی نفعنہیں پہنچا سکتے خواہ ہم ان سے کسی نفع کی توقع رکھیں اور نہ ہمیں ان سے کسی قسم کے نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔پس جن کی اتنی سی حیثیت ہو وہ ہرگز عبادت کے لائق نہیں ہوسکتے۔

(1) شوکانی، فتح القدیر، 2 : 130

3۔ سورة ھود، 11 : 101

(فَمَا اَغْنَتْ عَنْهُمْ اٰلِهَتُهُم) أی فما دفعت عنهم أصنامهم التیيعبدونها من دون اﷲ شيئا من العذاب.
(فَمَا اَغْنَتْ عَنْهُمْ اٰلِهَتُهُمْ)
سے مراد ہے جن بتوں کی وہ اﷲ سبحانہ و تعالیٰ کے سوا عبادت کرتے تھے وہ ان کفار سے اﷲ تعالیٰ کا عذاب نہ ٹال سکے۔

(2) شوکانی، فتح القدیر، 2 : 524

4۔ سورة النحل، 16 : 86

(الَّذِيْنَ کُنَّا نَدْعُوْا مِنْ دُوْنِکَ) أی الذين کنا نعبدهم من دونک.
(اَلَّذِيْنَ کُنَّا نَدْعُوْا مِنْ دُوْنک)
سے مراد ہے : یہی ہمارے شریک تھے ہم تجھے چھوڑ کر جن کی عبادت کرتے تھے۔

(3) شوکانی، فتح القدیر، 3 : 187

5۔ سورة الحج، 22 : 12

(يَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اﷲِ) أی يعبد متجاوزا عبادة اﷲ الی عبادة الاصنام (مَا لَا يَضُرُّهُ) إن ترک عبادته، (وَلَا يَنْفَعُهُ)إن عبده لکون ذلک المعبود جمادا لا يقدر علی ضرر ولا نفع.
يَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اﷲِ
سے مراد ہے یعنی وہ اﷲ تعالیٰ کی عبادت کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کے سوا ان بتوں کی عبادت کرتا ہے جو اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا اگرچہ وہ اس کی_عبادت ترک بھی کرے اور نہ وہ بت اسے کوئی نفع پہنچاسکتا ہے خواہ وہ اس کی عبادت بھی کرے اس لئے کہ وہ جس بت کی عبادت کرتا ہے وہ تو ایک بے جان چیز ہے جو نفع و نقصان پہنچانے پر قادر ہی نہیں۔

6۔ سورة الحج، 22 : 73

(اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ) والمراد بما يدعونه من دون اﷲ : الاصنام التی کانت حول الکعبة و غيرها.
و قيل المراد بهم السعادة الذين صرفوهم عن طاعة اﷲ لکونهم أهلالحل والعقد فيهم.
و قيل الشياطين الذين حملوهم علی معصية اﷲ، والأول أوفق بالمقام و أظهر فی التمثيل.
’’اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ
سے مراد ایک تو وہ بت ہیں جو کعبۃ اﷲ کے ارد گرد تھے یا اس کے علاوہ دیگر بت جن کی مشرکین اﷲ کے سوا عبادت کرتے تھے۔

(1) شوکانی، فتح القدیر، 3 : 429

دوسرا یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان سے وہ سردار اور وڈیرے مراد ہیںجنہوں نے لوگوں کو اﷲ کی اطاعت سے روکا کیونکہ وہی ان کے ارباب بست و کشاد تھے۔
اور یہ بھی کہا گیاہے کہ ان سے مراد وہشیاطین ہیں جنہوں نے ان کو اﷲ کی معصیت پر ابھارا۔ مذکورہ معانی میں سے پہلا معنی مقام و محل اور تمثیل کے اعتبار سے زیادہ موافق ہے۔‘‘

7۔ سورة المؤمنون، 23 : 117

(وَمَنْ يَدْعُ مَعَ اﷲِ اِلٰهًا اٰخَرَ) يعبده مع اﷲ أو يعبده وحده.
وَمَنْ يَدْعُ مَعَ اﷲِ اِلٰهًا اٰخَرَ
سے مراد وہ شخص ہے جو اللہ کے ساتھ کسی.اور بت کی عبادت کرتا ہے یا اکیلے صرف بت کی عبادت کرتا ہے۔

(1) شوکانی، فتح القدیر، 3 : 501

8۔ سورة المؤمن، 40 : 74

(بَلْ لَّمْ نَکُنْ نَدْعُوْا مِنْ قَبْلُ شَيْئًا) أی لم نکن نعبد شيئا.
بَلْ لَّمْ نَکُنْ نَدْعُوا مِنْ قَبْلُ شَيْئًا
سے مراد ہے : ہم تو پہلے کسی بھی چیزکی عبادت نہیں کرتےتھے۔

(2) شوکانی، فتح القدیر، 4 : 502

9۔ سورة الزخرف، 43 : 86

(وَلَا يَمْلِکُ الَّذِيْنَيَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الشَّفَاعَةَ) أی لا يملکمن يدعونه من دون اﷲ من الأصنام.
وَلَا يَمْلِکُ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الشَّفَاعَةَ
سے مراد ہے : یہ کفار اللہ کے سوا جن بتوں کی عبادت کرتے ہیں۔ وہ (تو شفاعت کا) اختیار نہیںرکھتے۔

(3) شوکانی، فتح القدیر، 4 : 567

7۔ تفسیر روح المعانی

امام محمود آلوسی بھی اپنی تفسیر ’’روح المعانی‘‘ میں مِنْ دُوْنِ اﷲِ کے ساتھ دَعَا يَدْعُوْ کا معنی عبادت کرتے ہیں۔

1۔ سورة الانعام،6 : 56

(تَدْعُوْنَ) أی تعبدونهم. تَدْعُوْنَ کا معنی تَعْبُدُوْنَهُمْ ( تم ان بتوں کی عبادت کرتے ہو) ہے۔

(1) آلوسی، روح المعانی،7 : 168

2۔ سورة الاعراف،7 : 194

(اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ) … أی ان الذينتعبدونهم (مِنْ دُوْنِ اﷲِ).
اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْن
َ کا معنی ہے یعنی بےشک جن بتوں کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو۔

(2) آلوسی، روح المعانی،9 : 143

3۔ سورة الجن،72 : 18

(فَـلَا تَدْعُوْا) اَيْ فَـلَا تعبدوا فيها.
فَـلَا تَدْعُوْا
یعنی مسجدوں میں اللہ کے ساتھ کسی اور کی عبادت مت کیا کرو۔

(3) آلوسی، روح المعانی،29 : 104

8۔ الفوز الکبیر

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ برصغیر پاک و ہند کے ان علماء ربانیین میں سے ہیںجو غیر متنازع شخصیت کے مالک ہیں۔وہ ہر مسلک کے مسلمانوں کے ہاں قدر کی نگاہوں سے دیکھے جاتے ہیں۔ علوم القرآن پر ان کی اتنی گرفت ہے کہ ان کی تصنیف لطیف’’الفوز الکبیر‘‘ سند کا درجہ رکھتی ہے۔ اسی کتاب میں انہوں نے قرآنی اصول کا تعین کرتے ہوئے بطورنمونہ چند ایک آیات کے معانی بھی بیان کئے ہیں چنانچہ

سورۃ الانعام، 6 : 56 کے تحت وہ لکھتے ہیں :

(تَدْعُوْنَ مِن دُوْنِ اﷲِ) تَعْبُدُوْنَ.
تَدْعُوْنَ مِن دُوْنِ اﷲِ کا معنی ہے : جن کی تم اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کرتے ہو۔ یہاں انہوں نے بعض لوگوں کی طرف سے پیدا کردہ اس مغالطے کا رد کر دیا جو آیات کی غلط تفسیر و تاویل کرکے محض کسی کو پکارنے پر شرک کا فتوی لگادیتے ہیں۔ وہ اپنے استدلال کی بنیاد یہ بیان کرتے ہیں کہ قرآن میں ’’تدعون‘‘ آیا ہے تعبدون نہیں۔

(1) شاہ ولی اﷲ، الفوز الکبیر : 130

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک بھی قرآن کے ایسے مقامات پر تَدْعُوْنَ / يَدْعُوْنَ کا معنی تَعْبُدُوْنَ اور يَعْبُدُوْن یعنی عبادت و پرستش ہے۔
قرآن حکیم میں وارد شدہالفاظ کے صحیح اور درست معنی کا تعین وہشخص کر سکتا ہے جس نے قرآن مجید کا عمیق اور گہرا مطالعہ کیا ہو اور جسے علوم القرآن پر دسترس حاصل ہو۔ پس وہ اکابر ائمہ و مفسرین جو علماء ربانیین میں سے ہیں اور علومِ قرآن میں جن کی تحقیق و مہارت میں کسی کو شک و شبہ نہیں انہوں نے جو معانی.و مفاہیم متعین کئے اسپر کسی سطحی علم رکھنے والے شخص کی رائے کا کوئی وزن نہیں۔
آیات کی غلط تفسیر و تاویل کے ذریعے ممانعت.کا اطلاق استغاثہ اور توسُّل جیسے جائز شرعی امور پر نہیںکیا جا سکتا۔ کفار و مشرکین بزعمِ خویش اللہ جل مجدہ کے خلاف.اپنے جھوٹے معبودوں اور بتوں کو پکارتے تھے لہٰذا اگر کوئی عقیدتاً (معاذ اﷲ) اللہ کے مقابلے میں کسی کو پکارے تو یہ شرک اور کفر ہے۔

امام سیوطی (سورہِ یونس، 10 : 38) کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

( وَ ادْعُوْا) لِلْإعانة عليه.

’’تم اللہ کے مقابلے میں اپنے جھوٹے معبودوں کو پکارو۔‘‘

(1) تفسیر الجلالین

جب ہم انبیاء اور اولیاء سے استعانت و استغاثہ کی بات کرتے ہیں تو کبھی بھی انہیں اﷲ کے مقابلے میںنہیں لاتے۔ بعض لوگ جن آیات کا حوالہ دے کر شرک کا الزام لگاتے ہیں ان کا سیاق و سباق دیکھنے سے اس بات کا صاف پتاچلتا ہے کہ یہ آیات کفار و مشرکین کیلئے نازل ہوئی ہیں اور ان کاانبیاء علیہم السلام کے ساتھ کوئی تعلق ہی نہیں۔ لہٰذا ان کا اطلاق مسلمانوں پر کرنا صریحاً گناہ ہے۔ اجل مفسّرین کے نزدیک روئے زمین پر بد ترین مخلوق وہ ہیں جو کفار اور مشرکین کے حق میں اتری ہوئی آیات کا مسلمانوں اور مومنین پر اطلاق کرتے ہیں۔
اِستعانت و استغاثہ کی صورت میں نبی یا ولی کے توسُّل سے جو دعا مانگی جاتی ہے وہ شرعاً بالکل جائز ہے منافی توحید نہیں کیونکہ اس میں اﷲ جل مجدہ کے اس برگزیدہ بندے سے دعا کی درخواست کی جاتی ہے۔ اس موضوع پر آئندہ ابواب توسُّل اور استعانت کے ذیل میں مزید تفصیلات آرہی ہیں۔
شرک فی الدُّعاء
توحید فی الدعاء کے باب میں شرک اس وقت ہوتا ہے جب وہ دُعا بمعنی عبادت ہو جیسا کہ کفار و مشرکین کےمتعلق قرآن حکیم میں بصراحت ذکر ہوا۔ اللہ تعالیٰ کے سوا ہر غیر سے عبادت کی نفی کے لئے قرآن مجید میں لفظ مِنْ دُوْنِ اﷲِ استعمال ہوا ہے ۔ مِنْ دُوْنِ اﷲِ کے استعمال میں حکمت یہ ہے کہ عبادتِ الٰہی کا مقام اتنا اونچا اور ارفع ہے کہ یہاللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کیلئے ثابت.نہیں اس لئے کہ معبودانِ باطلہ ’’ادنیٰ ، گھٹیا، کم تر اور حقیر‘‘ ہیں۔ مِنْ دُوْنِ اﷲِ کے غیر موزوں اور غلط اطلاقات کی طرح بعض.لوگ لفظ دعا کا بھی.غلط اطلاق کرتے ہیں اور قرآن میں وارد شدہ ’’دعا‘‘کا معنی ہر جگہ ’’ندا‘‘ اور ’’پکار‘‘ کرتے ہیں کہ غیر اللہ تعالیٰ کو پکارنا شرک ہے حالانکہ مِنْ دُوْنِ اﷲِ کی طرح دَعَا يَدْعُو کا دائرہِاطلاق اور مراد بھی ہرجگہ سیاق و سباق کےپیشِ نظر متعین کرنا ضروری ہے۔
لہٰذا اگر کوئی بندہِ مؤمن اللہ تعالیٰ کو مستعان و مجیب حقیقی مان کر انبیاء علیہم السلام سے استغاثہکرے، کسی سے مدد طلب کرے، کسی روحانی شفاخانے سے علاج کروائے یا دم دروداور دعا کیلئے کسی نیک صالح بندے کے پاس جائے تو یہ ہرگز شرک نہیں ہاں اگر وہ شخص یہ عقیدہرکھے کہ مخلوق بھی اللہ رب العزت کے اذن کے بغیر مستقل، بنفسہ نفع و ضرر کی مالک ہے تو یہ عقیدہ یقینا شرک ہے۔
ایسی تمام آیاتِ مبارکہ کا سیاق و سباق کے حوالے سے جائزہ لینےکے بعد یہ حقیقت منکشف ہو جاتی ہے کہ مِنْ دُوْنِ اﷲِ سے مراد اللہ تعالیٰ کے دشمن (اصنام، بت اور طواغیتوغیرہ) ہیں جن کو مشرکینِ عرب اپنا حاجت روا اور نجات دہندہ سمجھتے تھے اس لئے غیر اللہ کو حقیقتاً حاجت روا سمجھ کر ان سے دُعا کرنا شرک ہے۔
قرآن و حدیث کی رو سے ایک مسلمان اپنے دوسرے مسلمان بھائی کیلئے مجازاً حاجت روا اور مشکل کشا ہو سکتا ہے، مجازی اور عرفی معنی میںایسا کہہ دینا شرک نہیں کیونکہ حقیقی حاجت روا، کار ساز تو اللہ تعالیٰ ہی کو مانا اور سمجھا جاتا ہے مگر اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی بارگاہ میں انبیاء و اولیاء و صلحاء کے وسیلے سے دعا کرنا مسنون ہے جس کا حکم خود قرآن نے ان الفاظ میں دیا ہے :
وَابْتَغُواْ إِلَيهِ الْوَسِيلَةَ
’’اور اس (کے حضور) تک (تقرب اور رسائی کا) وسیلہ تلاش کرو۔‘‘
1.
المائدۃ، 5 : 35خلاصہِ بحث

گذشتہ ہم نے توحید فی الدعا کے تحت دَعَا يَدْعُوْ کے درست اطلاقات کو قرآن و سنت کی روشنی میں واضح کیا جس سےیہ بات پایہِ ثبوت کو پہنچ جاتی ہے کہالفاظ قرآنی کے صحیح مفہوم سمجھنے کے لئے سیاق و سباق اور محاورہِ قرآن کا لحاظ رکھنا بے حد ضروری امر ہے۔ یونہیہر جگہ الفاظِ قرآنی کاغلط اطلاق کر کے کسی کو مشرک و بدعتی قرار دینا کسی طرح بھی درست نہیں۔ یہ بات تو ہم شروع میں بیان کرچکےہیں کہ عقیدہِ توحید اور حقیقتِ شرک کو سمجھنے کیلئے تصورات کا صحیح ادراک نہایت ضروری ہے لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم افراط و تفریط سے ہٹ کر اعتدال کے ساتھ تعلیماتِ اسلامی پر عمل پیرا ہوں۔ یہی دین کاتقاضا ہے اور یہی اللہ رب العزت اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا منشاء بھی اور اسی میں ہم سب کی نجات ہے۔_